Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قیامت خیز زلزلہ 8 اکتوبر کے مناظر جو میں نے دیکھے،تحریر: غنی محمود قصوری

ghani mahmood kasuri

جب بھی 8 اکتوبر آتا ہے فوری آنکھوں سامنے ماضی کی فلم سی چلنے لگتی ہے

آج پھر 8 اکتوبر 2026 ہے اور مجھے بار بار 8 اکتوبر 2005 کا دن یاد آ رہا ہے

یہ وہ دن ہے کہ جب پاکستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے ہولناک زلزلے نے لاکھوں زندگیوں کو ایک لمحے میں بدل کر رکھ دیا تھا


میں اس وقت اپنے شہر قصور میں تھا اور میرا زمانہ طالب علمی کیساتھ اپنے کام کا آغاز بھی تھا

اس وقت عمر بھی ایسی تھی کہ شاید سانحے کی گہرائی اور تباہی کا مکمل اندازہ نہیں تھا لیکن زلزلے کے وہ مناظر اور وہ خوف آج بھی دل میں کہیں محفوظ ہے جو اکثر تڑپا کر رکھ دیتا ہے


مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں اس دن قصور سے 16 کلومیٹر دور ایک لکڑی کاٹنے والی آراء مشین کے قریب کھڑا تھا

وہ مشین کچی زمین پر نصب تھی جب زلزلہ آیا تو میں نے اپنی آنکھوں سے اسے زمین کی طرف جھکتے دیکھا حالانکہ وہ کئی من وزنی ہوتی ہے

چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے زمین خود اپنے اوپر کھڑی ہر چیز کو گرانا چاہتی ہے

زلزلہ چند سیکنڈز کیلئے تھا

ہوش قائم ہوئے تو خبریں دیکھیں تو اندازہ ہوا کہ شمالی علاقوں میں کیا قیامت برپا ہو چکی ہے

تب دل نے کہا کہ صرف خبریں دیکھنے سے کیا ہوگا؟

اگر استطاعت ہے تو کچھ کرنا چاہیے

میں اس وقت بطور طالب علم اس وقت کی مشہور ترین فلاحی جماعت ،فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، کا حصہ تھا اور یہ علاقے چند ماہ قبل ہی میرا مسکن رہے تھے


ہمارے پورے علاقے کے لوگ جذبہ انسانیت سے سرشار تھے اور متاثرین کیلئے کچھ کرنا چاہتے تھے

اسی جذبے کے تحت میں نے اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اپنے علاقے سے 4 دنوں میں متاثرین کے لئے ضروری سامان اکٹھا کیا اور پھر امدادی قافلے کے ساتھ مانسہرہ جا پہنچا جہاں ہمارا کیمپ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پاکستان مانسہرہ میں قائم تھا اور مولانا نصر جاوید صاحب خود امدادی سرگرمیوں کا حصہ تھے


مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب میں مانسہرہ پہنچا تو مغرب کا وقت تھا

میں نے نماز کی نیت باندھی اور نماز شروع ہی کی تھی کہ اچانک ایک شدید آفٹر شاک آیا تو پہاڑوں سے ایسے آوازیں آ رہی تھیں جیسے کوئی چیخ چیخ کر رو رہا ہو آفٹر شاک کا یہ تسلسل کافی دیر جاری رہا

دوران نماز اپنے قدموں پر کھڑا رہنا بہت مشکل ترین تھا مگر رب نے حوصلہ دیا اور نماز مکمل کی


مجھے یاد ہے کہ قصور میں محسوس کئے گئے زلزلے کے مقابلے میں وہ جھٹکا مجھے کم و بیش 20 گنا زیادہ شدت والا محسوس ہوا تھا یاں شاید اس سے بھی زیادہ زمین ہل رہی تھی

وہ رات مانسہرہ میں گزری اور بوقت سحری وقفے وقفے سے آفٹر شاکس آتے رہے

سحری کرکے نماز پڑھی تو آفٹر شاکس کم ہوئے


صبح ہوئی تو ہم نے اپنا سامان سنبھالا اور بالاکوٹ کی طرف روانہ ہو گئے


بالاکوٹ پہنچ کر جو کچھ دیکھا اسے الفاظ میں بیان کرنا آج بھی مشکل ہے


میں نے تباہ حال شہر بالاکوٹ شہر کی گلیاں اپنے قدموں سے گھومیں اور تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی

ہر طرف ملبہ ہی ملبہ ، تباہ شدہ عمارتیں، بکھرا ہوا سامان، اجڑے ہوئے گھر اور ہر طرف امدادی سرگرمیاں جاری تھیں

ہیلی کاپٹر مسلسل آ جا رہے تھے کبھی ان کے ساتھ بلڈوزر یا کرینیں لٹکتی نظر آتیں اور کبھی امدادی سامان ہو تھا


پاکستان آرمی، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الخدمت فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کے رضاکار اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر متاثرین تک پہنچ رہے تھے

پاکستان کی مختلف جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے بھی اپنی بساط کے مطابق امدادی کاموں میں حصہ لیا جس پر دنیا آج بھی ہماری قوم کے جذبہ ایثار کو سراہتی ہے


اس سارے منظر میں میرے لئے سب سے زیادہ یاد رہ جانے والا منظر دریائے کنہار کے کنارے کا ہے


میں دریا کے کنارے چل رہا تھا کہ کبھی وہاں ٹرکوں کی ایک پوری مارکیٹ ہوا کرتی تھ، مگر زلزلے نے اسے ملبے میں تبدیل کر دیا تھا

اسی ملبے کے درمیان میں نے ایک شخص کو کچھ سامان تلاش کرتے دیکھا میں بھی رک گیا اور اس کی مدد کرنے لگا


وہ جوان باریش خوبصورت آدمی تھا

اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ کبھی وہ صاحبِ حیثیت اور بارعب انسان رہا ہو گا لیکن اس وقت وہ ملبے کے درمیان کھڑا اپنی بچی کھچی چیزیں تلاش کر رہا تھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے


اس نے مجھ سے پوچھا

تم کون ہو، کہاں سے آئے ہو؟


میں نے بتایا کہ میں قصور سے آیا ہوں، طالب علم ہوں اور ریلیف کے لیے آیا ہوں


وہ میرے ساتھ بات کرنے لگا اور پھر ایسی بات کہی جو آج 21 سال بعد بھی میرے دل پر نقش ہے


وہ رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا


یار میری ایک بات پلے باندھ لو زندگی میں کبھی تکبر اور غرور نہ کرنا،کبھی کسی بات پر اترا کر بات نہ کرنا کیونکہ اللہ اگر چاہے تو چند سیکنڈ میں انسان کو عرش سے فرش پر لا سکتا ہے

پھر اس نے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے ملبے کی طرف دیکھا اور کہا میری طرف دیکھ لو ،میں ٹرکوں کی اس پوری مارکیٹ کا مالک تھا میری اپنی اسپیئر پارٹس کی دکان بھی تھی اور یہ مارکیٹ بھی میری ذاتی ملکیت تھی مجھے دکانوں کا کرایہ آتا تھا،م بڑی اچھی خاصی زندگی تھی لیکن ایک پل میں ہم محتاج ہو کر رہ گئے ہیں

آج ریلیف والے ہمیں کھانا دے رہے ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ہمارا گھر بھی چلا گیا اور گھر کے افراد بھی فوت ہو گئے ہیں


اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے

پھر اس نے دوبارہ میری طرف دیکھا اور کہا

میری بات زندگی بھر یاد رکھنا کبھی تکبر اور غرور نہ کرنا، کبھی کسی پر اترا کر بات نہ کرنا،انسان کو اپنے اختیار، دولت، جائیداد اور حیثیت پر ناز نہیں کرنا چاہیے اللہ جب چاہے، سب کچھ ایک لمحے میں واپس لے سکتا ہے

وہ مسلسل روئے جا رہا تھا اور اپنا سامان اکھٹا کر رہا تھا

کہنے لگا یہ جو بچا ہے چند سو کا ہے مگر اب یہی بہت بڑی دولت لگتی ہے


یہ ایک اجڑے ہوئے انسان کی بات تھی لیکن میرے لیے وہ ایک پوری کتاب تھی

وہ منظر مجھے لفظ با لفظ آج بھی یاد ہے


میں نے اس کے ساتھ مل کر ملبے سے جو تھوڑا بہت سامان نکل سکتا تھا، اسے اکٹھا کرنے میں مدد کی وہ بار بار میرا شکریہ ادا کرتا رہا

آج جب وہ منظر یاد آتا ہے تو میں سوچتا ہوں انسان کی اصل حیثیت کیا ہے؟


کل تک ایک شخص مارکیٹ کا مالک تھا، اپنی دکانیں تھیں، کرایہ آتا تھا، گھر تھا، خاندان تھا، آسائشیں تھیں۔ اور آج وہی شخص ملبے میں سے ربڑ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تلاش کر رہا تھا کہ شاید کچھ بچ جائے


یہ منظر میرے ذہن میں آج بھی زندہ ہے

ایسے اور بہت سے مناظر بالاکوٹ میں دیکھے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتے تھے


میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لوگوں کو دفنانے کے لیے جگہ تک دستیاب نہیں تھی بعض میتوں کو کفن میسر تھا اور بعض کو نہیں بعض جگہوں پر میتوں کو عارضی طور پر رکھا گیا تھا اور اوپر ٹین کی چادریں رکھ دی گئی تھیں کہ جب موقع ملے، باقاعدہ تدفین کی جائے گی


جنازہ پڑھانے والے لوگ بھی میسر نہیں تھے

اللہ اکبر۔

یہ وہ مناظر تھے جنہیں دیکھنے کے بعد انسان کی دنیا ہی بدل جاتی ہے

سڑکیں دھنس چکی تھیں عمارتیں زمین بوس تھیں ہر طرف خوف تھا لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے تھے کوئی اپنے گھر کے ملبے میں کھڑا تھا، کوئی اپنے بچے کو ڈھونڈ رہا تھا اور کوئی اپنی پوری زندگی کو چند لمحوں میں ختم ہوتے دیکھ چکا تھا


مانسہرہ کی صورتحال اس کے مقابلے میں کہیں بہتر تھی وہاں چند عمارتیں متاثر ہوئی تھیں مگر شہر مجموعی طور پر اپنی جگہ قائم تھا لیکن آفٹر شاکس وہاں بھی انتہائی خوفناک تھے


بالاکوٹ میں تباہی اپنی انتہا پر تھی جبکہ نسبتاً قریب مانسہرہ بہت حد تک محفوظ رہا مگر بہت دور اسلام آباد میں مارگلہ ٹاورز کا سانحہ سامنے آیا تھا


یہ سب دیکھ کر ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے

یہ اللہ کی قدرت ہے


ہم نہیں جانتے کہ یہ عذاب تھا، تنبیہ تھی یا آزمائش تھی کیونکہ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے لیکن ہمارے لئے اس میں ایک بہت بڑی نصیحت ضرور ہے


ہمیں اپنی طاقت، دولت، عہدے، کاروبار، جائیداد، جوانی اور حیثیت پر غرور نہیں کرنا چاہیے


کیونکہ انسان جس چیز کو اپنی طاقت سمجھتا ہے، وہ دراصل اللہ کی عطا ہوتی ہے


اور اللہ جب چاہے، چند سیکنڈ میں انسان کو یہ سمجھا دیتا ہے کہ اصل طاقت صرف اسی کی ہے


8 اکتوبر 2005 میرے لئے صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک یاد ہے،ایک خوف ہے

،ایک سبق ہے اور ایک ایسی آواز ہے جو آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے


یار۔ میری بات پلے باندھ لو، کبھی تکبر اور غرور نہ کرنا


اور شاید یہی اس قیامت خیز دن کا سب سے بڑا سبق تھا


اللہ ہمیں عاجزی، انکساری اور شکر کی زندگی عطا فرمائے، ہر آفت سے محفوظ رکھے اور ہمیں ہمیشہ اپنی یاد میں رہنے کی توفیق دے آمین