جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اچھا انسان ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

ہمیں بچپن سے ایک لوری سنائی جاتی ہے۔ سچ بولو، کسی کا حق نہ مارو، بڑوں کا احترام کرو، چھوٹوں سے شفقت کرو، کسی کا دل نہ دکھاؤ۔ تم اچھے بنو گے تو دنیا تمہارے ساتھ اچھا کرے گی۔ ہم اس لوری پر یقین کرکے بڑے ہو جاتے ہیں، پھر ایک دن زندگی ہمیں ایسی جگہ لا کھڑا کرتی ہے جہاں سامنے ایک بددیانت شخص کامیابی کے مزے لوٹ رہا ہوتا ہے اور ہم اپنی ایمانداری کی رسیدیں ہاتھ میں لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ گاڑی سے اترتا ہے، ہم بس کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو استعمال کرکے آگے نکل جاتا ہے، ہم لوگوں کا خیال رکھتے رکھتے وہیں رہ جاتے ہیں۔ تب پہلی مرتبہ احساس ہوتا ہے کہ بچپن میں سنائی جانے والی کہانی اور دنیا کے اصل کاروبار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔


دنیا کوئی اخلاقی مدرسہ نہیں کہ یہاں اچھے کردار کے نمبر لگتے ہوں اور پوزیشن ہولڈر کو انعام ملتا ہو۔ یہ ایک ایسا بازار ہے جہاں ہر چیز کی قیمت ہے، مگر ہر چیز کی قدر نہیں۔ یہاں چالاکی کو ذہانت، خود غرضی کو خود اعتمادی اور دوسروں کو روند کر آگے نکلنے کو قابلیت سمجھ لیا جاتا ہے۔ آپ کسی کا حق مار کر کامیاب ہو جائیں تو لوگ آپ کی کامیابی کی داستانیں سنائیں گے، لیکن اگر اپنا حق چھوڑ کر کسی کا بھلا کر دیں تو ممکن ہے وہی شخص آپ کو بے وقوف سمجھنے لگے جس کے لیے آپ نے قربانی دی تھی۔ معاشرے کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں برے لوگ موجود ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے برائی کی کامیابی کو بھی خوبی سمجھنا شروع کر دیا ہے۔


ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ دفتر میں ایک شخص سارا دن کام کرتا ہے، دوسرا سارا دن یہ سوچتا ہے کہ کام کرنے والے شخص کا کریڈٹ کیسے لینا ہے۔ پہلا فائلیں مکمل کرتا ہے، دوسرا باس کے سامنے اپنے نمبر بناتا ہے۔ مہینے کے آخر میں ترقی دوسرے کی ہو جاتی ہے۔ اب آپ پہلے شخص کو کیا سمجھائیں گے یہ کہ تم ایماندار رہو، ایک دن تمہیں بھی کامیابی ملے گی کس بنیاد پر کہیں گے یہ بات کیا آپ کے پاس مستقبل کا کوئی پروانہ ہے کیا دنیا نے آپ سے کوئی معاہدہ کیا ہے کہ جو شخص کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا، اس کے ساتھ بھی کبھی زیادتی نہیں ہوگی۔


سچ تو یہ ہے کہ زندگی میں بہت سی ناانصافیاں کسی فلسفے سے حل نہیں ہوتیں۔ ان کا شکار ہونے والا شخص صرف اس لیے نہیں جیت جاتا کہ وہ اخلاقی طور پر درست تھا۔ عدالت میں بھی حق ثابت کرنے کے لیے ثبوت درکار ہوتے ہیں، قابلیت ثابت کرنے کے لیے کام دکھانا پڑتا ہے اور دنیا میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اپنی صلاحیت منوانی پڑتی ہے۔ صرف نیک نیتی لے کر میدان میں اترنے والا شخص ایسے ہی ہے جیسے کوئی جنگ میں تلوار کے بجائے اپنا اچھا کردار لے کر پہنچ جائے۔ کردار اپنی جگہ قیمتی ہے، لیکن ہر لڑائی کردار سے نہیں جیتی جاتی۔


