وہ ایک معمولی سا نوٹ تھا۔نہ نیا، نہ بالکل پرانا۔اس کے کناروں پر وقت کی ہلکی سی شکنیں تھیں اور درمیان میں انگلیوں کے بے شمار لمس کی دھندلی داستان۔وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی عمر کتنی ہے۔مگر اسے یہ ضرور معلوم تھا کہ وہ کتنے ہاتھوں سے گزر چکا ہے۔کسی نے اسے محبت سے تہہ کیا تھا۔کسی نے بے اعتنائی سے مٹھی میں بھینچا تھا۔
کسی نے اسے سینے سے لگا کر رکھا تھااور کسی نے اسے میز پر یوں پھینکا تھا جیسے وہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہو۔وہ انسانوں کی دنیا کا سب سے خاموش مسافر تھا۔اس کے پاس زبان نہیں تھی، مگر وہ بہت کچھ سنتا تھا۔اس کے پاس آنکھیں نہیں تھیں مگر وہ بہت کچھ دیکھتا تھا۔وہ جانتا تھا کہ بھوک کیا ہوتی ہے۔وہ یہ بھی جانتا تھا کہ لالچ کیا ہے ۔
وہ جانتا تھا کہ ایک ہی رقم کسی کے لیے دو وقت کی روٹی ہوتی ہے اور کسی دوسرے کے لیے معمولی سی بخشش۔
وہ جانتا تھا کہ انسان کی جیب بدلتے ہی پیسے کی قدر بھی بدل جاتی ہے۔
مگر ایک چیز کبھی نہیں بدلی تھی۔نوٹ نے کبھی کسی انسان سے اس کی ذات نہیں پوچھی تھی۔
صبح ایک مزدور کے ہاتھ میں اس کی آنکھ کھلی۔
بشیردھوپ میں جلی ہوئی رنگت، ہاتھوں پر پڑے چھالے، آنکھوں میں تھکن اور جیب میں چند نوٹ۔ٹھیکیدار نے مزدوری دیتے ہوئے کہا تھا۔
"لے پورے ہیں۔"
بشیر نے رقم گنی نہیں تھی۔وہ جانتا تھا کہ اگر کم بھی ہوں گے تو پوچھنے سے کچھ نہیں ملے گا۔
غریب آدمی اکثر اپنی محنت کا حساب جانتا ہے، مگر اپنی محنت کی قیمت طے نہیں کر سکتا۔
وہ نوٹ جیب میں ڈال کر گھر کی طرف چل پڑا۔
راستے میں اسے ایک دوا کی دکان نظر آئی۔
وہ رک گیا۔بیوی نے جاتے وقت کہا تھا
"واپس آتے ہوئے دوا لیتے آنا۔"
اس نے جیب پر ہاتھ رکھا۔نوٹ انگلیوں کے درمیان محسوس ہوا۔وہ اندر جانے ہی والا تھا کہ سامنے سڑک کے کنارے ایک بوڑھی عورت دکھائی دی۔وہ زمین پر بیٹھی تھی۔
اس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھی۔وہ ہر گزرنے والے کو روک کر کہہ رہی تھی
"بیٹا... دوا کے پیسے نہیں ہیں۔"
کئی لوگ گزر گئے۔
کسی نے نگاہ چرا لی کسی نے قدم تیز کر لیے۔
کسی نے جیب میں ہاتھ ڈالا، پھر شاید یاد آیا کہ اس کے پاس دینے کے لیے بہت کچھ ہے، مگر دل نہیں۔بشیر رک گیا۔بوڑھی عورت نے پرچی اس کے سامنے کر دی۔
"بیٹا، بس اتنے ہی چاہیے۔"
بشیر نے پرچی دیکھی۔
پھر اپنی جیب۔پھر دوا کی دکان۔اسے گھر یاد آیا۔بیمار بیوی یاد آئی۔خالی آٹے کا ڈبہ یاد آیا۔وہ چند لمحے خاموش رہا۔پھر اس نے وہی نوٹ بوڑھی عورت کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
"امی، دوا لے لیجیے۔"
بوڑھی عورت کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
"اللہ تمہیں خوش رکھے۔"
بشیر مسکرا دیا۔مگر اس کی مسکراہٹ میں ایک ایسا دکھ تھا جسے صرف غریب آدمی سمجھ سکتا ہے۔
وہ خالی ہاتھ گھر لوٹ گیا۔وہی نوٹ چند گھنٹے بعد ایک دوا فروش کی دراز میں تھا۔دکاندار نے نوٹ کو دیکھا۔
اسے کیا معلوم تھا کہ چند لمحے پہلے یہی نوٹ کسی غریب آدمی کے گھر کا چولہا بجھا کر آیا ہے؟
اس کے لیے وہ صرف رقم تھا۔شام کو ایک صاحب آئے۔
مہنگی گاڑی باہر رکی قیمتی عطر کی خوشبو دکان میں پھیل گئیانہوں نے دوائیں خریدیں اور نوٹوں کی ایک گڈی میز پر رکھ دی۔
دکاندار نے باقی رقم لوٹائی۔وہی نوٹ بھی ان کی جیب میں چلا گیا۔
امیر آدمی کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی جیب میں آنے والا یہ نوٹ ابھی ابھی کسی غریب کے گھر سے ایک روٹی کم کر کے آیا ہےاور نوٹ؟
وہ خاموش تھا۔وہ ہمیشہ خاموش رہتا تھاکیونکہ اگر نوٹ بولنے لگیں تو شاید انسانوں کے بہت سے راز بازاروں میں بکھر جائیں۔
رات کو وہ ایک مسجد کے چندے کے ڈبے میں پہنچا۔اگلے دن مسجد کی انتظامیہ نے چندہ نکالا۔
اسی رقم میں سے کچھ ایک غریب گھرانے کے لیے رکھی گئی۔نوٹ پھر ایک مسلمان کے ہاتھ میں تھا۔اسے دیکھ کر کسی نے نہیں پوچھا کہ اس سے پہلے یہ کہاں تھا۔پھر وہ ایک سبزی فروش کے پاس گیا۔سبزی فروش نے اسے ایک سکھ دکاندار سے ادھار چکانے میں استعمال کیا۔
وہاں سے وہ ایک ہندو تاجر کے پاس پہنچا۔
تاجر نے اسے مندر کی نذر کے لیے رکھ دیا۔پھر وہ ایک عیسائی نرس کی تنخواہ میں شامل ہوا۔نرس نے اسے بازار میں خرچ کر دیا۔پھر وہ ایک مسلمان بچے کی اسکول فیس بن گیا۔
ایک ہی نوٹ۔مختلف ہاتھ۔مختلف مذاہب۔مختلف زبانیں۔مختلف ذاتیں۔مختلف لباس۔مختلف دعائیں مگر نوٹ سب کے ہاتھ میں ایک جیسا تھا۔
اس نے کبھی کسی سے نہیں پوچھا
"تم کس خدا کو مانتے ہو؟"
اس نے کبھی نہیں پوچھا
"تمہاری ذات کیا ہے؟"
اس نے کبھی نہیں پوچھا
"تم کس طبقے سے تعلق رکھتے ہو؟"وہ صرف اتنا جانتا تھا۔ جہاں ضرورت ہے، وہاں میری قیمت ہے۔ایک دن وہ ایک بڑے تاجر کی میز پر پہنچا۔تاجر شہر کے بااثر لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔وہ مذہب، اخلاق، عزت اور معاشرتی اقدار پر لمبی لمبی گفتگو کرتا تھا۔
اپنی محفلوں میں غریبوں کی حالت پر افسوس بھی کرتا تھا اور کبھی کبھی صدقے کے نام پر چند نوٹ بھی دے دیتا تھا۔
مگر اسی میز پر اس کا ایک ملازم کھڑا تھا۔وہ ملازم پچھلے تین ماہ سے اپنی پوری تنخواہ کا منتظر تھا۔
"صاحب اگر ممکن ہو تو آج تنخواہ..."
تاجر نے فائل سے نظریں اٹھائے بغیر کہا
"اگلے ہفتے۔"
"صاحب گھر میں بچی بیمار ہے۔"
"میں نے کہا نا اگلے ہفتے!"ملازم خاموش ہو گیا۔
اسی وقت تاجر نے میز پر پڑا ایک نوٹ اٹھایا اور اسے دیکھ کر کہا
"یہ تو پرانا ہو گیا ہے۔"
اس نے نوٹ میز سے نیچے پھینک دیا۔ملازم نے جھک کر اسے اٹھا لیا۔اس نے نوٹ کو سیدھا کیا۔کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔
پھر بہت آہستہ سے بولا:
"صاحب عجیب بات ہے..."تاجر نے چونک کر اسے دیکھا۔
"کیا؟"
"یہ نوٹ آپ کو پرانا دکھائی دے رہا ہے، لیکن میرے لیے آج بھی اتنا ہی نیا ہے جتنا پہلی تنخواہ کا نوٹ تھا۔"
تاجر خاموش ہو گیا۔
ملازم نے نوٹ مٹھی میں بند کرتے ہوئے کہا
"آپ کے لیے یہ صرف ایک نوٹ ہے صاحب..."
وہ چند لمحے رکا۔
"میرے لیے یہ میری بچی کی دوا ہے۔"
کمرے میں خاموشی اتر آئی۔اس رات وہ نوٹ ایک بار پھر سفر پر نکل پڑا۔
وہ ایک غریب کے گھر پہنچا۔پھر ایک دکان۔پھر ایک اسکول۔پھر ایک ہسپتال۔پھر ایک عبادت گاہ۔پھر ایک مزدور۔پھر ایک رئیس۔وہ گھومتا رہا اور انسان؟
انسان اپنی اپنی ذاتوں، طبقوں، مذاہب اور انا کی دیواروں میں بند ہوتے گئے۔نوٹ نے سب کو قریب سے دیکھا۔اس نے دیکھا کہ امیر آدمی غریب کو حقیر سمجھتا ہے۔غریب امیر سے نفرت کرتا ہے۔ایک مذہب والا دوسرے مذہب والے سے فاصلے پر رہتا ہے۔
ایک ذات والا دوسری ذات کو کمتر سمجھتا ہےاور پھر وہی لوگ رات کو اپنی جیب میں پڑے نوٹ کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جس نوٹ کو وہ اپنی ملکیت سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل ان سے کہیں زیادہ انسانوں کا رازدار ہے۔اس نے مسجد بھی دیکھی تھی۔مندر بھی۔گوردوارہ بھی۔گرجا گھر بھی۔اس نے عید کی خریداری بھی دیکھی تھی۔دیوالی کی رونق بھی۔بیسا کھی کی خوشی بھی۔کرسمس کی روشنی بھی۔اس نے جنازوں کے اخراجات بھی دیکھے تھے۔شادیوں کے جہیز بھی بچوں کی فیس بھی۔مریضوں کی دوائیں بھی اور بھوکے لوگوں کی روٹی بھی۔اسے معلوم تھا کہ انسان نے مذہب الگ الگ بنا لیے ہیں، مگر بھوک سب کی ایک ہے۔
آنسوؤں کا کوئی مذہب نہیں۔بیماری کی کوئی ذات نہیں۔موت کسی کا شجرۂ نسب نہیں دیکھتی۔
اور روٹی...روٹی تو کسی سے شناختی کارڈ بھی نہیں مانگتی۔
ایک دن وہی نوٹ پھر بشیر کے ہاتھ میں آیا۔
بشیر نے اسے دیکھا تو بے اختیار مسکرا دیا۔
شاید اسے یاد بھی نہیں تھا کہ یہی نوٹ کبھی اس کے ہاتھ سے نکلا تھا۔
اس نے نوٹ جیب میں رکھا اور گھر پہنچ گیا۔
اس دن اس کے گھر چولہا جل رہا تھا۔
بیمار بیوی چارپائی پر بیٹھی تھی۔
بچہ اسکول کا بستہ کھول کر کتاب پڑھ رہا تھا۔بشیر نے خاموشی سے اپنی جیب ٹٹولی۔
نوٹ وہاں نہیں تھا۔وہ پھر کسی اور کے سفر پر نکل چکا تھااور شاید یہی اس کی قسمت تھی انسان نوٹ کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔
نوٹ کسی ایک کے پاس رہنا ہی نہیں چاہتا وہ چلتا رہتا ہےکیونکہ اس کا کام جمع ہونا نہیں...
ضرورت بننا ہےاور شاید انسان کو بھی کبھی اس نوٹ سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ دولت کی کوئی ذات نہیں ہوتی بھوک کی کوئی ذات نہیں ہوتی موت کی کوئی ذات نہیں ہوتی محبت کی کوئی ذات نہیں ہوتی۔ذاتیں ہم نے بنائی ہیں دیواریں ہم نے کھڑی کی ہیں۔نفرتیں ہم نے وراثت میں بانٹی ہیں۔
مگر ایک معمولی سا نوٹ...
وہ آج بھی ہماری جیبوں میں گھومتے ہوئے ہم سے ایک ہی سوال کرتا ہے:
"جب میں تمہاری مٹھی میں آتا ہوں تو تم مجھے اپنا سمجھتے ہو پھر انسان تمہیں اپنا کیوں نہیں لگتا؟"






