Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فتح-4 کروز میزائل کی کامیاب لانچنگ،خاموش محافظوں کو سلام ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر
shahid naseem

رات گہری تھی۔ شہر سو رہا تھا۔ کہیں دور کسی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہونے والی تھی۔ لیکن ملک کے ایک گوشے میں چند آنکھیں جاگ رہی تھیں۔ سفید کوٹ پہنے ایک سائنس دان کمپیوٹر اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے اعداد و شمار کی ایک طویل قطار تھی۔ چند انجینئرز خاموشی سے اپنی اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھے۔ کسی کے ہاتھ میں فائل تھی، کسی کے سامنے نقشہ، کوئی آخری بار نظام کی جانچ کر رہا تھا۔

ان میں سے ایک نوجوان انجینئر نے گھڑی دیکھی اور آہستہ سے کہا:

“سر! وقت آ گیا ہے۔”

سینئر سائنس دان نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر مسکرایا۔

“یہ صرف ایک تجربہ نہیں، بیٹا۔۔۔ یہ برسوں کی محنت کا امتحان ہے۔”

چند لمحوں بعد خاموشی ٹوٹی۔

اور پھر وطن کی دفاعی تاریخ میں ایک اور باب رقم ہوگیا۔

فتح-4 کے توسیع شدہ رینج والے ورژن کے کامیاب تجربے کی خبر سامنے آئی تو یہ صرف ایک میزائل کے تجربے کی خبر نہیں تھی۔ اس خبر کے پیچھے پاکستانی سائنس دانوں، انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور پاک فوج کے ان تمام خاموش محافظوں کی داستان تھی جو برسوں سے اپنی صلاحیت، محنت اور ذہانت کو وطن کے دفاع کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق فتح-4 کی رینج 800 کلومیٹر سے زائد ہے اور یہ جدید ایویونکس اور جدید نیویگیشن سسٹمز سے لیس ہے۔

مار کرنے کی صلاحیت (Range) توسیعی رینج: فتح-4 کے بنیادی ورژن کا ستمبر 2025 اور مئی 2026 میں کیا جانے والا تجربہ 750 کلومیٹر کی رینج کا تھا۔ موجودہ نئے ورژن کو 'ایکسٹینڈڈ رینج' (ER) کے تحت تیار کیا گیا ہے جو 800 کلومیٹر سے زائد کے طویل فاصلے تک دشمن کے گہرے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔عسکری اہمیت اور مشاہدہ: آرمی راکٹ فورس کمانڈ: یہ میزائل سسٹم پاک فوج کی نو تشکیل شدہ "آرمی راکٹ فورس کمانڈ"

(Army Rocket Force Command) کا حصہ ہے، جو پاکستان کی روایتی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت (conventional strike capability) کو زبردست فروغ دیتا ہے۔

تجربے کا مقصد اس کے مختلف ذیلی نظاموں کے تکنیکی پیرامیٹرز کی توثیق کرنا اور درستگی و بقا کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا تھا۔

لیکن ایک عام پاکستانی کے لیے اس خبر کا سب سے بڑا مفہوم شاید یہ ہے کہ پاکستان صرف وسائل سے نہیں، صلاحیت سے بھی اپنا دفاع کرتا ہے۔

یہاں کہانی میں ذرا سا توقف ضروری ہے۔

ہم اکثر بڑے بڑے نام سنتے ہیں۔ جنرلز کے نام، وزیروں کے نام، حکمرانوں کے نام۔ مگر دفاعی ٹیکنالوجی کے پیچھے کام کرنے والے ان ہزاروں ذہین دماغوں کے نام شاید کبھی اخبارات کی شہ سرخی نہیں بنتے۔ وہ گمنام رہتے ہیں۔ ان کی تصویریں اخبارات کے صفحۂ اول پر نہیں آتیں۔ ان کے لیے بڑے جلسے نہیں ہوتے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ وطن کی دفاعی طاقت کے پیچھے ان ہی کے ہاتھ ہوتے ہیں۔

وہ سائنس دان جو رات گئے تک لیبارٹری میں بیٹھتا ہے۔

وہ انجینئر جو ایک معمولی تکنیکی خامی کو دور کرنے کے لیے کئی کئی گھنٹے صرف کرتا ہے۔

وہ ماہر جو اعداد و شمار کی ایک چھوٹی سی تبدیلی کو بھی نظرانداز نہیں کرتا۔

وہ فوجی افسر جو اپنی ٹیم کے ساتھ ہر مرحلے کی نگرانی کرتا ہے۔

اور وہ جوان جو سرحد پر کھڑا ہوکر ان سب کی محنت کا محافظ بنتا ہے۔

یہ سب پاکستان کے دفاعی حصار کا حصہ ہیں۔

فتح-4 کا نام بھی اپنے اندر ایک پیغام رکھتا ہے۔

لیکن ہمیں اس پیغام کو جنگ کی زبان میں نہیں بلکہ امن کی زبان میں سمجھنا چاہیے۔

پاکستان کسی ملک پر حملہ نہیں چاہتا۔

پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان کے عوام جنگ نہیں چاہتے۔

ہماری ماؤں نے اپنے بیٹے پالے ہیں تاکہ وہ زندگی بنائیں، گھر آباد کریں، ملک تعمیر کریں، بچوں کو تعلیم دیں اور آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ پاکستان دیں۔

لیکن امن کا مطلب کمزوری نہیں ہوتا۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم اپنی حفاظت کی صلاحیت کھو دیتی ہے، اسے دوسروں کی مرضی پر زندگی گزارنا پڑتی ہے۔

اس لیے مضبوط دفاع امن کی نفی نہیں، بلکہ امن کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

ہم کسی کی زمین نہیں چاہتے۔

ہم کسی کے وسائل پر نظریں نہیں رکھتے۔

ہم کسی قوم کو دھمکانا نہیں چاہتے۔

ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ دنیا پاکستان کو ایک خوددار، باوقار اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے دیکھے۔

اور اگر کوئی ہماری اس خواہش کو کمزوری سمجھنے کی غلطی کرے تو اسے یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان اپنی حفاظت کرنا جانتا ہے۔

یہی فتح-4 کے تجربے کا ایک اہم پیغام ہے۔

یہ پیغام کسی مخصوص ملک کے نام نہیں۔

یہ پیغام کسی قوم کے خلاف نہیں۔

یہ صرف اتنا کہتا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، آزادی اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔

اور شاید یہی ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کا طرزِ عمل بھی ہونا چاہیے۔

مجھے اس منظر کا تصور آتا ہے جب تجربہ کامیاب ہونے کے بعد کنٹرول روم میں موجود لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ہوگا۔

شاید کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ہوگی۔

شاید کسی نے خاموشی سے اللہ کا شکر ادا کیا ہوگا۔

اور شاید کسی سائنس دان نے اپنے گھر میں موجود بچوں کو یاد کیا ہوگا۔

اسے معلوم ہوگا کہ اس کی کئی سالہ محنت کا اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔

یہی جذبہ پاک فوج کو عوام کے دلوں میں عزت دیتا ہے۔

پاک فوج صرف سرحدوں پر کھڑی وردی کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے ایک وسیع دفاعی نظام ہے، جس میں سپاہی سے لے کر افسر، انجینئر سے لے کر سائنس دان، تکنیکی ماہر سے لے کر محقق تک بے شمار لوگ شامل ہیں۔

ہمیں ان سب کو سلام پیش کرنا چاہیے۔

خاص طور پر ان پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئرز کو جنہوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی ذہن کسی سے کم نہیں۔

دنیا اگر ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ سکتی ہے تو پاکستان بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔

دنیا اگر اپنے دفاع کے لیے جدید نظام تیار کر سکتی ہے تو پاکستان بھی اپنی سلامتی کے لیے جدید ٹیکنالوجی پیدا کر سکتا ہے۔

