Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نوجوان بیرون ملک نوکری کے پیچھے کیوں؟ تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

کہتے ہیں کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان وہ طاقت ہیں جو بنجر زمینوں کو زرخیز اور اندھیروں کو روشنی میں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لیکن اجالوں کی تمنا رکھنے والا یہی سرمایہ اگر اپنے ہی گھر کو چھوڑ کر پردیس کی گلیوں میں پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو جائے، تو یہ صرف ایک ہجرت نہیں بلکہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ آج ہمارے ملک کا پڑھا لکھا، باصلاحیت اور ڈگری ہولڈر نوجوان بیرون ملک نوکری کے پیچھے دیوانہ وار بھاگ رہا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیوں ہماری دھرتی اپنے ہی بچوں کو سنبھالنے میں ناکام نظر آتی ہے؟


اس کا سب سے بڑا اور کڑوا سچ یہ ہے کہ پاکستان میں قابلیت کے باوجود نوکریاں نہیں ملتیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی وہ تلخ حقیقت ہے جہاں پیٹ پالنے کے لیے کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں چلانا بیچارے نوجوان نسل کی شدید مجبوری بن چکی ہے۔ جب میرٹ کا قتل عام ہوتا ہے اور ڈگری ہولڈر نوجوان سڑکوں پر دھکے کھاتا ہے، تو وہ متبادل راستے تلاش کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں نوجوان نسل نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشرے کی غیر اخلاقی حرکتوں سے تنگ آ کر آن لائن کام اور فری لانسنگ کا رخ تو کیا، لیکن اس "ورچوئل دنیا" کی اپنی ایک الگ کہانی ہے۔ یہاں آن لائن کام کے نام پر زیادہ تر دھوکا اور فراڈ ہے، جہاں معصوم نوجوانوں کی محنت اور پیسے لوٹ لیے جاتے ہیں۔


اگر کہیں کوئی سچا کام مل بھی جائے، تو دن رات کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھنے، راتوں کو جاگنے اور تنہائی کا شکار ہونے کی وجہ سے نوجوان نسل کی صحت پر انتہائی برے اور خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ذہنی تناؤ، ڈپریشن اور جسمانی بیماریاں ان کا مقدر بن رہی ہیں۔ یعنی اپنے ہی ملک میں رہ کر کمانے کی کوشش نوجوانوں سے ان کی صحت اور سکون بھی چھین رہی ہے۔


جب اپنے ملک میں عام نوکری ملے نہ، آن لائن کام میں دھوکے ملیں اور صحت برباد ہو جائے، تو نوجوان کے پاس باہر نکلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔ دوسری طرف، بیرون ملک نہ صرف محنت کا صلہ ڈالرز اور پاؤنڈز میں ملتا ہے، بلکہ وہاں کام کرنے کے حالات، عزتِ نفس اور سماجی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے۔ نوجوان سوچتا ہے کہ جب محنت ہی کرنی ہے، تو ایسی جگہ کیوں نہ کی جائے جہاں مستقبل اور صحت دونوں کا کوئی پرسانِ حال ہو۔


بانی و سرپرستِ اعلیٰ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سردار اشرف لسکانی صاحب کے نفسیاتی فلسفے کے مطابق، انسانی ذہن ہمیشہ تحفظ، سکون اور پذیرائی کا متلاشی رہتا ہے۔ جب ایک ذہن کو اپنے ماحول میں گھٹن، بیروزگاری اور مایوسی ملتی ہے، تو وہ بقا کی خاطر ہجرت کا فیصلہ کرتا ہے۔ نوجوانوں کا ملک چھوڑنا محض ایک شوق نہیں، بلکہ ایک ذہنی, جسمانی اور معاشی بقا کی جنگ ہے۔


آج صورتحال یہ ہے کہ جو نوجوان ہمت ہار کر یا مجبور ہو کر دیارِ غیر کا رخ کر رہے ہیں، ان کے پیچھے رہ جانے والے بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ "Best of Luck" (اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو)۔ لیکن یہ الوداعی کلمات اپنے اندر ایک گہرا دکھ چھپائے ہوئے ہیں۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس "برین ڈرین" کو روکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایسے روزگار کے مواقع پیدا کرے جہاں انہیں دھوکے بازوں سے تحفظ، صحت مند ماحول اور صحیح معاوضہ مل سکے۔ جب تک ہم اپنے نوجوانوں کو ان کی اپنی دھرتی پر عزت، روٹی، صحت اور تحفظ نہیں دیں گے، تب تک پردیس کی چمک دمک انہیں کھینچتی رہے گی۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ اگر یہ پرندے ایک بار اڑ گئے، تو وطن کے چمن کی رونقیں لوٹانا نامکن

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL