قلم کی حرمت اور آئین کی پاسداری،تحریر: طاہر محمود
نقطہ نظر
قلم… بظاہر چند حروف کا مسافر ہے، مگر جب یہ سچ کی روشنائی میں ڈوب جائے تو زمانے کے چہروں سے نقاب اتار دیتا ہے۔ کبھی یہ مظلوم کی آہ بن کر ایوانوں تک پہنچتا ہے، کبھی محروم کی آواز بن کر معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور کبھی تاریخ کے سینے پر وہ حقیقت لکھ دیتا ہے جسے وقت بھی مٹا نہیں سکتا۔
قلم کی حرمت دراصل لفظ کی حرمت، سچ کی حرمت اور انسان کے ضمیر کی حرمت ہے۔
ایک صاحبِ قلم کے لیے سب سے بڑا اعزاز یہ نہیں کہ اس کے الفاظ بہت دور تک پہنچیں، بلکہ اصل اعزاز یہ ہے کہ اس کے الفاظ سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ قلم کی طاقت کسی شخصیت کو بلند کرنے یا کسی کو گرانے میں نہیں، بلکہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کے حوصلے میں پوشیدہ ہے۔
اسی مقام پر قلم اور آئین کا رشتہ اور بھی خوبصورت ہوجاتا ہے۔
آئین کسی ریاست کی محض ایک کتاب نہیں، یہ ریاست اور شہری کے درمیان ایک عہد ہے؛ حقوق کی ضمانت، ذمہ داریوں کی یاد دہانی اور قانون کی حکمرانی کا بنیادی ستون ہے۔ جبکہ قلم اس عہد کی حفاظت کرنے والا شعور ہے۔ جہاں آئین شہری کے حق کو زبان دیتا ہے، وہاں قلم اس حق کی آواز کو معاشرے تک پہنچاتا ہے۔
آئین کی پاسداری صرف آئین پڑھ لینے کا نام نہیں، اس کی روح کو سمجھنے اور اس کے اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں زندہ رکھنے کا نام ہے۔
آزادیِ اظہار بھی اسی آئینی روح کا ایک اہم حصہ ہے۔ مگر آزادی، ذمہ داری سے جدا ہوجائے تو اظہار تعمیر کے بجائے انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے قلم کار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی آزادی کو امانت سمجھے؛ خبر کو تحقیق سے، رائے کو دلیل سے اور تنقید کو اخلاق سے جوڑے۔
کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا صحافت نہیں، کسی کی کردار کشی کرنا آزادیِ اظہار نہیں، افواہ کو خبر بنا دینا قلم کی طاقت نہیں اور ذاتی پسند و ناپسند کو سچ کا معیار بنانا قلم کی حرمت کے منافی ہے۔
قلم کار کا اصل مقام وہاں ہے جہاں اسے سچ لکھنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہ ہو اور غلط کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے کسی اجازت کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
اسے اقتدار سے سوال کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے اور اپنے الفاظ کا احتساب کرنے کا ظرف بھی۔
اگر قلم حکمران سے سوال کرتا ہے تو اسے اپنے سوال کی بنیاد بھی معلوم ہونی چاہیے۔ اگر کسی ادارے پر تنقید کرتا ہے تو اس کے پاس دلیل اور تحقیق بھی ہونی چاہیے۔ اگر کسی شخص کے کردار پر بات کرتا ہے تو اسے اپنے الفاظ کی اخلاقی ذمہ داری کا احساس بھی ہونا چاہیے۔
کیونکہ قلم سے نکلا ہوا لفظ صرف پڑھا نہیں جاتا، جیا بھی جاتا ہے۔
آج کا دور رفتار کا دور ہے۔ ایک خبر لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے میں قلم اور کیمرے کے ساتھ ذمہ داری بھی پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر کسی خاندان کی عزت کو زخمی کرسکتی ہے، ایک جھوٹا الزام کسی انسان کی برسوں کی محنت کو داغ دار کرسکتا ہے اور ایک اشتعال انگیز جملہ معاشرے میں ایسی دراڑ پیدا کرسکتا ہے جسے بھرنے میں برسوں لگ جائیں۔
اس لیے آج ضرورت ایسے قلم کی ہے جو جلدی نہیں، سچ کی تلاش کرے؛ شور نہیں، شعور پیدا کرے؛ نفرت نہیں، مکالمہ پیدا کرے۔
قلم کا حسن یہ ہے کہ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیتا۔ وہ مختلف آوازوں کو سننے کا حوصلہ دیتا ہے۔ وہ سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی گنجائش بھی باقی رکھتا ہے۔ وہ معاشرے کے زخم دکھاتا ہے مگر مرہم کی تلاش بھی کرتا ہے۔
اور یہی ایک حقیقی صحافی، کالم نگار اور صاحبِ قلم کی پہچان ہے۔
آئین کی پاسداری بھی دراصل اسی شعور کا نام ہے کہ ہم اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کو بھی تسلیم کریں۔ اپنی آزادی کے ساتھ دوسرے کی آزادی کا احترام کریں۔ اپنے اختلاف کے ساتھ دوسرے کے اختلاف کو برداشت کریں اور قانون کو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے یکساں مانیں۔
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں اختلاف ختم ہوجائے؛ بلکہ وہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے، سوال کے باوجود شائستگی باقی رہے اور اختلافِ رائے کے باوجود آئین و قانون کی بالادستی قائم رہے۔
ہمیں ایسے قلم کی ضرورت ہے جو ایوانوں کے دروازے پر دستک دے تو عوام کے مسائل کی آواز لے کر جائے؛ جو محروم کے پاس بیٹھے تو اس کے دکھ کو لفظ دے؛ جو نوجوان کے ہاتھ میں آئے تو اسے شعور دے؛ اور جو تاریخ کے اوراق پر اترے تو آنے والی نسلوں کے لیے سچ کی گواہی بن جائے۔
قلم کو نفرت کا ہتھیار نہیں، محبت، شعور اور اصلاح کا چراغ بنانا ہوگا۔
کیونکہ قلم کی اصل خوبصورتی اس کی روشنائی میں نہیں، اس نیت میں ہے جس سے وہ لکھا جاتا ہے۔
اور آئین کی اصل عظمت اس کے الفاظ میں نہیں، اس احترام میں ہے جو ایک معاشرہ اس کے اصولوں کو عملی زندگی میں دیتا ہے۔
آئیے ہم عہد کریں کہ ہمارا قلم کسی کی تذلیل کے لیے نہیں، کسی کی آواز دبانے کے لیے نہیں، کسی ذاتی مفاد کی تکمیل کے لیے نہیں؛ بلکہ سچ، انصاف، انسانیت، آئین اور وطن کی سربلندی کے لیے اٹھے گا۔
ہم لفظ کو امانت سمجھیں گے، آزادی کو ذمہ داری سمجھیں گے، اختلاف کو حق سمجھیں گے اور آئین کو قومی عہد۔
کیونکہ جب قلم حرمت کا امین اور آئین پاسداری کا عنوان بن جائے تو معاشرے میں صرف تحریریں نہیں لکھتیں…
تاریخ لکھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں





