پاکستان میں عام آدمی آج بھی ایک ایسے سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے جس کا تعلق براہِ راست اس کے گھر کے چولہے سے ہے: مہنگائی سے حقیقی ریلیف کب ملے گا؟
یہ سوال اب صرف غریب طبقے تک محدود نہیں رہا۔ متوسط طبقہ بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث پریشان ہے۔ ایک طرف آمدن محدود ہے اور دوسری طرف بجلی، گیس، پٹرول، اشیائے خورونوش، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ ضرورت کی ہر چیز گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر اس شخص پر پڑتا ہے جو ماہانہ تنخواہ لیتا ہے۔ تنخواہ ملنے کے چند دن بعد بجلی کا بل، گھر کا راشن، بچوں کی فیس، سفر کے اخراجات اور دیگر ضروریات پوری کرتے کرتے جیب خالی ہو جاتی ہے۔ پھر پورا مہینہ ادھار، قرض یا اخراجات میں کٹوتی کے سہارے گزارنا پڑتا ہے۔
حکومت کی جانب سے جب معاشی بہتری کے اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں تو یقیناً یہ اچھی خبر ہوتی ہے، لیکن عام شہری کے لیے اصل پیمانہ اعداد و شمار نہیں بلکہ بازار کی قیمتیں اور گھر کا بجٹ ہیں۔ اگر آٹا، دال، سبزی، دودھ، گوشت اور دیگر بنیادی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوں تو اسے معاشی بہتری محسوس نہیں ہوتی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی صرف حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں۔ عالمی منڈی، تیل کی قیمتیں، موسمی حالات، روپے کی قدر، پیداواری لاگت، بجلی کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور طلب و رسد جیسے کئی عوامل قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بے لگام مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے۔
بازاروں میں پرائس کنٹرول کا نظام مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور صارف کو بھی مناسب قیمت پر اشیائے ضروریہ دستیاب ہوں۔ صرف کاغذوں میں قیمت مقرر کرنا کافی نہیں، اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
سب سے اہم مسئلہ آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ اگر کسی مزدور یا ملازم کی آمدن میں معمولی اضافہ ہو لیکن ضروریات زندگی کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ بڑھ جائیں تو حقیقی طور پر اس کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے کم از کم اجرت، روزگار کے مواقع اور مزدوروں کے حقوق پر عملی توجہ دینا ناگزیر ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایسے مستقل معاشی اقدامات کرے جن سے انہیں وقتی امداد کے بجائے مستقل سہارا ملے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں ریلیف، روزگار کے نئے مواقع، چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرضے، تعلیم اور علاج کی سہولتیں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتیں عوام کے لیے حقیقی ریلیف ثابت ہو سکتی ہیں۔
عوام کو ہر بجٹ میں بڑے دعووں سے زیادہ یہ جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے کہ اس کے گھر کا چولہا کیسے چلے گا؟ بچوں کی فیس کیسے ادا ہوگی؟ بجلی کا بل کیسے بھرے گا اور مہینے کے آخر میں گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟
ریلیف کا مطلب صرف ایک وقتی پیکیج یا چند دنوں کے لیے قیمتوں میں کمی نہیں۔ حقیقی ریلیف اس وقت ہوگا جب عام آدمی اپنی آمدن میں گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد کچھ رقم مستقبل کے لیے بھی بچا سکے۔
پاکستان کو ایسی معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جس کا مرکز صرف بڑے معاشی اشاریے نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی ہو۔ حکومت، صنعت، تاجر، کسان اور عوام سب کو مل کر ایسی معیشت کی بنیاد رکھنی ہوگی جہاں محنت کرنے والا شخص عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
آخر میں سوال پھر وہی ہے:
مہنگائی پر ریلیف کب ملے گا؟
عوام اب صرف وعدے نہیں چاہتے۔ انہیں بازار میں مناسب قیمت، بجلی کے بل میں آسانی، روزگار میں اضافہ اور اپنے گھر کے بجٹ میں حقیقی سکون چاہیے۔
کیونکہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا اصل ثبوت یہ نہیں کہ اعداد و شمار کتنے خوبصورت ہیں، بلکہ یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوئی ہے۔
عوام وعدہ نہیں، عملی ریلیف چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں






