بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاموشی کا ہنر اور لفظوں کی ذمہ داری،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ

نقطہ نظر

زندگی میں اصل دانائی بولنے اور خاموش رہنے کے درمیان توازن قائم کرنے کا نام ہے۔

انسانی زندگی میں لفظوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لفظ دلوں کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں، بکھرے ہوئے حوصلوں کو سمیٹتے ہیں، مایوسی کے اندھیروں میں امید کے چراغ روشن کرتے ہیں اور کبھی کسی بھٹکے ہوئے مسافر کو منزل کا راستہ دکھاتے ہیں۔ مگر یہی لفظ جب بے احتیاطی، جذبات کی شدت یا انا کی تسکین کے لیے استعمال ہونے لگیں تو دلوں میں ایسی دراڑیں ڈال دیتے ہیں جنہیں وقت بھی ہمیشہ نہیں بھر پاتا۔ شاید اسی لیے زندگی کے تجربات انسان کو صرف بولنا نہیں بلکہ خاموش رہنا بھی سکھاتے ہیں کیونکہ اگر گفتگو ایک فن ہے تو خاموشی بھی ایک مکمل ہنر ہے اور اگر الفاظ راستہ دکھاتے ہیں تو خاموشی بعض اوقات راستے کی دشواریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

ہم اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں میں بولنا سیکھتے ہیں۔ گھر کے ماحول، معاشرتی رویّوں اور اپنے اردگرد کے لوگوں سے الفاظ کا استعمال سمجھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ہماری گفتگو میں اعتماد آتا ہے، خیالات کو بیان کرنے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے اور ہم اپنی بات منوانے کے طریقے بھی سیکھ لیتے ہیں لیکن ایک سوال ایسا ہے جس پر کم ہی غور کیا جاتا ہے کہ کیا ہم نے کبھی خاموش رہنے کی تربیت بھی حاصل کی ہے؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر اختلاف کو بحث میں بدلنا دانش مندی نہیں اور ہر موقع پر اپنی رائے کا اظہار کرنا شعور کی علامت نہیں ہوتا؟

درحقیقت زندگی کی بہت سی الجھنیں علم کی کمی سے زیادہ ضبط کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہم کبھی غصے میں وہ کہہ جاتے ہیں جو کہنا نہیں چاہیے، کبھی جذبات کی رو میں ایسے فیصلے سنا دیتے ہیں جن پر بعد میں ندامت ہوتی ہے اور کبھی اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں ان رشتوں کو کمزور کر دیتے ہیں جنہیں برسوں کی محبت نے مضبوط بنایا ہوتا ہے۔ اس وقت ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی بات کہہ کر اپنا حق ادا کر دیا لیکن جب الفاظ کا شور تھمتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ شاید ہم اپنی بات تو منوا بیٹھے مگر کسی کا دل زخمی کر کے۔

زندگی کو ایک طویل اور پُرپیچ راستے سے تشبیہ دی جائے تو گفتگو اس راستے پر روشن چراغ کے۔مانند ہے۔ یہ چراغ مسافر کو سمت دکھاتا، منزل کی پہچان کراتا اور اندھیروں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اس کے برعکس خاموشی کبھی گھنے درخت کے سائے کی طرح انسان کو تپتی دھوپ سے بچاتی ہے، کبھی کسی خطرناک موڑ پر قدم روکنے کا اشارہ دیتی ہے اور کبھی گردوغبار کے تھمنے تک انتظار کرنے کی حکمت سکھاتی ہے۔ ایک سمجھ دار مسافر ہر موڑ پر شور نہیں مچاتا بلکہ راستے کو دیکھتا، حالات کو سمجھتا اور پھر قدم اٹھاتا ہے۔ اسی طرح صاحبِ بصیرت انسان بھی بولنے سے پہلے سوچتا اور جواب دینے سے پہلے صورتِ حال کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خاموشی کمزوری، بے بسی یا خوف کا دوسرا نام نہیں۔ بعض اوقات خاموش رہنے کے لیے اتنے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جتنے حوصلے سے انسان کسی مشکل بات کا جواب دیتا ہے۔ جب سامنے والا اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا ہو، جب گفتگو دلیل کے بجائے ضد کا میدان بن چکی ہو یا جب الفاظ کا مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں بلکہ دوسرے کو نیچا دکھانا ہو، تو ایسے مواقع پر خاموشی اختیار کرنا دراصل اپنے جذبات پر اختیار رکھنے کی علامت ہے۔ ہر جنگ جیتنا ضروری نہیں اور ہر بحث میں فتح حاصل کر لینا بھی کامیابی نہیں کہلاتا۔ بعض اوقات اصل کامیابی اس بات میں ہوتی ہے کہ انسان کسی بے مقصد تنازعے میں الجھنے سے خود کو بچا لے۔

