مقدس مقامات جنگ کی سرخ لکیر ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی
مکہ و مدینہ: امتِ مسلمہ کا مشترکہ روحانی ورثہ، تنازعات سے بالاتر

مدینہ منورہ سے متعلق حالیہ خبروں نے مسلم دنیا میں گہری تشویش پیدا کی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایک بجلی کی تنصیب، جو مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرتی ہے، ڈرون حملے کا نشانہ بنی، جبکہ حوثی تحریک نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ حقیقت جو بھی ہو، ایک بات غیر متنازع ہے: مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کسی بھی جنگ، تنازع یا عسکری پیغام رسانی کا میدان نہیں بن سکتے۔
دنیا کی تقریباً دو ارب مسلم آبادی کے لیے یہ دونوں شہر محض جغرافیائی مقامات نہیں بلکہ ایمان، عقیدت اور روحانی وابستگی کی علامت ہیں۔ ہر سال لاکھوں افراد حج اور عمرے کے لیے یہاں آتے ہیں، جبکہ اربوں مسلمان روزانہ اپنی دعاؤں اور عبادات میں ان مقدس مقامات کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ان شہروں یا ان سے وابستہ بنیادی تنصیبات کا نام بھی کسی عسکری کارروائی کے ساتھ جڑ جانا عالمی سطح پر اضطراب پیدا کرتا ہے۔
حوثی تحریک یمن کی ایک طاقتور مسلح اور سیاسی قوت ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے یمن کے تنازع کا مرکزی فریق رہی ہے۔ متعدد بین الاقوامی حکومتیں اور ادارے اسے ایران کے قریب تصور کرتے ہیں، جبکہ ایران اور حوثی قیادت اپنے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں مختلف مؤقف پیش کرتے رہے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یمن کی جنگ اب ایک مقامی تنازع سے بڑھ کر وسیع تر علاقائی کشمکش کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اصل خطرہ صرف ایک حملہ نہیں بلکہ وہ رجحان ہے جس میں جنگوں کی جغرافیائی حدود مسلسل پھیل رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتوں میں سعودی توانائی تنصیبات، بحری راستوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق واقعات نے پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔
بین الاقوامی برادری، مسلم ممالک اور تمام علاقائی قوتوں کو اس اصول پر متفق ہونا چاہیے کہ مقدس مقامات، عبادت گاہیں اور ان سے وابستہ شہری تنصیبات ہر قسم کے عسکری تصادم سے مکمل طور پر محفوظ رہیں۔ یہ صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں، نہ ہی کسی ایک فرقے یا ملک کا معاملہ ہے؛ یہ پوری امتِ مسلمہ اور عالمی مذہبی ورثے کے احترام کا سوال ہے۔
جنگیں اکثر سیاسی مقاصد کے لیے لڑی جاتی ہیں، لیکن جب ان کے سائے مقدس مقامات تک پہنچنے لگیں تو یہ صرف ایک فریق یا ایک ریاست کا نقصان نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ روحانی سرمائے کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ مکہ اور مدینہ کو ہر حال میں تنازعات کی آگ سے دور رکھنا آج کی سب سے بڑی اجتماعی ذمہ داری ہے۔





