بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جرم بے خوف، انصاف بے بس، آخر یہ معاشرہ کب تک چلے گا؟تحریر: شبنم مرزا

نقطہ نظر

کسی معاشرے کی تباہی کا آغاز اس دن نہیں ہوتا جب کوئی بڑا جرم سرزد ہوتا ہے، بلکہ اس دن ہوتا ہے جب جرم کرنے والا سزا سے بے خوف ہو جائے، مظلوم انصاف کی امید چھوڑ دے اور تماشائیوں کی اکثریت یہ سوچ کر خاموش ہو جائے کہ اس سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ جب قانون کا احترام کم اور قانون سے بچ نکلنے کے راستے زیادہ اہم ہو جائیں تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ آج ہمارے ہاں بڑھتے ہوئے جرائم، مہنگائی، بے روزگاری اور عدالتی تاخیر نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس کا حل محض مذمتی بیانات نہیں بلکہ ٹھوس، قابلِ پیمائش اور مسلسل اقدامات ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں مجرم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں صرف مجرموں کی ذہنیت پر نہیں، اس پورے نظام پر بھی غور کرنا ہوگا جو جرم کے بعد تفتیش، گرفتاری، مقدمے اور سزا تک کے مراحل طے کرتا ہے۔

قانون کا خوف کہاں کھو گیا؟

معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا، قتل، خواتین پر تشدد اور کمزور شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال ایسے جرائم ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔ ان واقعات کی سنگینی صرف متاثرہ فرد تک محدود نہیں رہتی؛ یہ پورے معاشرے کے تحفظ کے احساس کو متاثر کرتی ہے۔ جب والدین اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف محسوس کریں اور ایک مزدور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے گھبرائے تو یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں، ریاستی ذمہ داریوں کا امتحان بھی ہے۔

تاہم جرائم کی روک تھام کے لیے صرف سخت سزاؤں کا مطالبہ کافی نہیں۔ سزا کا خوف اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب قانون کی خلاف ورزی کا بروقت سراغ ملے، تفتیش غیر جانب دار ہو، شواہد محفوظ کیے جائیں، مقدمہ مؤثر انداز میں چلایا جائے اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا یقینی ہو۔ اگر گرفتاریوں کے اعلانات تو ہوں مگر مقدمات کمزور تفتیش، ناقص شواہد یا غیر ضروری تاخیر کی نذر ہو جائیں تو انصاف کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

اس لیے ضروری ہے کہ پولیس اسٹیشنوں میں درج ہونے والی شکایات، تفتیش کے دورانیے، مقدمات کے نتائج اور بری ہونے کی وجوہات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ جہاں غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا ثبوت ملے، وہاں متعلقہ اہلکاروں کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔ پولیس کی کارکردگی صرف گرفتاریوں کی تعداد سے نہیں، جرائم کی روک تھام، تفتیش کے معیار اور شہریوں کے اعتماد سے جانچی جانی چاہیے۔

بچوں کا تحفظ: دعووں سے آگے بڑھنے کا وقت

بچوں کے خلاف جنسی جرائم کسی ایک طبقے، علاقے یا ادارے تک محدود سمجھ کر نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے گھر، اسکول، محلہ اور ریاست، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسکولوں اور بچوں سے متعلق اداروں میں تحفظِ اطفال کی واضح پالیسیاں نافذ کی جائیں۔ ملازمین کی بھرتی میں مناسب تصدیق، بچوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی نگرانی، شکایت درج کرانے کا محفوظ نظام اور عملے کی تربیت لازمی بنائی جائے۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق یہ سکھایا جائے کہ نامناسب رویے کو پہچانیں، کسی قابلِ اعتماد بالغ شخص کو اطلاع دیں اور خطرے کی صورت میں مدد کیسے حاصل کریں۔

