نوجوان ،آج کا خواب،کل کی تعبیر،تحریر:پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
دنیا بدل رہی ہے۔ اتنی تیزی سے کہ کل کا سچ آج پرانا محسوس ہونے لگتا ہے۔ کبھی تعلیم کا مطلب کتابیں، استاد، کلاس روم اور ایک سند ہوا کرتا تھا۔ پھر کمپیوٹر آیا، انٹرنیٹ آیا، موبائل فون نے دنیا کو ہتھیلی پر رکھ دیا اور اب مصنوعی ذہانت انسان کے ساتھ بیٹھ کر سوچنے، لکھنے، حساب کرنے اور نئے امکانات تلاش کرنے لگی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نوجوان اب بھی صرف ایک ڈگری کو اپنے مستقبل کی ضمانت سمجھتا ہے تو شاید وہ بدلتی ہوئی دنیا کے قدموں کی چاپ سننے میں ناکام ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں روایتی تعلیم کو ترک کر دینا چاہیے؟ ہرگز نہیں!
تعلیم کی عمارت کی بنیاد کتاب ہی ہے۔ سائنس، ادب، تاریخ، فلسفہ، سماجیات اور زبانوں کا مطالعہ انسان کے ذہن کو وسعت دیتا ہے۔ ڈگری روزگار کا ذریعہ ہوسکتی ہے، مگر تعلیم انسان کو انسان بناتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارے معاشرے کو ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور ڈگری ایک چیز نہیں۔ ڈگری کسی ادارے کی طرف سے ملنے والی دستاویز ہے، جبکہ تعلیم انسان کے اندر پیدا ہونے والی بصیرت ہے۔
ہمارے نوجوانوں کو ڈگری بھی چاہیے اور بصیرت بھی۔
انہیں ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل، سائنس دان اور افسر بھی بننا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں اچھا انسان بھی بننا ہوگا۔ کیونکہ کردار سے خالی ذہانت معاشرے کے لیے ہمیشہ نعمت نہیں ہوتی۔ ذہانت اگر اخلاق سے محروم ہوجائے تو وہ تخلیق کے بجائے استحصال کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
تعلیم کے ساتھ تربیت کا عنصر بہت ضروری ہے ۔ہمارے بزرگوں کے ہاں تعلیم کے ساتھ تربیت کا تصور بھی موجود تھا۔ استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا تھا، شخصیت بھی بناتا تھا۔ گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ کردار سازی کا پہلا مدرسہ تھا۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، سچ بولنا، وعدہ نبھانا، محنت کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور اپنی ذمہ داری پوری کرنا زندگی کی بنیادی تعلیم سمجھی جاتی تھی۔
آج ہمارے نوجوان کے ہاتھ میں دنیا بھر کی معلومات موجود ہیں، مگر معلومات اور دانائی میں فرق ہے
سوشل میڈیا سرچ انجن پر ایک سوال کا جواب مل سکتا ہے، مگر زندگی کا فیصلہ گوگل نہیں کرسکتا۔ مصنوعی ذہانت معلومات فراہم کرسکتی ہے، مگر ضمیر کا فیصلہ انسان ہی کو کرنا ہوگا۔ اسی لیے جدید تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ہمیں ایسا نوجوان نہیں چاہیے جو صرف یہ جانتا ہو کہ کامیاب کیسے ہونا ہے؛ ہمیں ایسا نوجوان چاہیے جو یہ بھی جانتا ہو کہ کامیابی کے بعد انسان کیسے رہنا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تصور راسخ ہوچکا ہے کہ تعلیم مکمل کرو، ڈگری حاصل کرو اور پھر ملازمت تلاش کرو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ملازمت نہ ملے تو؟
یہیں سے ہنرمندی کا دروازہ کھلتا ہے۔
