Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مبشر لقمان بمقابلہ ڈاکٹر اسرار احمد؟ ایک میز، دو زاویے اور درجنوں سوال،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے، اس کے شوق بھی بدلتے جاتے ہیں اور سوال بھی۔ بچپن میں تاریخ صرف بادشاہوں، جنگوں اور فتوحات کا نام لگتی تھی، مگر عمر کچھ بڑھی تو تاریخ کے کرداروں کے پیچھے چھپے سوال دکھائی دینے لگے۔ پھر فلسفہ پڑھنے کا شوق پیدا ہوا تو ذہن یونان جا پہنچا۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو کو پڑھا تو محسوس ہوا کہ ہزاروں سال پہلے بھی انسان انہی سوالوں کے ساتھ کھڑا تھا جن کے ساتھ آج ہم کھڑے ہیں۔ خدا کیا ہے؟ انسان کیا ہے؟ سچ کیا ہے؟ ریاست کیوں ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو کچھ ہم سچ سمجھتے ہیں، کیا وہ واقعی سچ ہے؟


شاید فلسفہ پڑھنے کا سب سے بڑا اثر یہی ہوتا ہے کہ آدمی جوابوں سے زیادہ سوالوں میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ وہ ہر بات کو صرف اس لیے تسلیم نہیں کرتا کہ اسے صدیوں سے دہرایا جا رہا ہے۔ وہ پوچھتا ہے، رک کر سوچتا ہے اور پھر شاید مانتا ہے۔


انہی دنوں ایک انٹرویو نظروں سے گزرا۔ سامنے ڈاکٹر اسرار احمد تھے اور سوال کر رہے تھے مبشر لقمان۔ میں نے ویڈیو اس خیال سے چلائی کہ چند مذہبی سوالات ہوں گے، کچھ جوابات ملیں گے اور بات ختم ہو جائے گی، لیکن چند ہی منٹ بعد محسوس ہوا کہ یہ عام انٹرویو نہیں۔ مبشر لقمان کے سوالات مسلسل ایک کے بعد دوسرے دروازے پر دستک دے رہے تھے اور ڈاکٹر اسرار احمد کو ہر دروازہ کھول کر جواب دینا پڑ رہا تھا۔


آدمؑ کی تخلیق سے بات شروع ہوئی، حوا کی پیدائش کا سوال آیا، آدمؑ کے نبی ہونے کی بحث ہوئی اور پھر وہ بات سامنے آئی جس نے مجھے خاص طور پر متوجہ کیا۔ ہمارے معاشرے میں مذہب کے نام پر بہت سی ایسی باتیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں جنہیں ہم قرآن کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ جب قرآن کھول کر دیکھا جائے تو بعض تفصیلات وہاں موجود ہی نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے اسی فرق کی طرف توجہ دلائی کہ روایت اور قرآن کو ایک ہی درجے پر رکھ دینا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔


میں یہ سب سنتا رہا اور سوچتا رہا کہ شاید مذہب کے ساتھ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے سوال پوچھنے کی عادت چھوڑ دی ہے۔ ہم نے کچھ باتیں سنیں، انہیں سچ مانا اور پھر اگلی نسل کو بھی وہی باتیں منتقل کر دیں۔ تحقیق کہیں راستے میں رہ گئی۔ پھر گفتگو بیت المقدس اور قبلۂ اوّل کی طرف چلی گئی۔


یہاں مبشر لقمان کے سوالات نے گفتگو کو اچانک ایک مختلف سطح پر پہنچا دیا۔ بیت المقدس مسلمانوں کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ خانۂ کعبہ اور بیت المقدس کے درمیان تاریخی اور مذہبی تعلق کیا ہے؟ قبلہ تبدیل کیوں ہوا؟ یروشلم اسلامی تاریخ میں کہاں کھڑا ہے؟ اور پھر ایک لمحہ ایسا آیا جس نے مجھے روک لیا۔یروشلم سے متعلق ایک سوال پر ڈاکٹر اسرار احمد بھی ایک لمحے کے لیے ٹھہرے۔ یہ میرے لیے اس انٹرویو کا سب سے دلچسپ لمحہ تھا۔


اس لیے نہیں کہ کوئی عالم سوال کے جواب میں رک گیا تھا، بلکہ اس لیے کہ ہم عام طور پر علماء کو ایسے کرداروں کے طور پر دیکھتے ہیں جن کے پاس ہر سوال کا جواب پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ لیکن شاید علم کا حسن یہ نہیں کہ انسان ہر سوال کا جواب فوراً دے دے؛ علم کا حسن یہ ہے کہ انسان کو یہ احساس بھی ہو کہ کون سا سوال کتنا بڑا ہے۔


