مہنگائی کے ہاتھوں پستی ہوئی عوام،تحریر؛انجینیئر علی رضوان چوہدری
نقطہ نظر
پاکستان آج ایک ایسے معاشی دور سے گزر رہا ہے جہاں عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی صرف بازار کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس گھر کے بجھتے ہوئے چولہے، باپ کی پریشان آنکھوں، ماں کی خاموش فکر اور بچوں کی ادھوری خواہشوں کا نام بھی ہے۔ آج بہت سے لوگ غربت کی اس آخری لکیر تک پہنچ چکے ہیں جہاں ضرورتیں ختم نہیں ہوتیں لیکن وسائل ختم ہو جاتے ہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق اگست 2026 میں ملک کی عمومی صارف مہنگائی سال بہ سال 11.15 فیصد رہی، جبکہ دیہی علاقوں میں CPI مہنگائی 12.2 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ اسی طرح 24 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمتوں کا اشاریہ بھی ایک ہفتے میں 0.99 فیصد بڑھا۔
یہ اعدادوشمار محض کاغذ پر لکھی ہوئی شرحیں نہیں۔ ان کے پیچھے کروڑوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی ہے۔ ایک تنخواہ دار شخص جب مہینے کے آغاز میں راشن خریدتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ آمدن وہی ہے لیکن اخراجات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ بجلی کا بل، گیس، بچوں کی فیس، گھر کا راشن، ادویات، سفر اور دیگر ضروریات مل کر ماہانہ آمدن کو اس طرح نگل جاتی ہیں کہ مہینے کے آخری دن کسی امتحان سے کم محسوس نہیں ہوتے۔
سب سے زیادہ مشکل صورتحال سفید پوش طبقے کی ہے۔ وہ لوگ جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، اپنی پریشانی کسی سے بیان نہیں کرتے اور عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر ان کے گھر آباد دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے کئی خاندان مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ نہ مکمل طور پر غریبوں کی صف میں شمار ہوتے ہیں اور نہ متوسط طبقے کی آسائشیں ان کی زندگی میں باقی رہی ہیں۔
یہ طبقہ امداد مانگنے سے زیادہ روزگار، مناسب آمدن اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع چاہتا ہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ شدید مالی دباؤ بعض لوگوں کو ناامیدی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ خودکشی کسی معاشی مسئلے کا حل نہیں۔ ایسے حالات میں فرد کو تنہا چھوڑنے کے بجائے خاندان، دوست، معاشرہ اور ریاست سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جس شخص کے رویے میں شدید مایوسی، خود کو نقصان پہنچانے کی باتیں یا زندگی سے بے زاری نظر آئے، اسے سنجیدگی سے سننا اور فوری مدد تک پہنچانا ضروری ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر ایک باعزت شہری کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اتنی جدوجہد کیوں کرنا پڑ رہی ہے؟ معاشی پالیسیوں کا اصل مقصد صرف بڑے اعدادوشمار بہتر کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بھی بہتری محسوس ہونی چاہیے۔ اگر قومی معیشت کے ثمرات گھر کے بجٹ تک نہیں پہنچتے تو معاشی ترقی کا فائدہ عام شہری کے لیے محدود محسوس ہوتا ہے۔
حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بڑھانے، کم آمدنی والے طبقے کو مؤثر ریلیف دینے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی بہتر بنانے اور صحت و تعلیم کے اخراجات کو عام آدمی کی استطاعت کے مطابق رکھنے پر توجہ دینا ہوگی۔ دوسری طرف معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد، تاجر برادری اور مخیر حضرات کو بھی اپنے اردگرد موجود ضرورت مند خاندانوں کو تلاش کرنا چاہیے۔
ہم اکثر بڑے بڑے منصوبوں، عمارتوں اور ترقیاتی اعلانات کی بات کرتے ہیں، لیکن ایک غریب باپ کی بیٹی کی فیس، ایک بیمار بزرگ کی دوا، ایک بیوہ کے گھر کا راشن اور ایک بے روزگار نوجوان کے لیے روزگار کا موقع بھی معاشرتی ترقی ہی کا حصہ ہے۔
آج ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ضرورت ہے۔ کسی کے گھر راشن پہنچا دینا، کسی بچے کی فیس ادا کر دینا، کسی مریض کے علاج میں مدد کرنا، کسی بے روزگار کو کام دلوا دینا یا کسی پریشان شخص کو امید کے چند الفاظ دے دینا شاید ہمارے لیے معمولی عمل ہو، مگر کسی خاندان کے لیے یہ زندگی کی سب سے بڑی مدد بن سکتا ہے۔
پاکستان کے حالات میں بہتری صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ریاست، معاشرے، کاروباری طبقے اور ہر صاحبِ استطاعت فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں غربت شرمندگی نہ ہو، سفید پوشی مجبوری نہ بنے اور کوئی شخص صرف اس لیے اپنی زندگی کو بوجھ محسوس نہ کرے کہ وہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہا۔
مہنگائی کے اس دور میں سب سے ضروری چیز صرف قیمتوں میں کمی نہیں، انسان کے اندر امید کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ کیونکہ جب معاشرے کے کمزور طبقے کو یہ یقین ہو کہ مشکل وقت میں کوئی اس کا ہاتھ تھامنے والا موجود ہے تو اندھیروں میں بھی روشنی پیدا ہوتی ہے۔
ہمیں ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں محنت کرنے والا عزت سے جئے، سفید پوش شخص اپنی ضروریات پوری کر سکے، نوجوان کو روزگار کی امید ہو، بچوں کی تعلیم غربت کی وجہ سے نہ رکے اور کسی مجبور انسان کو مایوسی کی آخری حد تک نہ پہنچنے دیا جائے۔
مزید پڑھیں





