ندیم محبوب کو سیکرٹری صحت کا اضافی چارچ،سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندرکو بچانے کی کوشش

وزارتِ قومی صحت ایک بار پھر مستقل سیکریٹری سے محروم ہوگئی وہیں سابق ایگزیکٹو ڈایکٹر پمز رانا عمران سکندر اور انکے ساتھیوں کو تحفظ دینے کی کوششوں کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے
سیکریٹری وفاقی تعلیم ندیم محبوب کو سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز کا اضافی چارج تفویض کر دیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس ضمن میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے 16 اکتوبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر ندیم محبوب اپنے موجودہ فرائض کے ساتھ سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز کے اضافی فرائض بھی انجام دیں گے۔ انہیں یہ چارج تین ماہ یا مستقل سیکریٹری کی تعیناتی تک، جو بھی پہلے ہو، کے لیے تفویض کیا گیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر کی تعیناتی کے ذمہ دار ندیم محبوب تھے اور اب انہیں دوبارہ سیکرٹری صحت تعینات کر دیا گیا ہے،بااثر افراد کا ایک گروپ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر اور ان کے ساتھیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔پمز کی سابق انتظامیہ کے اہم افراد، جن میں ڈاکٹر الطاف حسین اور ابوبکر کے نام شامل ہیں، کو بھی انتظامی عہدوں پر ذمہ داریاں دیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے،اس تعیناتی کے بعدسانحہ پمز کے بعد پمز میں جاری اصلاحاتی اقدامات، انتظامی تعیناتیوں اور فیصلہ سازی کے عمل کی شفافیت کے دعوے ہوا میں اڑ چکے ہیں،
دوسری جانب اسلام آباد سے صحافی و اینکر نوید ستی ایکس پر پوسٹ میں کہتے ہیں کہ وفاقی بیوروکریسی کی راہداریوں میں اس وقت شدید بے چینی اور سیاسی کشمکش کی فضا قائم ہے جہاں وفاقی وزارتِ صحت کی باگ ڈور ایک بار پھر ندیم محبوب کے سپرد کر دی گئی ہے۔ ندیم محبوب، جو اس وقت وفاقی سیکرٹری تعلیم کی ذمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے ہیں، کو وزارتِ صحت کا اضافی چارج سونپا گیا ہے، جس کے بعد اب وفاق کی دو انتہائی اہم ترین وزارتیں یعنی تعلیم اور صحت انہی کے پاس آ گئی ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے اس سينئر بیوروکریٹ کے ماضی میں ہیلتھ منسٹر اور ایم کیو ایم کے رہنما سید مصطفیٰ کمال کے ساتھ اختیارات اور پالیسی امور پر اختلافات رہے ہیں اور اب دوبارہ ان کی اسی قلمدان پر واپسی نئی بحث کا باعث بن گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تعلیم اور صحت دونوں وفاقی وزارتیں ایم کیو ایم کی اتحاد کے نتیجے میں ملی ہیں، تاہم وزیراعظم نے لاہور سے تعلق رکھنے والے اپنے بااعتماد بیوروکریٹ پر دوبارہ بھروسہ کر کے ان ایم کیو ایم وزراء کے کام کاج اور معاملات پر ایک مضبوط 'چیک اینڈ بیلنس' قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ محض چار سے پانچ ماہ کے دوران ہیلتھ منسٹری میں کم و بیش چار سے پانچ سیکرٹری تبدیل کیے جا چکے ہیں، مگر اس تمام تر انتظامی درہم برہم اور تبادلوں کے باوجود وزارت کے اندرونی معاملات سدھرنے کی بجائے مزید الجھتے دکھائی دے رہے ہیں۔





