خواتین کی قیادت کی ضرورت،تحریر: عارفین عائشہ
نقطہ نظر
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں قومی ترقی معاشرتی انصاف اور پائیدار پیش رفت کے لیے خواتین کی قیادت نہ صرف ضروری بلکہ ناگزیر ہے خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں لیکن فیصلہ سازی کے اہم اداروں میں ان کی نمائندگی اور اثر و رسوخ اب بھی محدود ہے قومی اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی تقریباً بائیس فیصد کے قریب ہے جن میں اکثریت مخصوص نشستوں کے ذریعے آتی ہے تاہم حالیہ پارلیمانی رپورٹس کے مطابق خواتین اراکین پارلیمان ایجنڈا سازی میں غیر متناسب طور پر زیادہ کردار ادا کر رہی ہیں وہ مرد اراکین کے مقابلے میں انفرادی طور پر زیادہ قراردادیں سوالات اور بل پیش کرتی ہیں یہ حقیقت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مواقع ملنے پر خواتین نہ صرف شریک ہو سکتی ہیں بلکہ قائدانہ صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کر سکتی ہیں مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ مواقع اعتماد اور ادارہ جاتی معاونت کا ہے
خواتین کی قیادت کی ضرورت صرف نمائندگی تک محدود نہیں جب خواتین فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہوتی ہیں تو پالیسیوں میں صحت تعلیم خاندانی بہبود بچوں کے حقوق اور معاشرتی انصاف جیسے مسائل کو زیادہ توجہ ملتی ہے تجربہ یہ بتاتا ہے کہ خواتین کی قیادت میں چلنے والی کمیٹیاں اور ادارے اکثر زیادہ باقاعدگی اور توجہ کے ساتھ کام کرتے ہیں پنجاب جیسے اہم صوبے میں خاتون وزیر اعلیٰ کی موجودگی اس بات کی مثال ہے کہ خواتین اعلیٰ ترین انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھال سکتی ہیں اسی طرح سول سروس کے امتحانات میں خواتین کی کامیابی مرد امیدواروں کے برابر یا بعض اوقات ان سے آگے نکل رہی ہے جو ان کی قابلیت کا ثبوت ہے تعلیم کے میدان میں بھی یونیورسٹی سطح پر خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو مستقبل کی قیادت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے
تاہم حقیقت یہ ہے کہ نمائندگی اور حقیقی اختیار میں اب بھی بڑا فرق موجود ہے وفاقی کابینہ میں خواتین کی تعداد انتہائی محدود رہتی ہے سول سروس کے اعلیٰ درجات پولیس اور اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی موجودگی بہت کم ہے بہت سی خواتین کو سماجی روایات گھریلو ذمہ داریوں غیر محفوظ ماحول اور غیر رسمی مردانہ نیٹ ورکس کی وجہ سے آگے بڑھنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے صرف مخصوص نشستیں دے کر کام ختم نہیں ہو جاتا ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو جنرل نشستوں پر بھی مقابلے کا موقع ملے انہیں پارٹیوں کے اندر فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے اور اداروں میں ان کے لیے محفوظ اور معاون ماحول فراہم کیا جائے
خواتین کی قیادت کو فروغ دینے کے لیے کئی سطحوں پر کام کرنا ہوگا تعلیم اور مہارتوں کی تربیت کو عام کرنا کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف قوانین کا مؤثر نفاذ خواتین کے لیے رہنمائی اور مینٹر شپ کے پروگرام اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے خواتین کو ذمہ دارانہ عہدے دینا ضروری ہے میڈیا کو بھی خواتین کی کامیابیوں کو نمایاں کرنا چاہیے تاکہ معاشرے میں مثبت تصویر قائم ہو خواتین کی قیادت کسی پر احسان نہیں بلکہ قومی مفاد ہے جب فیصلہ سازی میں متنوع آوازیں شامل ہوتی ہیں تو پالیسیاں زیادہ متوازن حقیقت پسندانہ اور پائیدار بنتی ہیں
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خواتین کی قیادت صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کی ترقی کا معاملہ ہے ایک ایسا پاکستان جو اپنی آدھی آبادی کی صلاحیتوں کو نظرانداز کرے کبھی اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتا ہمیں ایسے معاشرے کی تعمیر کرنی ہے جہاں قابلیت کی بنیاد پر مواقع ملیں جنس کی بنیاد پر نہیں خواتین کو قیادت کے مواقع دینا ترقی انصاف اور قومی استحکام کی طرف ایک مضبوط قدم ہوگا
مزید پڑھیں





