ہر خواب محض آنکھوں میں سجانے کے لیے نہیں ہوتا؛ کچھ خواب انسان کے وجود میں ایسی تڑپ پیدا کرتے ہیں جو اسے مشکلات سے لڑنا، ناموافق حالات میں ثابت قدم رہنا اور اپنی منزل کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا سکھاتی ہے۔ خواب جب یقین، محنت اور عزم کے ساتھ جڑ جائیں تو پھر عمر کی حدود بھی راستہ نہیں روک سکتیں، اور ایک دن وہی خواب حقیقت بن کر دنیا کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔کچھ لوگ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے حالات کے بدلنے کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ کچھ اپنے عزم و حوصلے سے حالات کا رخ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کامیابی دراصل انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو خواب دیکھنے پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ انہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے اپنی صلاحیتیں، وقت اور توانائیاں وقف کر دیتے ہیں۔
عرشبہ کی کہانی بھی ایک ایسے ہی خواب، غیر متزلزل عزم اور عملی جدوجہد کی عکاس ہے۔ ایک ایسی نوجوان لڑکی جس نے کم عمری ہی میں یہ سمجھ لیا کہ زندگی میں اپنی پہچان بنانے کے لیے صرف خواہش کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے ہمت، خوداعتمادی اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ اپنے تعلیمی سفر کے ساتھ ذمہ داریوں کو نبھانا، اپنے اخراجات کے لیے محنت کرنا اور ناموافق حالات کے باوجود آگے بڑھتے رہنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن جب انسان کے دل میں کچھ کر گزرنے کی لگن ہو اور اسے والدین کی دعاؤں، تربیت اور اعتماد کا سہارا حاصل ہو،تومشکلات اس کی راہ کی دیوار بننے کے بجائے اس کے حوصلے کو مزید مضبوط کر دیتی ہیں۔زندگی کے سفر میں ہر قدم پر حوصلہ افزائی نہیں ملتی، ہر خواب کو ابتدا ہی میں پذیرائی حاصل نہیں ہوتی اور ہر راستہ پھولوں سے نہیں سجا ہوتا تاہم، اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کو کبھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، بلکہ یہ ہے کہ وہ مشکلات کے باوجود اپنے مقصد سے وابستہ رہے۔عرشبہ ناہید کی جدوجہد اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عمر سے زیادہ سوچ کی پختگی، ارادے کی مضبوطی اور عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔آج محض انیس برس کی عمر میں اقرا نوبل کیمبرج اسکول کے ساتھ باضابطہ پارٹنرشپ اور کولیبریشن کا آغاز ان کی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ پیش رفت صرف ایک کامیابی نہیں، بلکہ اس اعتماد کی علامت بھی ہے جو کسی نوجوان کی صلاحیتوں، وژن اور مستقبل کے امکانات پر کیا جاتا ہے۔ تعلیمی میدان میں اس نوعیت کے مواقع نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں اور یہ احساس دلاتے ہیں کہ اگر انسان اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہو تو اس کی محنت ایک دن دوسروں کے لیے بھی امید کا سبب بن سکتی ہے۔
اس کامیابی کے پس منظر میں والدین کی دعاؤں، ان کی تربیت اور ان کے اعتماد کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات ایک حوصلہ افزا جملہ، اعتماد سے بھرا ہوا ایک رویہ اور دل سے نکلی ہوئی ایک دعا انسان کو وہ طاقت دے دیتی ہے جو طویل راستوں پر اس کے قدموں کو ڈگمگانے نہیں دیتی والدین کی یہی بے لوث محبت اور دعائیں اولاد کے خوابوں کو نئی توانائی عطا کرتی ہیں۔
یہ داستان ان تمام نوجوانوں کے لیے بھی ایک پیغام رکھتی ہے جو اپنی کم عمری، محدود وسائل یا ناموافق حالات کی وجہ سے اپنے خوابوں کو ناممکن سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ منزل تک پہنچنے کا آغاز کسی بڑے عہدے، وسیع وسائل یا غیر معمولی حالات سے نہیں بلکہ ایک سچے ارادے اور پہلے عملی قدم سے ہوتا ہے۔ کامیابی ہمیشہ ایک ہی دن میں حاصل نہیں ہوتی؛ یہ مسلسل کوشش، سیکھنے کے عمل، صبر اور درست سمت میں اٹھائے گئے قدموں کا مجموعہ ہوتی ہے۔
بلاشبہ، ہر کامیابی اپنے ساتھ نئی ذمہ داریاں بھی لے کر آتی ہے۔ امید ہے کہ عرشبا اپنے اس سفر کو مزید محنت، دیانت داری اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھائیں گی اور تعلیم کے میدان میں ایسی خدمات انجام دیں گی جو نہ صرف ان کی اپنی پہچان کو مضبوط کریں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی ترقی اور کامیابی کی راہیں ہموار کریں۔
آخر میں میں عرشبہ ناہید کو اس اہم کامیابی اور اقرا نوبل کیمبرج اسکول کے ساتھ نئے سفر کے آغاز پر دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرمائے، ان کے قدموں میں استقامت عطا کرے، ان کے علم و عمل میں برکت دے اور انہیں مستقبل میں اس سے بھی بڑی کامیابیوں سے نوازے۔ آمین۔
کیونکہ خواب دیکھنا ایک خواہش ہے، مگر اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ایک عزم ہے؛ اور جب عزم کو محنت کا ساتھ مل جائے تو منزلیں صرف خواب نہیں رہتیں، حقیقت بن جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں