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رجحان پروان چڑھ رہا ہے کہ گفتگو کو اپنی برتری ثابت کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ محفلوں میں دوسروں کی بات کاٹنا، اختلاف کرنے والے کو حقیر سمجھنا، سوشل میڈیا پر تلخ تبصرے کرنا اور معمولی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دینا عام ہوتا جا رہا ہے۔ ہم جواب دینے میں جلدی کرتے ہیں مگر سمجھنے میں وقت نہیں لگاتے۔ دوسروں کے الفاظ کو پرکھنے سے پہلے ان کے لہجے پر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں اور اپنی رائے کو درست ثابت کرنے کے لیے بعض اوقات شائستگی کی حدود بھی عبور کر جاتے ہیں۔ حالاں کہ مہذب معاشرے کی پہچان بلند آوازیں نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت برقرار رکھنے کا سلیقہ ہے۔

تاہم خاموشی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ہر موقع پر خاموش رہنا دانش مندی نہیں ہوتا۔ جہاں کسی مظلوم کے حق کی بات ہو، کسی بے گناہ پر الزام لگایا جا رہا ہو، کسی کمزور کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو یا سچائی کو دانستہ دبایا جا رہا ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنا بعض اوقات ناانصافی کو تقویت دینے کے مترادف بن جاتا ہے۔ حکمت کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان ہر معاملے سے کنارہ کش ہو جائے بلکہ یہ ہے کہ وہ پہچانے کہاں خاموشی بہتر ہے اور کہاں آواز بلند کرنا اخلاقی ذمہ داری۔ اصل دانائی بولنے اور خاموش رہنے کے درمیان ایسا توازن پیدا کرنے میں ہے جس میں نہ زبان بے لگام ہو اور نہ ضمیر خاموش۔

رشتوں کی دنیا میں بھی یہ توازن غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بہت سے تعلقات بڑے واقعات سے نہیں بلکہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی تلخیوں سے کمزور ہوتے ہیں۔ کبھی ایک طنزیہ جملہ، کبھی غصے میں دیا گیا جواب اور کبھی کسی کی کمزوری کو سب کے سامنے بیان کر دینا محبت کی بنیادوں کو ہلا دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کبھی ایک خاموش مسکراہٹ، کبھی کسی کی بات تحمل سے سن لینا اور کبھی جواب دینے کے بجائے مناسب وقت کا انتظار کرنا رشتوں کو ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافات کو ہمیشہ دبا دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ انہیں ایسے انداز میں بیان کیا جائے جس سے مسئلہ حل ہو، دل نہ ٹوٹیں اور عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لفظوں کی طرح خاموشی بھی اپنے اندر کئی معنی رکھتی ہے۔ کسی غم زدہ شخص کے پاس بیٹھ کر خاموشی سے اس کا ساتھ دینا، کسی پریشان انسان کو بولنے کا موقع دینا اور کسی کے دکھ کو بغیر فیصلے سنائے سننا بھی اظہارِ محبت کی صورتیں ہیں۔ ہر درد کو نصیحت کی ضرورت نہیں ہوتی اور ہر پریشانی کا حل طویل گفتگو میں نہیں ملتا۔ بعض اوقات انسان کو صرف ایسے وجود کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے قریب بیٹھے، اس کی بات سنے اور اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اپنی آزمائش میں تنہا نہیں۔ ایسی خاموشی بے زبانی نہیں بلکہ احساس کی وہ زبان ہے جسے سمجھنے کے لیے دل کا زندہ ہونا ضروری ہے۔