ہر ضلع میں بچوں کے خلاف جرائم کی شکایات کے لیے قابلِ رسائی رابطہ نظام، تربیت یافتہ تفتیشی عملہ اور متاثرہ بچوں کے لیے نفسیاتی و قانونی معاونت ہونی چاہیے۔ ایسے مقدمات میں بچے کی شناخت خفیہ رکھی جائے، بار بار بیان دینے کی اذیت سے بچایا جائے اور طبی معائنے و شواہد کے تحفظ میں تاخیر نہ ہو۔

حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ متعلقہ ادارے ہر سال بچوں کے خلاف جرائم کے اعدادوشمار، مقدمات کی پیش رفت اور حفاظتی اقدامات کی کارکردگی شائع کریں۔ جب تک مسئلے کی درست پیمائش نہیں ہوگی، اس کے حل کی کامیابی بھی جانچی نہیں جا سکے گی۔

عدالتوں میں تاخیر، انصاف کی راہ میں دیوار

انصاف میں تاخیر کا سب سے زیادہ نقصان اس شخص کو اٹھانا پڑتا ہے جس کے پاس وسائل کم اور مشکلات زیادہ ہوں۔ برسوں تک مقدمہ چلنے سے متاثرہ خاندان مالی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، گواہوں کی دستیابی مشکل ہوتی ہے اور فریقین کا نظامِ انصاف پر اعتماد کمزور پڑتا ہے۔

اس صورتِ حال میں عدالتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ مقدمات کی غیر ضروری التوا کی وجوہات کا ریکارڈ رکھا جائے، بار بار سماعت ملتوی ہونے کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور جہاں تاخیر بلاجواز ہو، وہاں قانون اور عدالتی ضابطوں کے مطابق تدارک کیا جائے۔ سنگین جرائم، بچوں کے خلاف جرائم اور کمزور متاثرین سے متعلق مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے مناسب عدالتی وسائل مختص کیے جائیں۔

عدالتوں میں ڈیجیٹل ریکارڈ، الیکٹرانک سمن، مقدمات کی پیش رفت سے متعلق آن لائن معلومات اور سماعتوں کے بہتر انتظام سے وقت اور وسائل بچائے جا سکتے ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی کے ساتھ تربیت یافتہ عملہ، قابلِ اعتماد نظام اور شہریوں کی معلومات کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

قانونی معاونت کی سہولت ان غریب شہریوں تک پہنچنی چاہیے جو وکیل کی فیس برداشت نہیں کر سکتے۔ ہر ضلع میں مستحق افراد کو قانونی رہنمائی فراہم کرنے کے مؤثر انتظامات ہوں تاکہ انصاف صرف ان لوگوں کی دسترس میں نہ رہے جو مقدمہ لڑنے کی مالی استطاعت رکھتے ہیں۔

مہنگائی اور بے روزگاری: جرم کا جواز نہیں، مگر حکومتی ذمہ داری ضرور

مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کم کر دی ہے۔ محدود آمدنی والے خاندان کے لیے بجلی، گیس، کرایہ، خوراک، ادویات اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف روزگار کے مواقع کی کمی نوجوانوں کو مایوسی اور معاشی غیر یقینی سے دوچار کرتی ہے۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ غربت کسی جرم کا جواز نہیں اور نہ ہی ہر بے روزگار شخص جرائم کی طرف جاتا ہے۔ لیکن معاشی عدم استحکام کو نظرانداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ ایک ریاست کو جرائم پر قابو پانے کے ساتھ ان حالات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے جو عوام کو مسلسل محرومی کا احساس دلاتے ہیں۔

عملی طور پر حکومت کو روزگار کے منصوبوں کے نتائج صرف مختص بجٹ سے نہیں بلکہ پیدا ہونے والی حقیقی ملازمتوں، ان کے دورانیے اور مستحق افراد تک رسائی سے جانچنے چاہییں۔ فنی تعلیم کو مقامی صنعت کی ضروریات سے منسلک کیا جائے، چھوٹے کاروباروں کے لیے شفاف قرضوں اور تربیت کی سہولت فراہم کی جائے اور نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے بعد ملازمت یا کاروبار شروع کرنے میں مدد دی جائے۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور سرکاری امدادی پروگراموں کی شفافیت بھی ضروری ہے۔ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مہنگائی کم کرنے کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے، ان کے نتائج کیا نکلے اور ناکامی کی صورت میں اصلاح کیسے ہوگی۔

