بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سچ کے کٹہرے میں معاشرہ،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ جھوٹ کا وجود نہیں ہے۔ بلکہ سچ کو پہچاننے کے باوجود اسے تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ یہاں حقیقت سے زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ حقیقت کس نے بیان کی، کس کے خلاف بیان کی اور اس کے نتیجے میں کس کی عزت، مفاد یا اختیار کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔ ہم سچ کے مخالف ہونے کا اعتراف نہیں کرتے مگر اس کے لیے ایسی شرائط ضرور مقرر کر دیتے ہیں، کہ وہ ہماری دہلیز تک پہنچتے پہنچتے اپنی معنویت کھو بیٹھتا ہے۔

اگر مجھے سچ کہنے کی مکمل اجازت ہو تو میں سب سے پہلے اس منافقت سے پردہ اٹھاؤں گی جسے ہم نے معاشرتی اقدار، خاندانی روایات اور عزت کے خوب صورت نام دے رکھے ہیں۔

ہمیں سچ سے مسئلہ نہیں، ہمیں اس سچ سے مسئلہ ہے جو ہمارے مفاد کے خلاف ہو۔

ہم انصاف کی بات کرتے ہیں مگر جب انصاف ہمارے اپنے کسی عزیز کے خلاف کھڑا ہو جائے، تو دلیلیں بدلنے لگتے ہیں۔ ہم میرٹ کے حامی ہیں مگر اپنے کسی نااہل عزیز کو موقع دلانے کے لیے سفارش کو تعلقات کا نام دے دیتے ہیں۔ ہم دیانت داری کی تعریف کرتے ہیں مگر جب کوئی دیانت دار شخص ہمارے ناجائز فائدے میں رکاوٹ بن جائے تو ہمیں اس کی دیانت داری میں بھی خامیاں نظر آنے لگتی ہیں۔

یہ تضاد اتفاقی نہیں، ہماری اجتماعی سوچ کا حصہ بن چکا ہے۔ ہم اصولوں کو زندگی کا معیار بنانے کے بجائے دوسروں کو پرکھنے کا پیمانہ سمجھتے ہیں۔ اپنے ملیے رعایت اور دوسروں کے لیے سختی چاہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کردار کمزور اور منافقت مضبوط ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں عزت کا تصور بھی عجیب ہے۔ کسی لڑکی کی آواز بلند ہو جائے، تو خاندان کی عزت خطرے میں پڑ جاتی ہے مگر اسی خاندان میں اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اکثر کسی کی عزت کو مجروح نہیں کرتی۔ بیٹی سے فرمانبرداری کی توقع کی جاتی ہے مگر بیٹے کی بدتمیزی کو اس کی خودمختاری سمجھ لیا جاتا ہے۔ عورت کے لباس، گفتگو اور فیصلوں پر سوال اٹھانے والے بہت مل جاتے ہیں، لیکن اس کی تعلیم، تحفظ اور حقِ انتخاب کے لیے کھڑے ہونے والے کم دکھائی دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر عزت واقعی کردار کا نام ہے تو پھر اس کے پیمانے صنف، حیثیت اور رشتے کے ساتھ کیوں بدل جاتے ہیں؟

روایت اپنی جگہ اہم ہے مگر ہر روایت مقدس نہیں ہوتی ہے۔ جو روایت انسان کے جائز حقوق سلب کرے، ناانصافی کو تحفظ دے اور سوال اٹھانے والے کو مجرم بنا دے، اسے محض پرانی ہونے کی وجہ سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ معاشروں کی ترقی اس بات میں نہیں کہ وہ ہر پرانی چیز کو محفوظ رکھیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی اقدار کو انصاف اور اخلاق کے پیمانے پر پرکھنے کی ہمت پیدا کریں۔

ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کو کردار کے بجائے دولت، شہرت اور سماجی مرتبے سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ دولت مند کی غلطی کو کاروباری حکمتِ عملی اور غریب کی مجبوری کو نااہلی قرار دے دیا جاتا ہے۔ بااثر شخص قانون سے بچ نکلے تو اسے ذہانت کہا جاتا ہے۔ جبکہ کمزور اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے بدتمیز یا باغی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہاں انسان کی قدر اکثر اس کی ذات سے نہیں، اس کے فائدے سے متعین ہوتی ہے۔ جب تک کوئی شخص ہمارے کام آتا رہے، اس کی خامیاں نظر انداز کی جاتی ہیں؛ لیکن جیسے ہی اس کے پاس دینے کو کچھ نہ رہے، اس کی موجودگی بھی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ رویہ صرف اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرتی نظام کی علامت ہے جس میں انسان کو شخصیت کے بجائے وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ہم تعلیم یافتہ ہونے پر فخر کرتے ہیں مگر تعلیم کے اصل مقصد پر کم غور کرتے ہیں۔ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، لیکن اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت کیوں نہیں بڑھتی؟ معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر فیصلوں میں انصاف کیوں کم دکھائی دیتا ہے؟ ہم بچوں کو اچھے نمبر تو لینے پر زور دیتے ہیں، لیکن انہیں اچھا انسان بننے، غلطی تسلیم کرنے اور کمزور کا حق پہچاننے کی تعلیم کیوںنہیں دیتے ہیں؟