اصل کامیابی صرف میزائل کی رینج نہیں۔

اصل کامیابی پاکستانی ذہن کی خود اعتمادی ہے۔

اصل فتح یہ ہے کہ ہمارے نوجوان سائنس، انجینئرنگ، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے سامنے اپنا مقام پیدا کریں۔

یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔

ایک ایسا پاکستان جو دوسروں سے مانگنے کے بجائے خود بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ایک ایسا پاکستان جو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرے۔

ایک ایسا پاکستان جو امن کی بات کرے، لیکن اپنی سلامتی کے معاملے میں غافل نہ ہو۔

اسی لیے فتح-4 کی کامیابی پر پاکستان کے سائنس دانوں، انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور پاک فوج کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی جانب سے سائنس دانوں اور انجینئرز کو مبارکباد اس قومی کامیابی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

مگر میرے نزدیک اس موقع پر سب سے خوبصورت جملہ یہ ہونا چاہیے:

پاکستان امن چاہتا ہے، مگر پاکستان کمزور نہیں۔

ہم دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو خلوص کے ساتھ بڑھاتے ہیں۔

ہم پڑوسیوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں تو عزت اور برابری کے ساتھ چاہتے ہیں۔

ہم دنیا کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں تو خودداری کے ساتھ چاہتے ہیں۔

لیکن ہماری خودمختاری، ہماری آزادی اور ہماری قومی سلامتی ہمارے لیے سرخ لکیر ہے۔

اس لیے جو لوگ پاکستان کو میلی نظر سے دیکھتے ہیں، انہیں جنگ کی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔

کیونکہ امن ہمیشہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے پیچھے عزم، اتحاد اور دفاع کی صلاحیت موجود ہو۔

آج جب فتح-4 نے اپنی کامیابی کا ایک اور باب رقم کیا ہے تو ہمیں اپنے سائنس دانوں سے کہنا چاہیے:

آپ نے صرف ایک نظام تیار نہیں کیا، آپ نے قوم کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

اپنے انجینئرز سے کہنا چاہیے:

آپ کے ہاتھوں میں صرف مشینیں نہیں، پاکستان کا مستقبل ہے۔

پاک فوج سے کہنا چاہیے:

قوم آپ کی قربانیوں اور دفاعی ذمہ داریوں کو سلام پیش کرتی ہے۔

اور اپنے دشمنوں سے کہنا چاہیے:

ہم کسی کے خلاف نہیں؛ ہم امن کے ساتھ ہیں، انسانیت کے ساتھ ہیں، ترقی کے ساتھ ہیں۔ لیکن پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو کمزوری سمجھنا کسی کی دانش مندی نہیں۔

یہ دھمکی نہیں۔

یہ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔

کیونکہ ایک امن پسند قوم کے ہاتھ میں طاقت کا سب سے خوبصورت استعمال یہی ہے کہ وہ جنگ کو روکے، جنگ شروع نہ کرے۔

فتح-4 کی کامیابی کا اصل جشن تب ہوگا جب اس طاقت کی ضرورت کبھی پیش نہ آئے۔

جب ہماری سرحدیں محفوظ ہوں۔

جب ہمارے بچے سکولوں میں پڑھ رہے ہوں۔

جب ہمارے کسان کھیتوں میں فصلیں اگا رہے ہوں۔

جب ہمارے سائنس دان جنگی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ علاج، زراعت، توانائی اور تعلیم کے میدان میں بھی دنیا کو حیران کر رہے ہوں۔

اور جب پاکستان کا سبز ہلالی پرچم کسی میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ امن، علم، ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں پر لہرا رہا ہو۔

یہی پاکستان کا خواب ہے۔

یہی ہمارے شہداء کی قربانیوں کا احترام ہے۔

اور یہی ہمارے سائنس دانوں اور انجینئرز کی محنت کا حقیقی ثمر بھی ہوگا۔

پاکستان زندہ باد۔

پاک فوج پائندہ باد۔

پاکستان کے سائنس دان اور انجینئرز پائندہ باد۔