Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ویپ: ​جدید فیشن یا خاموش موت کا پروانہ؟تحریر: ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar



جدید دور نے جہاں انسانی سہولت کے لیے بے شمار راہیں کھولی ہیں، وہیں بعض ایسی ایجادات بھی سماج کی گود میں ڈال دی ہیں جو ابتدا میں تو شفا اور نجات کی نوید لگتی ہیں مگر رفتہ رفتہ ایک خاموش اور جان لیوا وبا کا روپ دھار لیتی ہیں۔ تمباکو نوشی کی تاریک تاریخ اور اس کے زہریلے دھوئیں سے چھٹکارے کی تلاش بھی کچھ ایسے ہی سفر کا نام ہے، جس کے اختتام پر دنیا نے خود کو ایک اور پرفریب جال میں گرفتار پایا۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو نو عمر لڑکوں اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں چمکتی دمکتی، رنگ برنگی الیکٹرانک ڈیوائسز اور فضا میں تیرتے ہوئے میٹھے بخارات عام دکھائی دیتے ہیں۔ اس رجحان کو دنیا ویپنگ کے نام سے جانتی ہے، مگر بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ اس خوبصورت فریب کی شروعات کہاں سے ہوئی اور کس طرح سگریٹ کے عذاب سے بچنے کی ایک ذاتی اور مخلصانہ کوشش پوری دنیا کی نوجوان نسل کے لیے زہرِ قاتل بن گئی۔

اس کہانی کا آغاز چین کے شہر بیجنگ میں سن دو ہزار تین میں ہوا، جہاں ایک فارماسسٹ ہون لیک اپنے ایک ذاتی المیے سے نبرد آزما تھا۔ ہون لیک خود بھی تمباکو نوشی کے عادی تھے، لیکن اس سے بڑا دکھ ان کے والد کی حالتِ زار تھی جو چین اسموکر ہونے کے سبب پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ ہون لیک بے بسی کے عالم میں اپنے باپ کو گھٹ گھٹ کر مرتے دیکھ رہے تھے اور وہ جانتے تھے کہ روایتی سگریٹ کا دھواں، اس میں موجود ہزاروں کیمیائی اجزا اور تارکول کس بے رحمی سے پھیپھڑوں کو سیاہ راکھ میں بدل دیتے ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد اس فارماسسٹ نے عزم کیا کہ وہ تمباکو نوشی سے نجات کا ایک ایسا راستہ نکالے گا جس میں مریض کو نکوٹین تو مل سکے مگر وہ اس زہریلے دھوئیں، کاربن مونو آکسائیڈ اور تارکول سے محفوظ رہے جو سگریٹ جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

اس سوچ کے تحت ہون لیک نے تجربہ گاہ میں ایک ایسا آلہ تیار کیا جو ہائی فریکوئنسی اور حرارت کے ذریعے مائع نکوٹین کو باریک بخارات میں تبدیل کر سکتا تھا۔ خیال بڑا سیدھا تھا کہ ایک عادی انسان اس ڈیوائس سے بخارات کھینچے گا، اس کے سگریٹ پینے کی نفسیاتی اور جسمانی طلب پوری ہو جائے گی، اور دھواں نہ ہونے کی وجہ سے اس کی جان خطرے سے باہر رہے گی۔ یوں ویپنگ کی ایجاد ایک خالص اور ہمدردانہ جذبے سے ہوئی جس کا واحد مقصد سگریٹ چھوڑنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ ہون لیک نے سوچا تھا کہ وہ سگریٹ کے ذائقے اور احساس کو قائم رکھتے ہوئے نکوٹین کی مقدار بتدریج کم کرنے کا فارمولا دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔

ابتدائی دنوں میں چین کے اندر اس ایجاد کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ رجحان سرحدوں کو پار کرتا ہوا مغربی دنیا اور پھر ایشیا کے دیگر ممالک تک پھیل گیا۔ لیکن افسوس کہ جس آلے کو علاج کے لیے بنایا گیا تھا، وہ تجارتی کمپنیوں کی ہوسِ زر اور اشتہاری فریب کاریوں کی نذر ہو کر بالکل الٹ رخ اختیار کر گیا۔ صنعت کاروں نے اسے ایک نشہ چھڑانے والے آلے سے بدل کر ایک فیشن سمبل اور طرزِ زندگی کا لازمی جزو بنا دیا۔ سگریٹ کے متبادل کی تلاش میں نکلنے والے سرمایہ داروں نے اس مائع میں پھلوں، کینڈی، چاکلیٹ اور مختلف میٹھے ذائقوں کی کیمسٹری گھول دی اور ایسے جاذبِ نظر، خوشنما آلات مارکیٹ میں جھونک دیے جنہیں دیکھ کر کسی کے لیے بھی گمان کرنا مشکل تھا کہ یہ صحت کا سودا کر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں اور خاص طور پر ہمارے معاشرے میں اس کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ پیدا کی گئی غلط فہمی تھی کہ ویپنگ بالکل بے ضرر ہے اور روایتی سگریٹ کا ایک آسان اور سستا بدل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سستے اور آسانی سے دستیاب ڈسپوزایبل ماڈلز، رنگ برنگے ذائقوں اور ساتھیوں کے سماجی دباؤ نے ہمارے نو عمر بچوں کو اس کی طرف بے تحاشا مائل کر دیا۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ نے اسے ایک جدید انداز اور فیشن کی علامت سمجھ لیا، جہاں کلاؤڈ چینزنگ یعنی منہ سے دھواں یا بخارات کے بادل بنانا بہادری اور انفرادیت گردانا جانے لگا۔ لیکن اس چمک دمک کے پیچھے چھپی سیاہ حقیقت اب پوری شدت سے سامنے آ چکی ہے۔