تعلیم اگر انسان میں سوال کرنے کی صلاحیت، دلیل سننے کا حوصلہ اور اپنی غلطی درست کرنے کی آمادگی پیدا نہ کرے تو اس کی افادیت محدود رہ جاتی ہے۔ علم کا مقصد محض معاشی ترقی نہیں، شعور کی تعمیر بھی ہے۔

اور شاید ہمارا سب سے بڑا خوف بھی یہی ہے: ہمیں ایسے انسان نہیں چاہئیں جو صرف سوال کریں، بلکہ ایسے انسان چاہئیں جو ہمارے جوابوں کو بھی درست مانیں۔ اسی لیے سچ بولنے والے کی بات سننے سے پہلے اس کی حیثیت دیکھی جاتی ہے۔ اگر وہ بااثر ہو تو اس کی تلخ بات کو حقیقت پسندی کہا جاتا ہے، اور اگر وہ کمزور ہو تو اسی بات کو گستاخی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں سچ کی صداقت کا فیصلہ دلیل سے نہیں، بولنے والے کی سماجی حیثیت سے ہونے لگتا ہے۔ لیکن سچ کی معنویت اس بات سے تبدیل نہیں ہوتی کہ اسے کسی طاقت ور نے یا کسی بے اختیار نے بیان کیا ہے۔ دلیل کو بولنے والے کے مرتبے سے نہیں، بلکہ اس کے حق یا مخالفت میں پیش کیے گئے شواہد سے پرکھنا چاہیے۔ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بے باکی کا مطلب ہر شخص کو برا بھلا کہنا نہیں، اور سچ گوئی کا مطلب دوسروں کی تذلیل کرنا بھی نہیں ہے۔ حقیقی بے باکی وہ ہے جو اپنے مفاد کے خلاف بھی درست بات کہنے کا حوصلہ رکھے۔ اگر ہماری تنقید صرف مخالفین کے لیے ہے اور اپنے حلقے کی غلطیوں پر ہماری زبان خاموش ہو جاتی ہے تو یہ حق گوئی نہیں، محض گروہی وفاداری ہے۔ معاشرے کی اصلاح دوسروں کے احتساب سے شروع ضرور ہو سکتی ہے، لیکن اس کی تکمیل خود احتسابی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

میں کسی ایسے معاشرے کا خواب نہیں دیکھتی جہاں اختلاف نہ ہو، غلطیاں نہ ہوں یا ہر شخص ہر حقیقت کو فوراً تسلیم کر لے۔ میں ایسے معاشرے کی خواہش رکھتی ہوں جہاں سوال کو جرم، اختلاف کو دشمنی اور سچ کو بے ادبی نہ سمجھا جائے؛ جہاں کسی انسان کی عزت اس کے خاندان، دولت یا اثرورسوخ سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے پہچانی جائے۔ کیونکہ جب معاشرہ سوال کرنے والوں کو خاموش اور خوشامد کرنے والوں کو معتبر سمجھنے لگے، تو وہاں غلطیاں صرف جنم نہیں لیتیں بلکہ نسل در نسل منتقل بھی ہوتی ہیں۔

ممنوعہ سچ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کو ہمیشہ برے لوگوں نے نقصان نہیں پہنچایا؛ بہت سے نقصان ان اچھے سمجھے جانے والے لوگوں کی خاموشی سے بھی ہوئے ہیں، جو حقیقت جانتے تھے مگر اپنے مفاد، تعلقات یا عزت کے خوف سے بولنے کو تیار نہیں تھے۔ اب سوال یہ نہیں کہ سچ کون بولے گا۔ بلکہ یہ ہے کہ ہم سچ سننے کے لیے کتنے تیار ہیں؟

کیونکہ معاشرے اس دن نہیں بدلتے جب صرف ایک شخص سچ بولتا ہے؛ وہ اس دن بدلنا شروع ہوتے ہیں، جب سچ سننے والے اپنے تعصبات پر نظرثانی کرنے، اپنی غلطی تسلیم کرنے اور درست بات کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ اور شاید یہی وہ سچ ہے جس سے ہم سب سے زیادہ گریز کرتے ہیں: ہم تبدیلی چاہتے ہیں مگر اکثر اس قیمت پر نہیں جو تبدیلی ہم سے خود بدلنے کی صورت میں وصول کرتی ہے۔