پھر ہم نے اچھا انسان ہونے کا مطلب بھی عجیب نکالا ہوا ہے۔ جو جواب نہ دے، اچھا ہے۔ جو اپنا حق مانگ لے، بدتمیز ہے۔ جو زیادتی برداشت کرے، شریف ہے۔ جو انکار کر دے، خود غرض ہے۔ آپ کسی کی دس مرتبہ مدد کریں تو یہ آپ کا فرض بن جاتا ہے، گیارہویں مرتبہ انکار کر دیں تو آپ کا کردار مشکوک ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو آپ کی اچھائی سے محبت نہیں ہوتی، اکثر انہیں اس سہولت سے محبت ہوتی ہے جو آپ کی اچھائی انہیں فراہم کرتی ہے۔ آپ جب تک ان کے کام آتے رہیں، آپ دنیا کے بہترین انسان ہیں۔ جس دن آپ نے اپنی ذات کے لیے کوئی فیصلہ کر لیا، اسی دن آپ بدل گئے۔


لیکن اس سارے قصے کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر بددیانت لوگ کامیاب ہو رہے ہیں تو کیا ہم بھی بددیانت ہو جائیں اگر کوئی دوسروں کو دھوکا دے کر دولت کما رہا ہے تو کیا ہم اپنی محرومی کا بدلہ اپنے کردار سے لیں یہ بھی تو ایک عجیب شکست ہوگی کہ دنیا نے ہمیں وہی بنا دیا جس سے ہمیں شکایت تھی۔ ہاں، اچھا ہونے کا مطلب بے وقوف ہونا نہیں۔ کسی پر اعتبار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی آنکھیں بند کر لی جائیں۔ معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو بار بار آپ کی گردن پر پاؤں رکھنے کی اجازت دے دی جائے۔ آپ ایماندار رہ کر بھی اپنے حق کے لیے لڑ سکتے ہیں، نرم دل رہ کر بھی سخت فیصلہ کر سکتے ہیں اور کسی سے نفرت کیے بغیر اسے اپنی زندگی سے نکال سکتے ہیں۔


مسئلہ یہ ہے کہ ہم اچھائی کے بدلے انعام مانگتے ہیں اور جب انعام نہیں ملتا تو اچھائی سے ہی بدظن ہو جاتے ہیں۔ گویا ہم نے نیکی نہیں کی تھی، کوئی سرمایہ کاری کی تھی جس کا منافع نہیں ملا۔ شاید اچھا انسان ہونے کا اصل امتحان یہی ہے کہ آدمی دنیا کی بے انصافی دیکھ کر اپنی آنکھیں تو کھول لے، مگر اپنا ضمیر بند نہ کر دے۔


اچھا ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں۔ یہ بات جتنی جلدی سمجھ آ جائے، اتنا اچھا ہے۔ اپنی صلاحیت بڑھائیے، اپنے مفادات کی حفاظت کیجیے، لوگوں کو پہچانیے اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا سیکھیے۔ دنیا آپ کی شرافت کے احترام میں راستہ چھوڑ دے گی، اس خوش فہمی میں مت رہیے۔ بعض اوقات راستہ خود بنانا پڑتا ہے۔ بس اتنا خیال رہے کہ راستہ بناتے ہوئے کسی دوسرے کو روندنا ضروری نہ سمجھ بیٹھیں۔


کیونکہ آخر میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ آپ نے کتنی دولت کمائی، کتنے عہدے حاصل کیے یا کتنے لوگوں کو پیچھے چھوڑا۔ سوال یہ بھی ہوگا کہ اس سب کے دوران آپ اپنے اندر کے انسان کو کہاں چھوڑ آئے۔ البتہ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس ضمیر کے ساتھ ساتھ ایک ایسی زندگی بھی ہو جس میں آپ خود کو بے بس سمجھ کر ہر روز کوستے نہ رہیں۔