سینیٹ اجلاس میں محسن نقوی نے عمران خان،پی ٹی آئی رہنماؤں کو کیا بے نقاب

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سنگجانی دھرنے اور اس کے پیچھے ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں کہ اس دوران کیا معاملات پیش آئے اور حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کیا کوششیں کی گئیں۔
محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ جب دھاوا بولا جا رہا تھا تو ہم نے بولا کہ آپ کو ہم پُرامن احتجاج کے لیے جگہ دیتے ہیں، ہم آپ کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا نہیں جی، ہماری عمران خان صاحب سے فون پر بات کروائیں۔ تو اس کے بعد ہم دھرنے کو یا تو موخر کریں گے یا دھرنے کی جگہ تبدیل کریں گے۔ہم نے فون کرنے کی اجازت لی اور پی ٹی آئی سے بات کروائی۔ جب بات ہو گئی تو آدھی پارٹی نے کہا کہ ہم تو مانتے ہی نہیں کہ عمران خان صاحب سے تو وزیراعلیٰ کی بات کروائی گئی ہے، اب ان کی بیگم کی بھی بات کروائیں۔ ہم نے کہا کہ آپ نے کہا ہماری بات کروائیں، ہم نے بات کروا دی، اب آپ کہہ رہے ہیں ہم مانتے ہی نہیں۔ پھر انہوں نے شرط پیش کر دی کہ ہم تب مانیں گے جب آپ ویڈیو میسج ریکارڈ کروائیں اور وہ ہمیں دکھائیں۔تو اس پر وزیراعظم اور صدرِ مملکت نے کہا کہ ہمیں ایک ایک بندہ عزیز ہے، یہ لوگ نادانی کر رہے ہیں لیکن ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا کے ان کو دکھا دیں۔ہم نے بیرسٹر گوہر صاحب کو بلایا۔ ہم نے کہا کہ آپ جا کے ویڈیو میسج ریکارڈ کر لیں۔ اس سے پہلے ہم نے جب ریکارڈ کرنا چاہا تو عمران خان صاحب نے کہا کہ میں اپنی پارٹی کے کسی بندے سے ریکارڈ کرواؤں گا، باہر کے کسی بندے کو میں ویڈیو پیغام نہیں ریکارڈ کرواتا۔ہم نے بیرسٹر گوہر کو بلایا کہ آپ پارٹی چیئرمین ہیں، آپ جائیں اور جا کے ویڈیو پیغام ریکارڈ کر لیں۔ بیرسٹر گوہر آ گئے اور ہم دو گھنٹے انتظار کرتے رہے۔ اب ہم نے پوچھا کہ آپ نے تو خود بولا تھا کہ اپنی پارٹی کے کسی بندے سے ویڈیو پیغام ریکارڈ کروائیں گے، تو ہم انتظار کر رہے ہیں۔ تو کہتے جی کہ میں کچھ لکھ رہا ہوں۔دو گھنٹے کے بعد انہوں نے کہا اچھا چلیں، میں ریکارڈ کرواتا ہوں۔ اب جیسے ہی ویڈیو ریکارڈنگ شروع ہوئی تو کہتے نہیں، میری یہ شرط ہے ویڈیو بیرسٹر گوہر کے موبائل میں ریکارڈ ہوگی۔ ہم نے کہا جی ٹھیک ہے۔اب جب دوبارہ جیسے ہی ریکارڈنگ شروع ہوئی تو کہتے ہیں نہیں جی، میں سلاخوں کے پیچھے جا کے ریکارڈنگ کرواؤں گا۔ ہم نے کہا یہ کیا ماجرا ہے؟ ابھی تو ساری باتیں ہو گئیں، اب ویڈیو ریکارڈنگ کی بات آئی ہے تو کہتے ہیں جی کہ میں سلاخوں کے پیچھے جا کے ریکارڈ کرواؤں گا۔میں نے اس وقت کسی سے نہیں پوچھا، وزیراعظم صاحب سے یا پریزیڈنٹ صاحب سے کسی سے نہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، آپ سلاخوں کے پیچھے جا کے ریکارڈ کر لیں۔ کہ بھائی ریکارڈنگ کرنی ہے تو چلیں، جیسے بھی سہی، بس یہ معاملہ جو ہے وہ حل ہو۔اب جب سلاخوں کے پیچھے گئے تو کہتے ہیں میں نے آج ریکارڈنگ نہیں کروانی، میں کل ریکارڈ کرواؤں گا۔ ہم نے کہا آپ کی پارٹی کا دھرنا ہے، آپ کی پارٹی آپ سے ویڈیو پیغام مانگ رہی ہے تاکہ دھرنا کسی انجام تک پہنچے، لیکن وہ کہتے جی کہ آج میں نے کوئی ویڈیو پیغام ریکارڈ نہیں کروانا، کل میرے وکیلوں کو بلائیں اور اس کے بعد میں ویڈیو پیغام ریکارڈ کرواؤں گا۔تو ان حالات کے باوجود اس بار بھی ہم نے مذاکرات کرنا چاہےاور کیے، علامہ راجہ ناصر عباس صاحب بتائیں کہ مذاکرات کے لیے رابطہ انہوں نے کیا یا ہم نے کیا؟ ہم لوگوں نے کیا۔ ہماری عزت میں کوئی کمی نہیں آتی اس حوالے سے۔آخری دن 12 بجے تک آخری فون بھی ہم نے اس حوالے سے کیا۔ ہم نے کہا کہ آپ پلیز مذاکرات کی طرف آئیں اور معاملات حل کریں تاکہ ہم کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہوں لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے، تو اس حوالے سے ہمیں ذمہ دار نہ ٹھہرائیں۔
مزید پڑھیں





