Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

راولپنڈی کے سیاسی سانحات سے آج کی قیادت کو کیا سبق ملتا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

نقطہ نظر
shehzad qureshi098

سیکیورٹی پروٹوکول سیاسی رکاوٹ نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے


سہیل آفریدی کو سمجھنا ہوگا کہ وہ صرف فرد نہیں، صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے جو لاہور پولیس نبھا رہی ہے



تجزیہ شہزاد قریشی



پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے سانحات سے بھری پڑی ہے جن کے اثرات آج بھی قومی سیاست، صوبائی تعلقات اور عوامی نفسیات پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی بڑے سیاسی رہنما یا منتخب آئینی عہدے دار کی سکیورٹی کا معاملہ سامنے آتا ہے تو ریاستی ادارے اور حکومتیں غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا سندھ اور پنجاب کے دورے کرنا، جلسوں سے خطاب کرنا اور اپنی جماعت کی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنا ایک جمہوری حق ہے۔ ہر سیاسی جماعت کو اپنی عوامی حمایت ثابت کرنے اور اپنے کارکنوں سے رابطہ رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اس حق کے ساتھ ایک اہم ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے، اور وہ ہے اپنی اور اپنے کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنانا۔ پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض سانحات صرف افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات نسلوں تک سیاسی بیانیوں کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی راولپنڈی میں ہوئی، جس کا تذکرہ آج بھی سیاسی حلقوں میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان راولپنڈی میں شہید ہوئے، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت بھی اسی شہر میں ہوئی۔ ان واقعات کے بعد برسوں تک مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں میں سوالات اور الزامات زیر بحث رہے۔اسی تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اگر پنجاب حکومت یا پنجاب پولیس کسی صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کو اضافی سکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کرتی ہے تو اسے محض ایک انتظامی یا سیاسی اقدام کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے ریاست کی آئینی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ہر منتخب نمائندے، خصوصاً ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو، کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں سکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔ ایسے حالات میں حفاظتی اقدامات کو سیاسی مخالفت یا سیاسی رکاوٹ کے بجائے قومی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن جب معاملہ انسانی جان، قومی استحکام اور آئینی عہدوں کے احترام کا ہو تو تمام فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ پنجاب پولیس کے وہ اہلکار جو ان کی حفاظت پر مامور ہیں، کسی سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے نمائندے ہیں۔ ان کی موجودگی کا مقصد سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ احتیاط ہمیشہ حادثے کے بعد ہونے والے افسوس سے بہتر ہوتی ہے۔ سیاسی قیادتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن قومی وحدت، سیاسی برداشت اور منتخب نمائندوں کی حفاظت ریاست کی مستقل ذمہ داری رہتی ہے۔ یہی طرزِ فکر پاکستان کو مزید مستحکم اور جمہوری طور پر مضبوط بنا سکتا ہے۔