جب طاقتور کو رعایت اور کمزور کو اذیت ملے

قانون کی بالادستی کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی بااثر شخص کے خلاف شکایت سامنے آئے۔ اگر عام شہری کو فوری کارروائی کا سامنا کرنا پڑے لیکن بااثر فرد کے معاملے میں ضابطے بدلتے دکھائی دیں تو معاشرے میں ناانصافی کا احساس بڑھتا ہے۔

اس مسئلے کا حل محض یہ کہنا نہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، بلکہ اس برابری کو عملی طور پر ثابت کرنا ہے۔ شکایت کے اندراج سے لے کر تفتیش، استغاثہ اور عدالتی فیصلے تک ہر مرحلے میں مقررہ قانونی طریقۂ کار کی پابندی ہونی چاہیے۔ سرکاری اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی یا غفلت کی شکایات کے لیے آزادانہ نگرانی اور مؤثر اپیل کا نظام ہونا چاہیے۔

تھانے میں شکایت درج نہ ہونے کی صورت میں شہری کو متعلقہ قانونی فورم تک رسائی کا واضح طریقہ معلوم ہونا چاہیے۔ پولیس کی کارکردگی سے متعلق شکایات پر کارروائی کی صورتِ حال بھی مقررہ ضابطوں کے تحت شکایت کنندہ کو بتائی جائے۔ اسی طرح گواہوں کے تحفظ اور متاثرین کو دھمکیوں سے بچانے کے انتظامات مؤثر بنائے جائیں۔

احتساب کا مطلب کسی کو پیشگی مجرم قرار دینا نہیں، بلکہ ہر شخص کو قانون کے مطابق جواب دہ بنانا ہے۔ الزام کی منصفانہ تفتیش، شواہد کی بنیاد پر فیصلہ اور اپیل کا حق ایک ہی نظامِ انصاف کے لازمی حصے ہیں۔

معاشرتی بے حسی کا علاج

ریاستی اداروں کی اصلاح ضروری ہے، لیکن معاشرتی رویوں کو تبدیل کیے بغیر مکمل بہتری ممکن نہیں۔ جب لوگ اپنے سامنے ہونے والی زیادتی پر خاموش رہتے ہیں، متاثرہ شخص کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں یا غیر مصدقہ خبروں کو پھیلا کر کسی کی عزت تباہ کرتے ہیں تو ناانصافی کے خلاف جدوجہد کمزور پڑ جاتی ہے۔

شہریوں کو چاہیے کہ جرائم کی اطلاع محفوظ اور قانونی طریقے سے متعلقہ اداروں کو دیں، متاثرین کی شناخت ظاہر نہ کریں، بچوں سے متعلق حساس مواد آگے نہ پھیلائیں اور کسی الزام کی بنیاد پر ہجوم کو سزا دینے کا اختیار نہ دیں۔ اسکولوں، کالجوں، مساجد اور مقامی کمیونٹی مراکز میں قانون کی پاسداری، انسانی احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کو بھی چاہیے کہ کسی سانحے کو محض سنسنی خیز سرخی تک محدود نہ رکھیں بلکہ یہ سوال اٹھائیں کہ واقعہ کیوں پیش آیا، متعلقہ اداروں نے کیا کارروائی کی، متاثرہ خاندان کو کیا سہولت ملی اور آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

اب عملی احتساب کا وقت ہے

مسئلے کا حل اسی وقت نکلے گا جب حکومت اور متعلقہ ادارے واضح اہداف مقرر کریں اور ان کی پیش رفت عوام کے سامنے رکھیں۔ ہر ضلع میں جرائم، تفتیش، مقدمات کی مدت، بچوں کے تحفظ اور قانونی معاونت کے متعلق قابلِ اعتماد اعدادوشمار مرتب کیے جائیں۔ ان اعدادوشمار کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور ناکامی کی وجوہات کے ساتھ اصلاحی اقدامات بھی بیان کیے جائیں۔

پارلیمان اور متعلقہ نگرانی کے اداروں کو قوانین کے نفاذ کا جائزہ لینا چاہیے۔ پولیس اور استغاثہ کو تربیت، جدید تفتیشی سہولتوں اور مناسب وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ عدلیہ کی آزادی اور مقدمات کے منصفانہ فیصلے کے تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے غیر ضروری تاخیر کم کرنے کے لیے مؤثر انتظامی اقدامات کیے جائیں۔ بچوں کے تحفظ، روزگار اور معاشی امداد کے منصوبوں کو بھی واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج سے منسلک کیا جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کو صرف وعدے نہ دیے جائیں؛ انہیں بتایا جائے کہ کیا کام ہوا، کیا باقی ہے اور اس کی تکمیل کب تک متوقع ہے۔ ریاستی کارکردگی کا معیار بیانات نہیں، شہریوں کی زندگی میں آنے والی حقیقی بہتری ہونی چاہیے۔

آخر یہ بے انصاف معاشرہ کب تک چلے گا؟

ہمیں ایسا معاشرہ درکار ہے جہاں بچے محفوظ ہوں، خواتین عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں، مزدور کی جان اور محنت کی قدر ہو، نوجوان کو باعزت روزگار ملے اور غریب کو انصاف کے لیے اپنی زندگی کی جمع پونجی خرچ نہ کرنا پڑے۔

یہ منزل محض سخت الفاظ، جذباتی تقاریر یا وقتی احتجاج سے حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے لیے مؤثر پولیسنگ، تیز اور منصفانہ عدالتی کارروائی، شفاف احتساب، بچوں کے تحفظ، روزگار کے مواقع اور شہری ذمہ داریوں کو ایک مربوط نظام کا حصہ بنانا ہوگا۔

آج سوال یہ نہیں کہ معاشرے میں برائی موجود کیوں ہے؛ سوال یہ ہے کہ اسے روکنے کے لیے ہمارے ادارے کیا کر رہے ہیں، ان کے اقدامات کے نتائج کیا ہیں اور ناکامی کی صورت میں انہیں جواب دہ کون بنائے گا؟

اگر مجرم کو یہ یقین ہو کہ جرم چھپ نہیں سکے گا، تفتیش میں رعایت نہیں ملے گی اور سزا قانون کے مطابق یقینی بنانے کے لیے ادارے اپنا کام کریں گے تو قانون کی عمل داری مضبوط ہو سکتی ہے۔ اگر مظلوم کو بروقت مدد، منصفانہ سماعت اور قانونی تحفظ ملے تو اس کا اعتماد بحال ہوگا۔ اور اگر نوجوان کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے حقیقی مواقع میسر ہوں تو معاشرے میں امید کے چراغ روشن کیے جا سکتے ہیں۔

انصاف کسی حکومت کا احسان نہیں، شہری کا بنیادی حق ہے۔ امن محض جرائم کی غیر موجودگی کا نام نہیں، بلکہ اس یقین کا نام ہے کہ ظلم ہونے کی صورت میں ریاست مظلوم کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماتم سے آگے بڑھ کر اصلاح، نعروں سے آگے بڑھ کر عمل اور وعدوں سے آگے بڑھ کر جواب دہی کا مطالبہ کریں۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل کامیابی اس کے طاقتور افراد کی آسودگی سے نہیں، اس کے کمزور ترین شہری کے تحفظ اور انصاف سے پہچانی جاتی ہے۔

آخر یہ بے انصاف معاشرہ کب تک چلے گا؟ اس کا جواب کسی تقریر میں نہیں، ان عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے جو آج سے شروع ہو کر ہر شہری کے لیے انصاف کو حقیقت بنا دیں۔