سقراط کے سامنے بھی لوگ سوال لے کر جاتے تھے۔ وہ جواب دینے کے بجائے سوال کو مزید گہرا کر دیتا تھا۔ افلاطون نے مکالمے لکھے تو وہاں بھی حقیقت ایک ہی جملے میں نہیں ملتی تھی۔ ارسطو نے دنیا کو منطق کے پیمانے سے دیکھنے کی کوشش کی۔ شاید اسی لیے فلسفہ مجھے ہمیشہ مذہب کے قریب لے جاتا ہے، مذہب سے دور نہیں۔ کیونکہ دونوں انسان کو رک کر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، اگرچہ دونوں کے طریقۂ کار مختلف ہیں۔


مبشر لقمان کے اس انٹرویو میں مجھے سب سے زیادہ دلچسپی اسی چیز نے دی کہ سوال پوچھے جا رہے تھے۔ اور سوال کبھی معمولی چیز نہیں ہوتا۔ سوال بعض اوقات پورے عقیدے کو ہلا دیتا ہے، کبھی صرف ہماری لاعلمی کو بے نقاب کرتا ہے اور کبھی ہمیں اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں ہمیں پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم آخری حقیقت سمجھ رہے تھے، شاید وہ صرف ہماری اپنی بنائی ہوئی تعبیر تھی۔


گفتگو آگے بڑھی تو بات صرف آدمؑ، حوا یا بیت المقدس تک محدود نہ رہی۔ مسلم امہ کے زوال، اسلامی نظام، ریاست، جمہوریت اور اللہ کی حاکمیت جیسے بڑے سوال بھی سامنے آئے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کا مؤقف واضح اور سخت تھا کہ اسلام میں حاکمیتِ مطلقہ اللہ تعالیٰ کی ہے، جبکہ جدید جمہوری تصور میں اقتدار کی بنیاد عوامی حاکمیت پر رکھی جاتی ہے۔ یہاں اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور شاید ہونی بھی چاہیے، لیکن ان کی بات نے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کیا کہ اگر ہم اسلام کو صرف ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات سمجھتے ہیں تو پھر ریاست، قانون اور سیاست کے بارے میں ہمارا عملی تصور کیا ہے؟


ڈاکٹر اسرار احمد مسلمانوں کے زوال کو صرف سیاسی شکست نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک مسئلہ اس سے کہیں گہرا تھا۔ وہ ایک ایسی فکری اور عملی جدوجہد کی بات کرتے تھے جس میں تبدیلی کا آغاز انسان کے اندر سے ہو اور پھر معاشرہ تبدیل ہو۔ مکہ سے مدینہ تک رسول اللہ ﷺ کی جدوجہد کو وہ اسی انقلاب کے ایک نمونے کے طور پر پیش کرتے تھے۔


لیکن یہاں ایک سوال پھر میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔ کیا ہم واقعی انقلاب چاہتے ہیں یا صرف اقتدار؟ کیونکہ انقلاب اور اقتدار دو مختلف چیزیں ہیں۔ اقتدار کرسی بدلتا ہے، انقلاب انسان بدلتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر اسرار احمد کی گفتگو محض ایک مذہبی اسکالر کی گفتگو نہیں رہتی بلکہ ایک فکری سوال بن جاتی ہے۔ وہ ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ مسلمان ہونے کا مطلب ہمارے لیے صرف ایک شناخت ہے یا ایک ذمہ داری بھی؟


انٹرویو کے آخر میں جب ڈاکٹر اسرار احمد اپنی زندگی، قرآن کے مطالعے اور تنظیمِ اسلامی کے قیام کی بات کرتے ہیں تو مجھے محسوس ہوا کہ ایک شخص اپنی پوری زندگی ایک سوال کے پیچھے لگا رہا تھا: قرآن کو صرف پڑھا جائے یا سمجھا بھی جائے؟ اور اگر سمجھا جائے تو پھر اس سمجھ کو زندگی میں اتارا کیسے جائے؟ مجھے نہیں معلوم کہ اس انٹرویو میں کہی گئی ہر بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ شاید نہیں۔ کسی بھی سنجیدہ گفتگو کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ہر بات پر سر ہلا دیں۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ گفتگو ختم ہونے کے بعد ہمارے اندر کچھ باقی رہ جائے۔


میرے اندر سوال باقی رہ گئے۔ اور شاید یہی مبشر لقمان کے اس انٹرویو کی سب سے بڑی خوبی تھی کہ ڈاکٹر اسرار احمد جیسے بڑے عالم کو سننے کے بعد بھی میرے ذہن میں جو چیز سب سے زیادہ گونجتی رہی، وہ کوئی جواب نہیں بلکہ ایک سوال تھا۔ ہم جن باتوں کو نسلوں سے سچ سمجھ کر دہراتے آئے ہیں، ان میں سے کتنی واقعی قرآن کی آواز ہیں اور کتنی صرف ہماری عادت؟ شاید انسان کی فکری زندگی اسی دن شروع ہوتی ہے جب وہ یہ سوال پوچھنے کی ہمت کر لیتا ہے۔