زندگی کی خوب صورتی بھی شاید اسی شعور میں پوشیدہ ہے کہ انسان اپنے لفظوں کی قدر پہچانے۔ بولے تو سچ بولے، اختلاف کرے تو تہذیب کے دائرے میں رہے، نصیحت کرے تو خیر خواہی کے جذبے سے کرے اور خاموش رہے تو اس لیے کہ اس کی خاموشی کسی بہتر نتیجے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف گفتگو کے آداب ہی نہیں، برداشت، تحمل اور اختلاف کے احترام کی تربیت بھی دینی چاہیے۔ انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ہر سوال کا فوری جواب دینا ذہانت نہیں، ہر تنقید کا ردِعمل دینا ضروری نہیں اور ہر اختلاف کو دشمنی سمجھ لینا ذہنی پختگی کی علامت نہیں۔

زندگی کے ہر نئے دن کے ساتھ ہمیں اپنے رویّوں کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ صبح کا طلوع ہوتا ہوا سورج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر دن ایک نئی ابتدا ہے۔ ہم چاہیں تو اپنے لہجے میں نرمی پیدا کر سکتے ہیں، اپنے رویّے میں وسعت لا سکتے ہیں اور اپنے الفاظ کو کسی کے لیے آسانی کا وسیلہ بنا سکتے ہیں۔ اگر ہمارے ایک جملے سے کسی مایوس انسان کو امید مل سکتی ہے تو ہمیں بولنا چاہیے اور اگر ہمارے خاموش رہنے سے کسی تنازعے کی شدت کم ہو سکتی ہے تو ہمیں خاموشی اختیار کرنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ زندگی کی اصل خوب صورتی دوسروں پر اپنی بات ثابت کرنے میں نہیں۔بلکہ اپنے وجود سے دوسروں کے لیے سکون پیدا کرنے میں ہے۔

بحیثیت مجموعی یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ انسان کی شخصیت کا تعارف صرف اس کے بولے ہوئے الفاظ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے طرزِ عمل، برداشت، کردار اور بروقت اختیار کی گئی خاموشی سے بھی ہوتا ہے۔ لفظ اگر چراغ ہیں تو خاموشی ان چراغوں کو تیز ہوا سے بچانے والی ڈھال ہے۔ دونوں اپنی جگہ ضروری ہیں لیکن ان کا درست استعمال ہی زندگی کو متوازن اور بامعنی بناتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بولنے سے پہلے سوچنے، اختلاف سے پہلے سمجھنے اور ردِعمل سے پہلے ٹھہرنے کی عادت اپنائیں۔ اپنی زبان کو سچائی، اپنے لہجے کو نرمی اور اپنی خاموشی کو حکمت سے آراستہ کریں۔ شاید یہی وہ طرزِ زندگی ہے جو انسان کو نہ صرف غیر ضروری الجھنوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ اسے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے قابل بھی بناتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی بصیرت عطا فرمائے کہ ہمارے لفظ دلوں کو جوڑنے کا سبب بنیں، ہماری خاموشی فتنوں اور تلخیوں سے بچائے اور ہمارا کردار دوسروں کے لیے خیر و آسانی کا وسیلہ بنے۔ ہماری زندگیوں میں محبت، اخلاص، صبر اور برداشت کی روشنی قائم رہے، اور ہم جہاں بھی جائیں، اپنے پیچھے نفرت نہیں، محبت؛ دشواری نہیں، آسانی؛ اور تلخی نہیں، خوش گوار احساسات چھوڑ کر آئیں۔