استاد صرف وہ شخص نہیں جو کتاب کے صفحات پڑھاتا ہے، سبق سمجھاتا ہے اور امتحان کی تیاری کرواتا ہے، بل کہ استاد وہ معمار ہے جو انسان کے ذہن، کردار اور مستقبل کی تعمیر کرتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کو صرف الفاظ کا علم نہیں دیتا بل کہ اسے زندگی کو سمجھنے کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ اسی لیے استاد کا مقام کسی بھی معاشرے میں محض ایک پیشے تک محدود نہیں بل کہ وہ قوموں کی فکری اور اخلاقی تعمیر کا بنیادی ستون ہوتا ہے۔
انسان کی زندگی میں ماں باپ کے بعد اگر کسی شخصیت کا اثر سب سے گہرا ہوتا ہے تو وہ استاد ہے۔ والدین بچے کو زندگی دیتے ہیں مگر استاد اسے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ وہ اس کے اندر سوال کرنے کی جرات، سیکھنے کی لگن اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ ایک مخلص استاد اپنے شاگرد کی صلاحیت کو پہچانتا ہے اور اسے اس کی منزل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ کئی مرتبہ ایک استاد کا ایک جملہ پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
استاد کی عظمت کا اندازہ صرف اس کے پڑھائے ہوئے مضامین سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، ادیب، افسر اور معاشرے کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افراد کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کی محنت ضرور ہوتی ہے۔ استاد خود شاید شہرت کے بلند مقام تک نہ پہنچے، مگر وہ اپنے شاگردوں کو ان بلندیوں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہی اس پیشے کی سب سے بڑی عظمت ہے کہ استاد دوسروں کے مستقبل کو روشن کرتے ہوئے اپنی زندگی کا بڑا حصہ علم کی شمع جلانے میں صرف کر دیتا ہے۔
آج کے بدلتے ہوئے دور میں استاد کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ معلومات کے بے شمار ذرائع موجود ہیں اور مصنوعی ذہانت نے علم تک رسائی کو مزید آسان بنا دیا ہے مگر معلومات اور شعور میں فرق ہے۔ استاد ہی طالب علم کو یہ سمجھا سکتا ہے کہ معلومات کو کس طرح پرکھنا، سوال کرنا، تحقیق کرنا اور درست نتیجے تک پہنچنا ہے۔ جدید دور کا استاد صرف کتاب کا معلم نہیں، بل کہ فکری رہنما بھی ہے۔
افسوس کہ ہمارے معاشرے میں استاد کو وہ مقام اور سہولتیں ہمیشہ حاصل نہیں رہیں جن کا وہ مستحق ہے۔ اس کے باوجود بے شمار اساتذہ محدود وسائل میں بھی اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کر رہے ہیں۔ ان کی محنت کا اصل صلہ کسی ایک تنخواہ یا اعزاز میں نہیں بل کہ اس وقت ملتا ہے جب ان کا کوئی شاگرد کامیاب ہو کر معاشرے کی خدمت کرتا ہے اور اپنے استاد کو یاد کرتا ہے۔
استاد دراصل وہ چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔ اس کی عظمت صرف اس کے عہدے میں نہیں بل کہ اس کردار میں ہے جو وہ نسلوں کی تربیت میں ادا کرتا ہے۔ ہمیں استاد کا احترام صرف یومِ اساتذہ یا کسی تقریب تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بل کہ اپنے رویے، گفتگو اور عمل سے اس مقام کا اعتراف کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ایک باشعور، باکردار اور مہذب معاشرے کی بنیاد رکھنے میں استاد کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے اور رہے گا۔
مزید پڑھیں