طبی تحقیق نے اس نظریے کی مکمل قلعی کھول دی ہے کہ ویپنگ سگریٹ سے محفوظ ہے۔ دونوں ہی انسانی جسم کے ساتھ وہی خوفناک کھیل کھیلتے ہیں جس کا انجام ہسپتال کے بستر پر ہوتا ہے۔ اگرچہ سگریٹ کے اندر تمباکو کے جلنے سے چار ہزار سے زائد نقصان دہ اور کینسر پیدا کرنے والے کیمیکل پیدا ہوتے ہیں، لیکن ویپنگ میں استعمال ہونے والے مائع اور اس کے بخارات بھی کسی طور دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ ویپنگ کے بخارات میں انتہائی خطرناک زہریلے اجزا، بھاری دھاتیں جیسے سیسہ اور نکل، فارملڈیہائیڈ اور ایسے کیمیکل شامل ہوتے ہیں جو مصنوعی خوشبو اور ذائقے پیدا کرنے کے لیے ڈالے جاتے ہیں۔ جب یہ اجزا گرم ہو کر براہِ راست پھیپھڑوں کی گہرائی تک جاتے ہیں تو خلیات کی سطح پر شدید سوزش اور بربادی کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر کے معالجین جس خوفناک بیماری کا سامنا کر رہے ہیں، وہ پاپ کارن لنگ اور ایوالی جیسی شدید علامات ہیں، جن میں پھیپھڑوں کی باریک نالیاں مستقل طور پر سکڑ جاتی ہیں اور انسان ایک ایک سانس کے لیے تڑپتا ہے۔ ویپنگ کے بخارات سے پھیپھڑوں کی جھلی میں پانی جمع ہونے کا خطرہ غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے جس سے نمونیا جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دل کے نظام پر اس کے اثرات کسی طور سگریٹ سے کم نہیں ہیں۔ ویپ میں موجود نکوٹین کی غیر متوازن اور ضرورت سے زیادہ مقدار دل کی دھڑکن کو بے قابو کرتی ہے، شریانوں کو سکیڑتی ہے اور بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک بڑھا کر کم عمری میں ہی دل کے دورے اور فالج کا سبب بنتی ہے۔

سب سے بڑا المیہ نوجوان نسل کے دماغ اور اس کی نشوونما پر پڑنے والی چوٹ ہے۔ انسانی دماغ تقریباً پچیس سال کی عمر تک ارتقائی مراحل میں ہوتا ہے، اور اس عمر میں نکوٹین کا ہر گھونٹ دماغی سرکٹ کو مستقل طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، شدید چڑچڑاپن، موڈ میں خطرناک اتار چڑھاؤ اور یادداشت کی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ جو نوجوان اسے صرف تفریح اور فیشن سمجھ کر شروع کرتے ہیں، وہ جلد ہی اتنے شدید نشے کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اس کے بغیر ان کے لیے پڑھائی، کھیل کود یا معمول کی سرگرمیاں ناممکن ہو جاتی ہیں۔ مزید برآں، یہ رجحان مستقبل میں دیگر مہلک منشیات کے لیے ایک آسان دروازہ ثابت ہوتا ہے۔ ویپنگ کے زہریلے بخارات حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کے لیے بھی انتہائی تباہ کن ہیں، جہاں یہ قبل از وقت پیدائش اور نومولود میں پیدائشی نقائص کا سبب بن سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرتی منظرنامے میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہو چکا ہے۔ پاکستان میں ایک طرف روایتی تمباکو نوشی کی تباہ کاریاں پہلے سے معیشت اور عوامی صحت کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں، تو دوسری جانب ویپنگ کا یہ نیا فتنہ خاموشی سے ہر کونے اور کینٹین تک پہنچ چکا ہے۔ ہمارے پاس اب بے حسی یا لاپروائی کا وقت نہیں رہا۔ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور سول سوسائٹی کو اس وبا کا راستہ روکنے کے لیے ایک صف پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ تعلیمی اداروں میں ان خطرات سے پردہ اٹھانے کے لیے سنجیدہ آگاہی کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو معلوم ہو سکے کہ جس ڈیوائس کو وہ ترقی اور فیشن سمجھ کر منہ سے لگا رہے ہیں، وہ درحقیقت سگریٹ سے بھی زیادہ مکاری کے ساتھ ان کی صحت اور مستقبل کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ والدین اور اساتذہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے نوجوان کسی ایسے خوبصورت زہر کا لقمہ نہ بنیں جو ایک بیمار باپ کی دوا کے طور پر بنا تھا مگر اب پوری نسل کو بیمار کرنے کے درپے ہے۔