Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مہنگائی کا طوفان اور سفید پوشی کا بھرم،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

موجودہ دور میں جس تیزی سے مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، اس نے غریب کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ ہمارے مڈل کلاس یعنی سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ معاشرے کا یہ وہ طبقہ ہے جو نہ تو غریبوں کی طرح کسی امدادی لائن میں لگ سکتا ہے اور نہ ہی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتا ہے۔ یہ وہ غیرت مند لوگ ہیں جو صبح صاف ستھرا لباس پہن کر، چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے گھروں سے نوکریوں پر نکلتے ہیں، لیکن اندر سے اپنے بچوں کی فیسیں، بجلی کے بھاری بل اور راشن کے اخراجات پورے کرتے کرتے بالکل ٹوٹ چکے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی عزتِ نفس کا سودا بھی نہیں کر سکتے اور خاموشی سے اس معاشی چکی میں پس رہے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے تک مہنگائی کا مطلب صرف آٹے، دال اور چینی کی قیمتوں میں چند روپوں کا اضافہ ہوتا تھا، مگر آج صورتحال بالکل مختلف اور سنگین ہو چکی ہے۔ اب بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ بجلی کے بل اب کسی سہولت کا معاوضہ نہیں رہے بلکہ ایک ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں، جس کے آتے ہی پورے مہینے کا بجٹ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔ ایک عام سرکاری یا نجی ملازم مہینے کے آخر میں اس شدید شش وپنج میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دودھ اور دوائی خریدے یا پھر یوٹیلیٹی بلز جمع کروا کر قانون کا پابند شہری ہونے کا ثبوت دے۔ وہ بنیادی ضرورتیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں انسان کا بنیادی حق ہوتی ہیں، ہمارے ہاں اب عیاشی بن چکی ہیں اور ایک عام پاکستانی صرف "زندہ رہنے" کی جنگ لڑ رہا ہے۔اس معاشی بحران کا سب سے خطرناک اور دردناک پہلو ہماری نئی نسل پر پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔ جب ایک سفید پوش باپ اپنی محدود آمدنی میں گھر کا کرایہ اور یوٹیلیٹی بلز ادا کرتا ہے، تو اس کے پاس بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ کئی ہونہار طالب علم صرف اس وجہ سے پڑھائی چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے والدین اب تعلیمی اداروں کی مہنگی فیسوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ جب تعلیم ہی عام آدمی کی دسترس سے دور ہو جائے، تو اس قوم کا مستقبل کس طرح روشن ہو سکتا ہے؟ ہم روزانہ ٹی وی اسکرینوں پر معاشی ترقی کے بلند و بالا دعوے تو سنتے ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ بازاروں سے خریدار غائب ہیں اور لوگوں کے چہروں پر مایوسی اور فکر کی جھریاں گہری ہوتی جا رہی ہیں۔حکمران طبقے اور معاشی پالیسی سازوں کو یہ بات گہرائی سے سمجھنی چاہیے کہ کسی بھی ملک کا اصل اثاثہ اور معیشت کا پہیہ چلانے والا اس کا محنتی مڈل کلاس طبقہ ہوتا ہے۔ اگر یہ طبقہ ہی معاشی طور پر ختم ہو گیا، تو پورا سماجی ڈھانچہ تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ صرف بڑی بڑی دعووں اور طفل تسلیوں سے غریب کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اب حکومت کو چاہیے ٹیکسوں کا بے جا بوجھ پہلے سے پسے ہوئے غریب اور مڈل کلاس عوام پر ڈالنے کے بجائے اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے پر ڈالا جائے اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں کو سختی سے کنٹرول کیا جائے تاکہ ایک عام انسان بھی اس ملک میں عزت اور سکون کے ساتھ سانس لے سکے۔