کچھ فاصلے ضروری ہوتے ہیں،تحریر: عائشہ مُبین
نقطہ نظر
کچھ فاصلے ضروری ہوتے ہیں، تلخ مگر بہت حسین۔ بظاہر یہ فاصلے انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کرتے ہیں، مگر حقیقت میں کبھی کبھی یہی فاصلے رشتوں کو بکھرنے سے بچا لیتے ہیں۔ کیونکہ ہر رشتہ ہر وقت قریب رہنے سے مضبوط نہیں ہوتا۔ بعض لوگ میلوں دور رہ کر بھی دل کے قریب ہوتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ہر وقت ساتھ رہ کر بھی دلوں میں فاصلے پیدا کر دیتے ہیں۔
کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ قربت رشتوں میں بےقدری کو جنم دینے لگتی ہے۔ انسان ایک دوسرے کی موجودگی کا عادی ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس شخص کی اہمیت بھولنے لگتا ہے جسے کبھی کھونے کا تصور بھی مشکل لگتا تھا۔ ایسے میں تھوڑا سا فاصلہ رشتوں کی خوبصورتی اور احترام کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ہماری زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی منفی سوچ اور تلخ رویّے ہماری شخصیت پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں۔ ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ کب ان کی مایوسی ہماری سوچ اور ان کی تلخی ہمارے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔ کہتے ہیں نا، خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ اسی لیے اگر کوئی تعلق ہمارے ذہنی سکون کو مسلسل متاثر کر رہا ہو تو اس سے فاصلہ اختیار کرنا خودغرضی نہیں، بلکہ اپنی ذات کی حفاظت ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر فاصلہ نفرت یا ناراضی کی وجہ سے ہو۔ کبھی ہم کسی سے محبت اور احترام برقرار رکھتے ہوئے بھی دور رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ مسلسل قربت ہمارے خوبصورت تعلق کو تلخیوں میں بدل دے۔ کچھ حدود رشتوں کو سانس لینے کا موقع دیتی ہیں اور محبت کو بےقدری سے محفوظ رکھتی ہیں۔
کبھی انسان دوسروں کو خوش رکھتے رکھتے اپنی ذات کو بھول جاتا ہے۔ وہ سب کی ضروریات اور توقعات پوری کرنے میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اپنے خوابوں اور خواہشات کے لیے وقت ہی نہیں نکال پاتا۔ ایسے میں تنہائی اور فاصلہ انسان کو خود سے دوبارہ ملنے کا موقع دیتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کو سمجھتا ہے، اپنے خوابوں کو پہچانتا ہے اور اپنی زندگی کے راستے کا تعین کرتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر رشتہ بچانا ہماری ذمہ داری نہیں۔ رشتے صرف ایک شخص کی کوشش سے نہیں چلتے؛ انہیں دونوں طرف سے محبت، احترام اور خلوص درکار ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص مسلسل کوشش کرتا رہے اور دوسرا بےقدری دکھائے تو پیچھے ہٹ جانا ہمیشہ شکست نہیں ہوتا، بلکہ کبھی یہ اپنی عزتِ نفس کو اہمیت دینے کا فیصلہ ہوتا ہے۔
فاصلے کبھی کبھی رشتوں کی اصل قدر بھی واضح کر دیتے ہیں۔ دوری ہمیں احساس دلاتی ہے کہ کون ہماری کمی محسوس کرتا ہے، کون ہمارے لیے کوشش کرتا ہے اور کون صرف اپنی ضرورت کے وقت ہمارے قریب تھا۔ تاہم کسی رشتے کی سچائی صرف دوری سے نہیں، بلکہ خلوص اور مشکل وقت میں ساتھ دینے سے پہچانی جاتی ہے۔
آخر میں، میرے نزدیک فاصلے اختیار کرنے کا مقصد کسی کو سزا دینا یا اپنی اہمیت کا احساس دلانا نہیں، بلکہ اپنے ذہنی سکون، اپنی ذات اور رشتوں کے احترام کو محفوظ رکھنا ہے۔ ہر انسان کو ہماری زندگی میں ایک جیسی جگہ دینا ضروری نہیں، اور ہر تعلق کو پہلے جیسا برقرار رکھنا بھی ممکن نہیں۔
کیونکہ ہر فاصلہ جدائی نہیں ہوتا، کچھ فاصلے رشتوں کو بچانے کے لیے ہوتے ہیں اور کچھ انسان کو خود سے دوبارہ ملانے کے لیے۔





