Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مسیحائی یا بے حسی ،تحریر: ماہ جبین اظہر

mah jabeen b

کچھ ہفتے پہلے مجھے اپنی بہن کے ساتھ اس کے بیٹے کو لے کر ایک مشہور شہر کے ایک مشہور چائلڈ اسپیشلسٹ کے پاس جانے کا موقع ملا۔ کلینک میں داخل ہوتے ہی اندازہ ہوگیا کہ جگہ کم اور مریض بہت زیادہ ہیں۔ پرچی بنوائی اور انتظار گاہ میں جا کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگے۔

چھوٹی سی جگہ میں درد اور تکلیف کی شدت سے روتے بچے، انہیں سینے سے لگائے چپ کروانے کی کوشش میں ہلکان مائیں اور ان کے ساتھ آئے وہ باپ، جو سارا دن مزدوری، دفتری کام اور زندگی کی دوسری ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد تھکے ہارے یہاں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو سرکاری اسپتالوں کی لمبی قطاروں سے گزر کر یہاں اس امید پر آئے تھے کہ شاید بچے کا علاج جلد ہوجائے۔

انتظار کرتے کرتے عشاء کی اذان ہونے لگی۔ اذان کی آواز کانوں میں پڑتے ہی بہت سے مریضوں کے چہروں پر بے چینی پھیل گئی۔ سب جانتے تھے کہ ڈاکٹر نماز کے لیے جائیں گے اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد واپس آئیں گے۔ ان کے لیے وہ آدھا گھنٹہ معمولی وقت نہیں تھا؛ ان کے بچے تکلیف میں تھے اور ہر گزرتا لمحہ ان کے لیے بھاری تھا۔

اسی دوران ایک ماں گھبرائی ہوئی ڈاکٹر کے پی اے کے پاس پہنچی اور بولی:

"میرا بچہ بہت زیادہ خراب ہے، اسے جھٹکے لگ رہے ہیں۔ خدا کے لیے ڈاکٹر سے کہیں جلدی دیکھ لیں۔"

جواب ملا:

"نماز کا وقت ہے، ڈاکٹر صاحب نماز کے بعد ہی دیکھیں گے۔ آپ اپنی باری کا انتظار کریں۔"

اتنے میں ڈاکٹر اپنے آرام دہ، اے سی والے کمرے سے باہر آیا اور نماز کے لیے جانے لگا۔ وہ ماں اپنے بچے کو اٹھائے فوراً اس کی طرف لپکی۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی:

"ڈاکٹر صاحب! خدا کے لیے میرے بچے کو دیکھ لیں۔ اس کی حالت بہت خراب ہے۔"

ڈاکٹر نے جواب دیا:

"بی بی! نماز کے فرض چھوڑ کر تمہارا بچہ دیکھوں؟ یہاں بہت سارے مریض بچے ہیں، کیا سب کو دیکھنا شروع کردوں؟ زیادہ طبیعت خراب ہے تو سرکاری اسپتال کی ایمرجنسی میں لے جاؤ۔"

یہ کہہ کر ڈاکٹر آگے بڑھ گیا۔

وہ ماں روتی ہوئی اپنے بچے کو لے کر باہر کی طرف آنے لگی، مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ اس کا بچہ جانبر نہ ہوسکا۔

یہ منظر دیکھ کر میں نے خاموشی سے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ دل میں ایک ہی خیال تھا کہ ایسے انسانیت سے عاری رویے والے ڈاکٹر سے علاج کروانے کے بجائے شاید انسان سرکاری اسپتال کی لمبی قطار میں ہی انتظار کرلے، جہاں کم از کم اسے یہ امید تو ہو کہ کسی نہ کسی وقت اس کی باری ضرور آئے گی۔

یہاں سوال نماز کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ نماز یقیناً فرض ہے اور اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن ایک ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی کے دوران کسی شدید حالت میں مبتلا مریض کو مناسب طریقے سے دیکھنے کی ذمہ داری سے بھی آزاد نہیں ہوجاتا۔ اگر چند لمحوں کے لیے اس بچے کی حالت دیکھ لی جاتی، بروقت آکسیجن یا ضروری طبی امداد فراہم کردی جاتی، تو شاید ایک جان بچنے کا امکان پیدا ہوجاتا۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا عبادت ہمیں انسانوں کے حقوق سے غافل کرسکتی ہے؟

