مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان طوفان باہر ، دیواریں اندر سے مضبوط کرنا ہوں گی،تجزیہ:شہزاد قریشی

ہرمز سے اسلام آباد تک بدلتے خطے میں پاکستان کے لیے اتحاد ہی سب سے بڑی ڈھال ہے
تجزیہ شہزاد قریشی
آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی ہوئی آگ کی تپش اس کے دروازے تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ خلیجِ فارس سے لے کر باب المندب تک پھیلی ہوئی بے یقینی، تیل کی گزرگاہوں پر منڈلاتے خطرات، اور بڑی طاقتوں کی شطرنج نے پورے خطے کو اضطراب کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور سعودی عرب کے توانائی ڈھانچے سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کردار محض ایک تماشائی کا نہیں بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی ریاست کا ہے۔ پاکستان کے مغرب میں ایران، شمال مغرب میں افغانستان، مشرق میں بھارت اور جنوب میں بحیرۂ عرب واقع ہے۔ گویا جغرافیہ نے پاکستان کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ خطوں کے درمیان ایک پل بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی ہر ہلچل کے اثرات بالآخر پاکستان کی معیشت، سلامتی اور داخلی استحکام پر مرتب ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے؟ میرا جواب واضح ہے: سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی۔ جب دنیا کے گرد و نواح میں بارود کی بو پھیلی ہوئی ہو، جب عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہوں، جب توانائی کے راستے خطرات کی زد میں ہوں، تو ایسے وقت میں کسی بھی ملک کے لیے داخلی انتشار سب سے بڑا نقصان بن جاتا ہے۔ احتجاج، محاذ آرائی، الزام تراشی اور سیاسی کشمکش اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی کے تقاضے اپنی جگہ ہوتے ہیں۔ آج پاکستان کسی نئے سیاسی معرکے کا نہیں بلکہ قومی یکسوئی کا متقاضی ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان گزشتہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ روابط نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر ابھارا ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے کا داعی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر بیرونی خطرات کے ماحول میں اندرونی محاذ کمزور پڑ جائے تو دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، دانشور اور میڈیا سب مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیں جس کی بنیاد پاکستان کے قومی مفاد پر ہو، نہ کہ وقتی سیاسی فائدے پر۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں گردش کرتے جنگی بادل پاکستان کو ایک خاموش پیغام دے رہے ہیں: "اختلاف رکھو، مگر انتشار مت پیدا کرو؛ سیاست کرو، مگر ریاست کو کمزور مت کرو۔”
پاکستان کی بقا، ترقی اور عالمی اہمیت کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہم داخلی استحکام کو اپنی پہلی قومی ترجیح بنائیں۔ کیونکہ جب گرد و پیش میں طوفان اٹھ رہے ہوں تو عقل مند قومیں اپنے گھر کی دیواریں مضبوط کیا کرتی ہیں۔





