بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان سے محبت،تحریر: سید علی جبران شاہ

نقطہ نظر

پاکستان محض زمین کے ایک ٹکڑے، چند شہروں یا جغرافیائی سرحدوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نظریے، ایک قومی شناخت، مشترکہ تاریخ اور کروڑوں انسانوں کی امیدوں کا نام ہے۔ اس وطن کے قیام کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان سے اپنی محبت کو محض نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے کردار، محنت، دیانت داری اور قومی ذمہ داریوں کے ذریعے اس کی بقا، سلامتی اور ترقی میں عملی حصہ ڈالیں۔

پاکستان سے محبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم ریاست کو مضبوط بنانے کے لیے کام کریں۔ ریاست کی مضبوطی صرف طاقت، وسائل یا اداروں کی تعداد سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی بنیاد آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی، قومی یکجہتی، معاشی استحکام اور عوام کے اعتماد پر استوار ہوتی ہے۔ جس ریاست میں شہریوں کو انصاف ملے، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور ہر فرد کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں، وہاں قومی استحکام کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔

پاکستان کا آئین 1973ء ہمیں ایک واضح قومی راستہ دکھاتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی پابندی کو ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کے سامنے مساوی حیثیت اور قانون کے مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے پاکستان کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ شہری بھی قانون کا احترام کریں اور ریاستی ادارے بھی اپنے اختیارات آئین و قانون کے مطابق استعمال کریں۔ قانون کی بالادستی کسی ایک طبقے یا عہدے دار کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔

قومی ترقی کا ایک بنیادی ستون مضبوط معیشت ہے۔ جب تک ملک میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوں گے، صنعت و زراعت کو فروغ نہیں ملے گا، کاروبار کے لیے سازگار ماحول قائم نہیں ہوگا اور عام شہری کو بنیادی ضروریات مناسب طور پر میسر نہیں آئیں گی، اس وقت تک ترقی کے ثمرات ہر گھر تک پہنچانا مشکل رہے گا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف معاشی پالیسیوں، مؤثر انتظام، بہتر تعلیم، صحت کی سہولتوں اور نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کے مواقع پر توجہ دے۔ دوسری جانب شہریوں کو بھی محنت، پیشہ ورانہ دیانت، ٹیکس قوانین کی پابندی اور قومی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔

تعلیم اور شعور کے بغیر کوئی قوم دیرپا ترقی نہیں کرسکتی۔ آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے قانون کے مطابق مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے۔ اس آئینی تقاضے کو مؤثر انداز میں پورا کرنا پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ ہمیں ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دینا ہوگا جو نوجوانوں کو جدید علوم، تحقیق، ٹیکنالوجی، اخلاقی اقدار اور تنقیدی سوچ سے آراستہ کرے۔ یہی نوجوان مستقبل میں معیشت، سائنس، صحافت، صنعت اور قومی اداروں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ریاست کی مضبوطی کے لیے قومی اتحاد بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور روایات کا حسین مجموعہ ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان احترام، تعاون اور اعتماد کو فروغ دینا قومی استحکام کے لیے اہم ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے، برداشت اور آئینی و جمہوری طریقوں سے مسائل حل کرنے کی روایت مضبوط کرنا ہوگی۔ مذہبی و لسانی تنوع اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام بھی ایک منصفانہ اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔

اس سفر میں صحافت کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور ذمہ داری کے ساتھ عوام تک معلومات پہنچائیں، بدعنوانی اور ناانصافی کی نشاندہی کریں اور قومی مفاد سے متعلق مسائل پر بامقصد مکالمے کو فروغ دیں۔ آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت آئینی تحفظات کے ساتھ ذمہ داری بھی تقاضا کرتی ہیں۔ جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد اور غیر مصدقہ الزامات کے بجائے حقائق، دلیل اور تعمیری تنقید کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔

آخر میں، پاکستان کی بقا اور ترقی کسی ایک حکومت، ادارے، جماعت یا فرد کی تنہا ذمہ داری نہیں۔ یہ پوری قوم کا مشترکہ فرض ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کے باوجود وطن کے بنیادی مفادات پر متحد ہونا ہوگا، آئین کا احترام کرنا ہوگا، قانون کی پابندی کرنی ہوگی اور ہر سطح پر دیانت داری کو فروغ دینا ہوگا۔

پاکستان سے محبت کا بہترین ثبوت یہ ہے کہ ہم اس کے شہریوں کے حقوق کا احترام کریں، اپنے فرائض ادا کریں، قومی وسائل کی حفاظت کریں اور ایک ایسے پاکستان کی تعمیر میں حصہ لیں جہاں انصاف ہو، امن ہو، روزگار ہو، تعلیم ہو اور ہر شہری عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ مضبوط ریاست، خوش حال عوام اور متحد قوم ہی ایک ترقی یافتہ پاکستان کی حقیقی پہچان ہیں۔