آج ہمارے معاشرے میں علاج بھی کہیں کہیں خدمت کے بجائے کاروبار بنتا جارہا ہے۔ پرائیویٹ کلینک میں عام پرچی کی فیس الگ، ایمرجنسی کی فیس الگ، اور بعض اوقات معمولی نزلہ زکام کے لیے بھی والدین کو مہنگی ایمرجنسی پرچی بنوانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ غریب والدین اپنے بچے کی تکلیف دیکھ کر تین تین ہزار روپے تک خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جبکہ عام پرچی بنوانے والے مریض گھنٹوں نہیں بلکہ بعض اوقات صبح سے شام تک اپنی باری کے منتظر رہتے ہیں۔

پھر بعض جگہوں پر ایسی ادویات تجویز کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں جو مخصوص کلینک یا محدود جگہوں سے ہی دستیاب ہوتی ہیں۔ مریض باہر نسخہ لیے خوار ہوتا رہتا ہے اور آخرکار اسی جگہ سے مہنگی دوا خریدنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

کیا علاج واقعی اس قدر مہنگا ہونا چاہیے کہ ایک غریب باپ اپنے بیمار بچے کو گود میں لیے صرف اس لیے بے بس ہوجائے کہ اس کے پاس ایمرجنسی فیس ادا کرنے کے لیے رقم نہیں؟

محکمۂ صحت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ نجی طبی مراکز کی فیسوں، ایمرجنسی چارجز اور مریضوں کے حقوق کے حوالے سے واضح اور مؤثر ضابطے بنائیں اور ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنائیں۔ بیماری امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی، بچے کسی ایک طبقے کے نہیں ہوتے، اور درد کی شدت جیب دیکھ کر کم نہیں ہوتی۔

جب ایک نوجوان ڈاکٹر بننے کا عہد کرتا ہے تو اس کے سامنے خدمتِ خلق، مریض کی جان کی حفاظت اور انسانی ہمدردی جیسے اصول بھی ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ بعض لوگ تخصص اور کامیابی کی منزل تک پہنچتے پہنچتے اسی خدمت کے جذبے کو کہیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ سفید کوٹ، جو کبھی اعتماد، خدمت اور مسیحائی کی علامت سمجھا جاتا تھا، بعض ہاتھوں میں صرف دولت کمانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر یقیناً اپنے علم، وقت اور محنت کی فیس لینے کا حق رکھتا ہے، مگر مریض کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا، انسانی جان کی اہمیت کو صرف فیس کے پیمانے سے دیکھنا اور ضرورت مند کو بے بس چھوڑ دینا ایک الگ معاملہ ہے۔

دین ہمیں اللہ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ بندوں کے حقوق کا بھی احساس دلاتا ہے۔ عبادت کا حسن بھی اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کے اثرات ہمارے رویوں میں نظر آئیں۔ اگر ہماری نماز ہمیں انسان کے دکھ کو محسوس کرنا نہیں سکھاتی، اگر ہماری عبادت ہمیں ایک مجبور ماں کے آنسوؤں سے بے نیاز کردیتی ہے، تو ہمیں اپنے رویوں پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

حقوق اللہ اپنی جگہ، مگر حقوق العباد بھی معمولی معاملہ نہیں۔ کسی انسان کی حق تلفی، خاص طور پر اس وقت جب وہ ہماری ذمہ داری اور اختیار میں ہو، انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی تلافی کے لیے دنیا میں ہی انسان کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

آخر میں سوال صرف ایک ڈاکٹر سے نہیں، ہم سب سے ہے:

کیا ہمارا معاشرہ اتنا بے حس ہوگیا ہے کہ ایک درد سے تڑپتے بچے کی زندگی سے زیادہ ہمیں اپنی سہولت، اپنی باری، اپنی فیس اور اپنی مصروفیت عزیز ہے؟

اگر ایک ڈاکٹر مریض کے دکھ کو صرف ایک پرچی نمبر سمجھنے لگے اور ایک ماں کی فریاد اس کے لیے محض شور بن جائے، تو پھر ہمیں صرف نظامِ صحت نہیں، اپنے اندر کے انسان کو بھی علاج کی ضرورت ہے۔

کیونکہ زندگیاں فیس کی محتاج نہیں ہوتیں، انسانیت کی محتاج ہوتی ہیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL