پمز کا سربراہ ایک بار پھر تبدیل ، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خلیق کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کا اضافی چارج تفویض

اسلام آباد کے مرکزی سرکاری ہسپتال پمز میں اعلیٰ سطح پر انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں، پمز کے سربراہ ایک بار پھر تبدیل کر دیئے گئے، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خلیق کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کا اضافی چارج تفویض کر دیا گیا جبکہ پمز کے پروفیسر آف الیکٹرو فزیالوجی پروفیسر ڈاکٹر بریگیڈیئر (ر) عظمت حیات کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (میڈیکل) پمز کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔
وفاقی وزارت قومی صحت نے دونوں تعیناتیوں کے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں، وفاقی وزارت قومی صحت کی جانب سے جاری کردہ الگ الگ نوٹیفکیشنز کے مطابق وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے مرکزی سرکاری ہسپتال پمز کے سربراہ کو ایک بار پھر تبدیل کرتے ہوئے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خلیق کو گریڈ 21 کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے عہدے کا اضافی چارج دے دیا ہے۔
وزارت قومی صحت کے آج 5 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر تنویر خلیق 3 ماہ کیلئے یا مستقل ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی تک (جو بھی پہلے ہو) پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں ادا کریں گے، انہیں قواعد کے تحت اضافی معاوضہ بھی دیا جائے گا، نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم آفس کی 2 اکتوبر کی ہدایات کی روشنی میں یہ انتظام کیا گیا ہے، پمز کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر محمد سلمان کو قومی ادارہ صحت اسلام آباد واپس بھیج دیا گیا ہے اور انہیں فوری طور پر اپنی اصل محکمانہ ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے، نوٹیفکیشن میں ڈاکٹر سلمان کو پمز کے ای ڈی کے عہدے سے ہٹانے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے خلاف کسی تادیبی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد سلمان کو رواں برس 29 اگست کو پمز کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کی عبوری انکوائری کے بعد 8 افسران کی معطلی کے بعد ہسپتال کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، 26 اگست کو مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے، عبوری انکوائری میں فائر سیفٹی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور نومولود بچوں کے انخلا کے انتظامات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
انکوائری کے مطابق نرسری میں آگ لگنے کی صورت میں کارروائی کا منظور شدہ اور عملی طور پر مشق شدہ طریقہ کار موجود ہونے کا ثبوت نہیں ملا تھا، سانحے کے بعد پمز کو پارلیمانی ہیلتھ کمیٹیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، 14 ستمبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے حکام کو 24 گھنٹے میں سانحے پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی، 24 ستمبر کو وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پمز کے دورے کے دوران متاثرہ نرسری کی مسلسل بندش پر ڈاکٹر محمد سلمان سے وضاحت طلب کی اور اسے دوبارہ کھولنے کی ٹائم لائن مانگی تھی۔
دریں اثناء، سیکریٹری، وزارت قومی صحت کی منظوری کے بعد پمز کے پروفیسر آف الیکٹرو فزیالوجی پروفیسر ڈاکٹر بریگیڈیئر (ر) عظمت حیات کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں کے علاوہ جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (میڈیکل) پمز کا اضافی چارج دیا گیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر عظمت حیات یہ اضافی ذمہ داریاں 3 ماہ یا مذکورہ عہدے کے مستقل افسر کی دستیابی تک، جو بھی پہلے ہو، انجام دیں گے۔ انہیں قواعد کے تحت قابلِ قبول اضافی معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں

.jpg%3F2026-10-05T18%253A56%253A14.291Z&w=3840&q=75)


