Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

صلِّ علیٰ سے منقبتِ فقیر مصطفیٰ تک ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر

280واں طرحی نعتیہ مشاعرہ اور فقیر مصطفیٰ امیر کا نواں سالانہ عرس

shahid naseem

بعض محفلیں محض محفلیں نہیں ہوتیں، وہ ایک عہد کی یاد، ایک شخصیت کی محبت، ایک فکر کی تجدید اور ایک روشن روایت کی حفاظت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ نعتیہ مشاعرہ بھی اگر اخلاص، عقیدت اور تسلسل کے ساتھ منعقد ہو تو وہ صرف شعر سنانے اور داد وصول کرنے کی مجلس نہیں رہتا بلکہ دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ فیصل آباد کی سرزمین پر انجمن فقیرانِ مصطفیٰ کی نعتیہ سرگرمیاں اسی خوب صورت روایت کا تسلسل ہیں۔

22 ستمبر 2026ء بروز منگل اعوان نعت محل، 951 بی، اسلامی چوک، سول کوارٹر، غلام محمد آباد فیصل آباد میں انجمن فقیرانِ مصطفیٰ فیصل آباد کے زیر اہتمام 280واں ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ اور فقیر مصطفیٰ امیر رحمۃ اللہ علیہ کا سالانہ عرس منعقد ہوا۔ یہ اجتماع اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ ایک طرف نعتیہ شاعری کی ایک طویل روایت اپنے تسلسل کے ساتھ موجود تھی اور دوسری طرف فقیر مصطفیٰ امیر کی فروغِ نعت کے لیے زندگی بھر کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا تھا۔

محفل کی صدارت پیر سید فاروق حسین شاہ نے فرمائی جبکہ پروفیسر سید رضا حسین گیلانی، پروفیسر سید شاہد حسین شاہد اور پروفیسر جاوید اسلم باجوہ مہمانانِ خصوصی تھے۔ پروفیسر محمد طاہر صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر محمد انور انیق اور ناصر حسین راضی نے بطور مہمانانِ اعزاز شرکت کی۔

اس طرح کی محفلوں کی کامیابی میں نقابت کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے۔ پروفیسر ریاض احمد قادری نے نہایت خوب صورتی سے نظامت کے فرائض انجام دیے اور محفل کو عصر سے اذانِ عشا تک محدود رکھا۔ بروقت اختتام کو انہوں نے ایک ایسے انداز میں ممکن بنایا کہ محفل کی طوالت اس کی خوب صورتی پر غالب نہ آنے پائی۔ یوں مشاعرہ اپنے مقررہ وقت میں اختتام پذیر ہوا، جو موجودہ دور کی طویل تقریبات کے تناظر میں یقیناً قابلِ ذکر بات ہے۔

محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت فقیر مصطفیٰ امیر کے پوتے محمد صائم نواز نے حاصل کی۔ اس کے بعد فقیر مصطفیٰ امیر کے دیگر پوتوں محمد عیسیٰ نواز، حسین عباس اور امیر نواز نے نعتیہ کلام پیش کرکے اپنے بزرگ کی نعتیہ روایت کو آگے بڑھانے کا عملی ثبوت دیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ایک نسل کی آواز دوسری نسل کے لبوں سے جاری ہو رہی ہو۔

اس مشاعرے کا طرحی مصرع

"تو شام و سحر صل على صل على کر"

ملک امیر نواز کی طرف سے دیا گیا تھا۔ شعرائے کرام نے اس مصرع کو اپنے اپنے اسلوب، جذبۂ عقیدت اور فنی صلاحیت کے مطابق برتا اور محفل کو نعتیہ رنگ میں ڈبو دیا۔

دوسری جانب منقبت کے لیے طرحی مصرع پروفیسر ریاض احمد قادری کا تھا:

"شہرِ نعت شاہ کے سلطاں، فقیر مصطفیٰ"

یہ مصرع محض ایک طرح نہیں تھا بلکہ اپنے اندر ایک پورا عہد، ایک شخصیت اور ایک ادبی و روحانی روایت سمیٹے ہوئے تھا۔ شعراء نے فقیر مصطفیٰ امیر کی شخصیت، ان کی نعت سے محبت اور ان کی خدمات کو اپنے اپنے انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر ایک نہایت جذباتی اور تاریخی لمحہ اس وقت آیا جب فقیر مصطفیٰ امیر کے فرزندِ اکبر ٹیپو نواز اعوان نے پہلی مرتبہ اپنے والدِ محترم کے لیے منقبت پیش کی۔ ان کی آواز میں ایک بیٹے کی محبت، ایک عقیدت مند کی کیفیت اور ایک وارثِ روایت کی ذمہ داری محسوس ہوتی تھی۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور یوں یہ لمحہ محفل کے یادگار لمحات میں شامل ہوگیا۔

نعتیہ ادب کی خوب صورتی یہ ہے کہ اس میں لفظ صرف لفظ نہیں رہتا، احساس بن جاتا ہے۔ جب لفظ محبتِ رسول ﷺ کے جذبے سے نکلتے ہیں تو شعر سامع کے دل تک پہنچتا ہے۔ یہی کیفیت اس محفل میں بھی نمایاں رہی۔

کلام پیش کرنے والوں میں آصف علی آصف وصلی، شفقت علی شفقت گل، علی رضا عارف، منیر احمد خاور، سلیم شاہد، سرور خان سرور، میاں منیر احمد منیر، شاہد نسیم، منیر خاور، ناصر حسین راضی، منصور نواز اعوان، زاہد سرفراز زاہد، سید شاہد حسین شاہد، ڈاکٹر اظہار احمد گلزار، بشیر احمد ندیم، ذیشان حسینی، حافظ حمید اللہ صوفی، جاوید باجوہ، محمد طاہر صدیقی، ریاض حسین فاروقی، حافظ ضمیر حسین اطہر قادری، پروفیسر ریاض احمد قادری، اشفاق ہمزالی، مبشر کامل چنیوٹ اور نصیر احمد اختر شامل تھے۔

خصوصی طور پر پروفیسر سید رضا حسین گیلانی نے نعیم صدیقی کی منقبت "امیر نواز فقیر مصطفیٰ" پیش کرکے سامعین کو متاثر کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فقیر مصطفیٰ امیر کی شخصیت محض ان کے خاندان یا چند عقیدت مندوں تک محدود نہیں بلکہ نعتیہ حلقوں میں ایک وسیع ادبی و روحانی حوالہ بن چکی ہے۔

محفل کی ایک خوب صورت خصوصیت آن لائن شرکت بھی تھی۔ قمر آسی، مبشر فیضی، فقیر حسین چشتی، عباس علی حیدر، ڈاکٹر مقصود احمد عاجز، امین عزمی، حافظ خلیل الرحمن خلیل، جلیل الرحمن جلیل اور عبدالغنی تائب نے آن لائن اپنا کلام پیش کیا۔ اس طرح اعوان نعت محل کی محفل کی آواز شہر کی حدود سے نکل کر دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچی۔

راقم الحروف محمد شاہد نسیم نے بھی مدحت رسول پر طرحی نعتیہ کلام پیش کیا،جسے حاصرین نے بہت سراہا۔

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

(محمد شاہد نسیم)


طیبہ کی طرف مانگ سدا ہاتھ اٹھا کر

تو شام و سحر صلِّ علیٰ ، صلِّ علیٰ کر


رکھ لب پہ ہمیشہ ہی درود اور سلامی

دل اپنا تو بے تاب یونہی زندہ کیا کر


دنیا کے گناہوں سے تو کر توبہ مدامی

دامن میں نبی پاک ﷺ کے ہر لمحہ چھپا کر


گر دل میں اٹھے لہر کوئی رنج و الم کی

تو ذکر نبی اور خدا دل میں جپا کر



دنیا میں کوئی خطرہ ہو گھبرانا نہ ہرگز

رکھ دل میں سدا نامِ محمدؐ کو بسا کر


مشکل نہ رہے کوئی کسی راہ میں تجھ کو

سرکار کی نسبت کو رکھو دل میں سجا کر


شاہدؔ تجھے گر دولت تسکین ہے درکار

تو شام و سحر صلِّ علیٰ ، صلِّ علیٰ کر


میڈیا کوریج بھی قابلِ ذکر رہی۔ محمد نواز انصاری نے ویڈیو گرافی کی جبکہ SNS Digital Media کے یوٹیوب چینل پر مکمل مشاعرہ اپ لوڈ کیا گیا۔ محمد تحسین قریشی نے فیس بک پر محفل کو براہِ راست نشر کیا۔ یہ امر اس بات کی علامت ہے کہ جدید ڈیجیٹل ذرائع کو نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے مثبت انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

محفل کا ایک اہم مرحلہ عالمی شہرت یافتہ ثنا خوانِ مصطفیٰ ﷺ محمد اکرم حسان کو فقیر مصطفیٰ امیر نعت ایوارڈ 2026ء پیش کرنا تھا۔ ایسے اعزازات صرف کسی شخصیت کی خدمات کا اعتراف نہیں ہوتے بلکہ نئی نسل کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ نعت، ثنا خوانی اور ادبِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستگی ایک قابلِ احترام علمی و ادبی خدمت ہے۔

فقیر مصطفیٰ امیر کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر جاوید باجوہ نے کہا کہ فروغِ نعت کے میدان میں فقیر مصطفیٰ امیر کی خدمات مثالی ہیں۔ انہوں نے موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے اس نسبت کی قدر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ جو لوگ فقیر مصطفیٰ امیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور ان کی شفقت حاصل کرچکے ہیں، وہ ایک قیمتی یاد کے امین ہیں۔

پیر سید فاروق حسین شاہ نے بھی فقیر مصطفیٰ امیر کی فروغِ نعت کے لیے خدمات پر روشنی ڈالی اور ان کے صاحبزادگان کو مبارک باد پیش کی کہ وہ اپنے والد کے مشن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ کسی شخصیت کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کا کام اس کے بعد بھی جاری رہے۔ فقیر مصطفیٰ امیر کے خانوادے کی نعت سے وابستگی اسی تسلسل کی علامت ہے۔

پروفیسر سید شاہد حسین شاہد کا یہ احساس بھی محفل میں خاص طور پر قابلِ توجہ تھا کہ فقیر مصطفیٰ امیر آج بھی زندہ ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہیں۔ یہ دراصل ان شخصیات کے زندہ رہنے کا وہ تصور ہے جو جسمانی موجودگی سے نہیں بلکہ کردار، محبت، تربیت اور یاد سے قائم رہتا ہے۔

اس محفل میں ایک اور خوب صورت منظر اس وقت سامنے آیا جب قاسم رشید ہادی، علی رضا عارف اور نعیم صدیقی منقبت کے ڈیزائن بنوا کر فریم کروا کر لائے اور انہیں اعوان نعت محل میں آویزاں کیا گیا۔ مبشر حسین فیضی نے لاہور سے ڈیزائن تیار کروا کر بھیجا۔ یوں شاعری صرف کاغذ پر نہیں رہی بلکہ بصری فن کے ذریعے بھی ایک یادگار کی صورت اختیار کرگئی۔

فقیر مصطفیٰ امیر کی نعتیہ خدمات کو سمجھنے کے لیے 280ویں طرحی مشاعرے کی یہ محفل ایک خوب صورت مثال ہے۔ ایک طرف بزرگوں کی یاد ہے، دوسری طرف نئی نسل کی شرکت؛ ایک طرف روایتی نعتیہ مشاعرہ ہے، دوسری طرف سوشل میڈیا اور یوٹیوب کے جدید ذرائع؛ ایک طرف طرحی شاعری کی فنی روایت ہے، دوسری طرف منقبت کے ذریعے ایک بزرگ شخصیت کی ادبی خدمات کا اعتراف۔

یہی امتزاج کسی روایت کو زندہ رکھتا ہے۔

نعتیہ ادب کا بنیادی حسن عقیدت کے ساتھ ادب، محبت کے ساتھ احترام اور جذبے کے ساتھ فن ہے۔ جب شاعر طرحی مصرع کو اپنے احساس کے سانچے میں ڈھالتا ہے تو ایک مصرع کئی نئے اشعار اور کئی نئی کیفیات کو جنم دیتا ہے۔ "تو شام و سحر صل على صل على کر" جیسے مصرعے اسی روحانی کیفیت کی دعوت دیتے ہیں کہ مسلمان کی زبان درود و سلام سے تر رہے۔

اور جب مصرع ہو:

"شہرِ نعت شاہ کے سلطاں، فقیر مصطفیٰ"

تو ایک شاعر کے سامنے محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک پوری نعتیہ روایت آجاتی ہے۔ وہ روایت جس میں محفل سجتی ہے، نعت پڑھی جاتی ہے، بزرگوں کو یاد کیا جاتا ہے، نوجوانوں کو موقع دیا جاتا ہے اور پھر محبت کا یہ چراغ اگلی نسل کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے۔

سید فاروق حسین شاہ نے اختتامی دعا کروائی اور یوں ایک اور یادگار محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔ محفل کے بعد حاضرین کے لیے بہترین لنگر کا اہتمام کیا گیا۔ لنگر بھی ہماری روحانی و ادبی محفلوں کی ایک خوب صورت روایت ہے جہاں شعر و سخن کے بعد محبت، خلوص اور بھائی چارے کی ضیافت ہوتی ہے۔

280واں طرحی نعتیہ مشاعرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فیصل آباد میں نعتیہ ادب کی روایت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ انجمن فقیرانِ مصطفیٰ نے ماہ بہ ماہ مشاعروں کے ذریعے نہ صرف اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا بلکہ نعتیہ ادب کے قارئین اور سامعین کے لیے بھی ایک مستقل ادبی سلسلہ قائم رکھا ہے۔

فقیر مصطفیٰ امیر کی یاد میں منعقد ہونے والا یہ اجتماع دراصل ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک پل تھا۔ ماضی میں ایک ایسی شخصیت کی خدمات تھیں جس نے نعت کو اپنی زندگی کا مشن بنایا، حال میں ان کے فرزند اور احباب اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں اور مستقبل میں نوجوان نسل کے ہاتھ میں یہی امانت منتقل ہونے والی ہے۔

ایسی محفلیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قلم کی اصل طاقت محبت ہے، شعر کی اصل روح عقیدت ہے اور نعت کی اصل منزل ادبِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔

جب تک صلِّ علیٰ کی صدا شام و سحر بلند ہوتی رہے گی، جب تک شاعر محبتِ رسول ﷺ کو لفظوں میں ڈھالتے رہیں گے اور جب تک بزرگوں کی نعتیہ خدمات کو نئی نسل تک منتقل کیا جاتا رہے گا، تب تک فقیر مصطفیٰ امیر جیسے اہلِ محبت بھی اپنی محفلوں، اپنی یادوں اور اپنے مشن کے ذریعے ہمارے درمیان موجود رہیں گے۔

یہی کسی ادبی و روحانی شخصیت کی حقیقی زندگی ہے کہ جسم رخصت ہوجائے مگر مشن زندہ رہے، روایت جاری رہے اور محبت کے چراغ نسل در نسل روشن ہوتے رہیں