دنیا نے بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ ہر شخص کو صرف سرکاری دفتر کی کرسی نہیں مل سکتی۔ ہر نوجوان کسی بڑے ادارے میں ملازم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جدید معاشروں نے نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے پر توجہ دی۔ سولر ٹیکنالوجی، الیکٹریکل ورک، موبائل ٹیکنالوجی، آٹو موبائل، گرافک ڈیزائن، ویب ڈویلپمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فیشن، تعمیراتی شعبہ، زرعی ٹیکنالوجی اور درجنوں دوسرے شعبے ایسے ہیں جہاں ایک نوجوان اپنی صلاحیت کو روزگار میں تبدیل کرسکتا ہے۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ نوجوان کسی کے دروازے پر ملازمت مانگنے جائے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے پاس ایسا ہنر ہو جس کی ضرورت دنیا کو ہو۔
ہنر ہاتھ میں ہو تو راستے کم نہیں ہوتے۔ٹیکنالوجی سے خوف نہیں۔اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ جو قومیں ٹیکنالوجی کو سمجھیں گی وہ آگے بڑھیں گی اور جو اس سے خوفزدہ رہیں گی وہ پیچھے رہ جائیں گی۔
ہمارے نوجوانوں کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اب کوئی اضافی مضمون نہیں رہی۔ یہ زندگی کی بنیادی ضرورت بنتی جارہی ہے۔ کمپیوٹر، پروگرامنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ای کامرس اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن وہ میدان ہیں جن میں مستقبل کے بے شمار مواقع پوشیدہ ہیں۔
لیکن یہاں بھی ایک احتیاط ضروری ہے۔
موبائل فون کا مالک ہونا ٹیکنالوجی پر عبور نہیں۔ سوشل میڈیا استعمال کرنا ڈیجیٹل مہارت نہیں۔ اصل مہارت یہ ہے کہ نوجوان ٹیکنالوجی کو پیداوار، تحقیق، تعلیم، کاروبار اور تخلیق کے لیے استعمال کرے۔
اگر ہمارا نوجوان دن کا کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر گزار سکتا ہے تو وہ اسی موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے کوئی ہنر بھی سیکھ سکتا ہے۔ سوال وسائل کا کم اور ترجیحات کا زیادہ ہے۔
مصنوعی ذہانت نے دنیا کے دروازے پر دستک نہیں دی، بلکہ وہ اندر داخل ہوچکی ہے۔ اب بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ AI آئے گی یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے دور میں کہاں کھڑے ہوں گے۔
کچھ لوگ خوفزدہ ہیں کہ مصنوعی ذہانت ملازمتیں ختم کردے گی۔ ممکن ہے بعض روایتی کام کم ہوں، لیکن انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی پرانے کاموں کے ساتھ نئے کام بھی پیدا کرتی ہے۔ اصل خطرہ ٹیکنالوجی نہیں، ٹیکنالوجی سے ناواقفیت ہے۔
جو نوجوان AI کو سمجھ لے گا، اسے اپنے کام کا معاون بنائے گا اور اس کے ساتھ نئی مہارتیں پیدا کرے گا، وہ بدلتی ہوئی معیشت میں اپنے لیے نئی جگہ بنا سکتا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب روزگار کا تصور دفتر، دکان، فیکٹری یا سرکاری ادارے سے وابستہ تھا۔ اب دنیا کی ایک بڑی منڈی آن لائن وجود میں آ چکی ہے۔
پاکستان کا ایک نوجوان اپنے گھر میں بیٹھ کر بیرون ملک کسی کمپنی کے لیے گرافک ڈیزائن بنا سکتا ہے، کسی طالب علم کو آن لائن پڑھا سکتا ہے، سافٹ ویئر تیار کرسکتا ہے، تحریر لکھ سکتا ہے، ویڈیو ایڈٹ کرسکتا ہے، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرسکتا ہے یا اپنی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں فروخت کرسکتا ہے۔
یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے معمولی موقع نہیں۔
ہمارے پاس نوجوان افرادی قوت بہت ہے۔ اگر اسے معیاری تعلیم، زبان، جدید ہنر اور ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا جائے تو یہی نوجوان ملک کے لیے قیمتی معاشی سرمایہ بن سکتے ہیں۔
لیکن آن لائن دنیا میں بھی کامیابی کا راستہ شارٹ کٹ سے نہیں گزرتا۔ جعلی آن لائن ملازمتیں، دھوکا دہی، غیر حقیقی آمدنی کے دعوے اور فوری امیر ہونے کے خواب نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا سکتے ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل تعلیم کے ساتھ ڈیجیٹل شعور بھی ضروری ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنے نوجوانوں کو صرف ملازمت کے لیے تیار نہیں کیا۔ انہوں نے انہیں تحقیق، صنعت، کاروبار، ٹیکنالوجی اور تخلیق سے جوڑا۔
وہ جانتی ہیں کہ نوجوان صرف ملک کا مستقبل نہیں، ملک کی موجودہ قوت بھی ہیں۔ہمیں بھی اپنے نوجوان کو محض امتحان پاس کرنے والی مشین بنانے کے بجائے مسئلہ حل کرنے والا انسان بنانا ہوگا۔ اسے یہ سکھانا ہوگا کہ سوال کیسے اٹھایا جاتا ہے، تحقیق کیسے کی جاتی ہے، ناکامی سے کیسے سیکھا جاتا ہے اور ایک خیال کو عملی شکل کیسے دی جاتی ہے۔
ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں کتاب کے ساتھ لیبارٹری، کلاس روم کے ساتھ ورکشاپ، ڈگری کے ساتھ ہنر اور امتحان کے ساتھ عملی زندگی کو بھی جگہ دینا ہوگی۔
نوجوانوں کے لیے ایک اور بنیادی سبق یہ ہے کہ کامیابی صرف اپنی ذات تک محدود نہ رہے۔ملک سے محبت صرف قومی دن پر جھنڈا لہرانے، ملی نغمہ سننے یا تقریر کرنے کا نام نہیں۔ ملک سے محبت یہ بھی ہے کہ طالب علم ایمانداری سے تعلیم حاصل کرے، استاد دیانت سے پڑھائے، ڈاکٹر مریض کو انسان سمجھے، تاجر ملاوٹ سے بچے، ملازم اپنے فرائض پورے کرے اور نوجوان اپنی صلاحیت کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کرے۔
جو نوجوان درخت لگاتا ہے، خون کا عطیہ دیتا ہے، کسی غریب بچے کو پڑھاتا ہے، صفائی کا خیال رکھتا ہے، قانون کا احترام کرتا ہے، نفرت کے بجائے برداشت کو فروغ دیتا ہے اور اپنی مہارت دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ خاموشی سے وطن کی خدمت کررہا ہے۔قومیں صرف پارلیمنٹوں میں نہیں بنتیں؛ قومیں گھروں، اسکولوں، یونیورسٹیوں، ورکشاپس، لیبارٹریوں اور نوجوانوں کے کردار میں بنتی ہیں۔
عصر حاضر کے نوجوان کے سامنے راستے بھی بہت ہیں اور آزمائشیں بھی۔ اس کے ہاتھ میں دنیا کی معلومات ہیں، مگر اسے سمت درکار ہے۔ اس کے پاس ٹیکنالوجی ہے، مگر اسے مقصد چاہیے۔ اس کے پاس خواب ہیں، مگر انہیں حقیقت میں بدلنے کے لیے ہنر، محنت اور صبر چاہیے۔
اس لیے آج کے نوجوان کے لیے میرا پیغام ہے:
کتاب کو مت چھوڑو، مگر کتاب تک محدود بھی نہ رہو۔
ڈگری حاصل کرو، مگر ہنر کو نظر انداز نہ کرو۔
ٹیکنالوجی استعمال کرو، مگر ٹیکنالوجی کے غلام نہ بنو۔
AI سے سیکھو، مگر اپنی سوچ کو زندہ رکھو۔
ملازمت تلاش کرو، مگر روزگار پیدا کرنے کا خواب بھی دیکھو۔
دنیا سے رابطے میں رہو، مگر اپنے وطن سے رشتہ مت توڑو۔اور سب سے بڑھ کر کامیاب انسان بننے سے پہلے ایک اچھا انسان بننے کی کوشش کرو۔کیونکہ آنے والی دنیا میں شاید سب سے قیمتی چیز صرف ذہانت نہیں ہوگی، بلکہ ذہانت کے ساتھ کردار، ہنر کے ساتھ دیانت اور ترقی کے ساتھ انسانیت ہوگی۔





