Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنگ کے دوران دیوار میں چھپائی گئی لائبریری بزرگ کو 15 سال بعد واپس مل گئی


شام کے شہر حمص میں ایک بزرگ شخص نے جنگ کے دوران چھپائی گئی اپنی وسیع ذاتی لائبریری 15 سال بعد دوبارہ حاصل کرلی۔ کتابوں کا یہ قیمتی ذخیرہ ایک بوسیدہ مکان کی دیوار کے پیچھے اس وقت محفوظ کیا گیا تھا جب بشار الاسد کے خلاف احتجاج شروع ہونے کے بعد شام کے حالات خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئے تھے۔ لائبریری کے مالک کو ابو بلال کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حالات خراب ہونے کے بعد وہ شام چھوڑ کر کویت منتقل ہوگئے تھے، تاہم ملک سے روانگی سے قبل انہوں نے اپنی قیمتی کتابوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مکان میں ایک اضافی دیوار بنوائی اور اس کے پیچھے پوری لائبریری چھپا دی۔ کتابوں کو نمی اور دیگر ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کے درمیان گتے کی تہیں بھی لگائی گئی تھیں۔ کئی برس تک کتابوں کا یہ ذخیرہ اسی خفیہ جگہ پر اندھیرے میں بند رہا۔ ابو بلال کو امید تھی کہ ایک دن وہ دوبارہ حمص واپس آئیں گے اور خود دیوار توڑ کر اپنی کتابیں باہر نکالیں گے۔ شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد رواں سال ابو بلال بالآخر حمص واپس پہنچے۔ واپسی پر انہوں نے ہتھوڑا اٹھایا اور اس دیوار کو توڑنا شروع کیا جس کے پیچھے ان کی زندگی بھر کی علمی دلچسپی کا ذخیرہ محفوظ تھا۔ ان کے بیٹے بلال علون نے اس اہم لمحے کی ویڈیو بنائی اور اسے انٹرنیٹ پر شیئر کردیا، جو بعد ازاں وائرل ہوگئی۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دیوار کا ایک حصہ ٹوٹتے ہی اندر سے دھول نکلتی ہے، جبکہ ابو بلال سوراخ کے اندر دیکھ کر اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی کتابیں اب بھی محفوظ ہیں۔ دیوار کے اندر انہیں کچھ رقم بھی ملی جو انہوں نے کتابوں کے ساتھ چھپا کر رکھی تھی۔ کتابوں کی حالت دیکھ کر ابو بلال نے خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کا زیادہ تر ذخیرہ اب بھی اچھی حالت میں موجود ہے۔ انہوں نے اپنے وطن واپس آنے پر شکر بھی ادا کیا۔ ابو بلال کی لائبریری محض چند کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کی علمی دلچسپی اور مطالعے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس میں خوبصورت جلدوں والی مذہبی اور علمی کتابیں موجود ہیں، جن میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی سیرت اور حالات زندگی سے متعلق تصانیف کے علاوہ اسلامی علوم کی متعدد کتابیں بھی شامل ہیں۔ اس ذخیرے میں ’’جامع الاصول فی احادیث الرسول‘‘ کا مکمل مجموعہ بھی موجود ہے، جو اسلامی علمی روایت کی ایک اہم کتاب ہے اور مختلف معروف حدیثی مصادر سے احادیث کو جمع کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ابو بلال کو اپنی تسبیح اور مذہبی تعلیم کے دوران حاصل کیے گئے مختلف اسناد اور سرٹیفکیٹس بھی اسی ذخیرے کے ساتھ مل گئے۔ ان کے بیٹے بلال علون نے اس واقعے کو خاندان کے لیے برسوں سے منتظر وطن واپسی قرار دیا۔ ان کے مطابق ان کے والد نے شام میں بغاوت شروع ہونے کے وقت حمص چھوڑنے سے پہلے اپنی لائبریری کو محفوظ بنانے کا انتظام کیا تھا۔ کئی سال تک خاندان کی سب سے بڑی تشویش یہی رہی کہ جنگ کے دوران ان قیمتی کتابوں کا کیا ہوا ہوگا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد متعدد شامی شہریوں نے بھی اس واقعے پر ردعمل دیا۔ بعض افراد نے کتابوں کے محفوظ رہنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعائیں دیں، جبکہ کچھ لوگوں نے اپنی ان لائبریریوں کا ذکر کیا جو جنگ کے دوران تباہ ہوگئیں۔ کسی کے کتابوں کے ذخیرے کو آگ نے تباہ کردیا، کسی کی کتابیں پانی کے باعث خراب ہوگئیں، جبکہ کچھ خاندان اچانک نقل مکانی کے دوران اپنی کتابیں وہیں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اس طرح ابو بلال کی لائبریری کی واپسی بہت سے لوگوں کے لیے اپنے ضائع ہونے والے علمی اور ثقافتی ورثے کی یاد بھی بن گئی۔ اس واقعے کو کئی شامی شہریوں نے صرف ایک خاندان کی خوشی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے جنگ کے دوران ضائع ہونے والے علم اور ثقافتی ورثے کی ایک علامت کے طور پر بھی دیکھا۔ ابو بلال کی محفوظ لائبریری اس بات کی ایک مثال بن گئی کہ جنگ، تباہی اور نقل مکانی کے مشکل حالات میں بھی لوگوں نے اپنی کتابوں اور علمی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوششیں کیں۔ شام میں اسد حکومت کے طویل دور کے دوران کتابوں اور اشاعتوں پر بھی سخت نگرانی رہی۔ بعض سیاسی موضوعات، جیلوں کے حالات، مذہبی نظریات اور دیگر حساس معاملات پر لکھی گئی کتابیں محدود یا ممنوع تھیں۔ کئی ایسی تصانیف عام کتابوں کی دکانوں پر دستیاب نہیں ہوتیں اور انہیں خفیہ طور پر حاصل کرنا پڑتا تھا۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد دمشق میں کتابوں کی دکانوں اور سڑکوں پر ایسی متعدد کتابیں بھی نظر آنے لگی ہیں جو پہلے ممنوع تھیں یا جن پر پابندی عائد تھی۔ ان میں جیلوں میں گزارے گئے وقت کی یادداشتیں، بعض ناول اور ایسے مذہبی و علمی مصنفین کی کتابیں شامل ہیں جن کی تصانیف پہلے آسانی سے دستیاب نہیں تھیں۔