شادی کیوں نہیں کرتے یا کیوں نہیں ہوتیں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک ایسے گہرے خاندانی اور سماجی بحران کی لپیٹ میں ہے جس کی بازگشت ہر دوسرے گھر سے سنائی دے رہی ہے۔ یہ بحران شادیوں میں بے پناہ تاخیر، نوجوان نسل کی شادی سے بیزاری اور مناسب رشتوں کے فقدان کا ہے۔ ماضی کے برعکس، جہاں نکاح کو بلوغت کے فوراً بعد زندگی کا ایک لازمی اور سہل مرحلہ سمجھا جاتا تھا، آج یہ مرحلہ خوف، غیر یقینی اور پیچیدہ شرائط کا میدان بن چکا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی تیس اور پینتیس کی عمر عبور کر رہے ہیں مگر گھر بسانے کی نوبت نہیں آ رہی۔ اگر اس پورے منظرنامے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس بحران کے اسباب کسی ایک فریق تک محدود نہیں بلکہ عورت اور مرد دونوں کے اپنے اپنے جبر، خدشات اور ترجیحات اس تعطل کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
خواتین کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو سب سے پہلے وہ وجوہات سامنے آتی ہیں جن کے باعث ان کی شادیاں ہو نہیں پاتیں۔ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی ستم ظریفی لڑکی کا رنگ، قد اور عمر کے سخت ترازو میں تولا جانا ہے۔ لڑکی اگر ذرا سانولی ہو، قد چھوٹا ہو یا اس کی عمر پچیس سال سے اوپر نکل جائے تو رشتہ دیکھنے والے اسے فوراً مسترد کر دیتے ہیں۔ والدین کے پاس بھاری بھرکم جہیز، الیکٹرانکس اور زیورات دینے کی سکت نہ ہونا بیٹی کے گھر بیٹھے بوڑھے ہونے کی ایک کڑوی حقیقت ہے۔ اس پر خاندانی انا، برادری اور ذات پات کی قدغنیں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں، جہاں برادری سے باہر رشتہ کرنا حرام اور اندر موزوں رشتہ موجود نہیں ہوتا۔
دوسری جانب اب خواتین کی ایک بڑی تعداد خود بھی اپنی مرضی سے شادی مؤخر کر رہی ہے یا کرنے سے کتراتی ہے۔ موجودہ دور کی لڑکی تعلیم حاصل کر چکی ہے اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو کر خود مختار زندگی گزار رہی ہے۔ وہ اپنے اردگرد گھریلو تشدد، ساس بہو کے نہ ختم ہونے والے جھگڑوں اور طلاقوں کی شرح دیکھ کر خوفزدہ ہے۔ عورت یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ برسوں کی محنت سے بنی اس کی اپنی شناخت اور آزادی ایک ایسے گھر میں جا کر کیوں فنا ہو جائے جہاں اس کی کوئی قدر نہ ہو۔ وہ سمجھوتوں کی اس روایتی زندگی سے خوف کھاتی ہے جہاں اسے محض ایک مفت کی خادمہ سمجھ لیا جاتا ہے، اور جب تک اسے اپنی سوچ کا ہم پلہ اور عزت دینے والا ساتھی نہ ملے، وہ تنہا رہنے کو ہی ترجیح دیتی ہے۔
اس تصویر کا دوسرا رخ مرد حضرات کی مشکلات اور ان کی شادی نہ ہو پانے کی رکاوٹیں ہیں۔ آج کے معاشی نظام نے مرد کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ بیروزگاری، ہوشربا مہنگائی اور غیر یقینی معاشی حالات کے باعث ایک نوجوان تیس سال کی عمر تک بھی اس قابل نہیں ہو پاتا کہ کرائے کا مکان اور گھر کا راشن باآسانی چلا سکے۔ دوسری طرف لڑکی والوں کے مطالبات آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں۔ لڑکے سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ اس کا ذاتی گھر ہو، گاڑی ہو، لاکھوں کی نوکری ہو اور وہ شادی کے شاہانہ اخراجات، بارات اور ولیمے کے پرتعیش ہالز کا بوجھ بھی اٹھائے۔ ایک عام متوسط طبقے کا نوجوان اس مادی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے اور اس کا رشتہ کہیں طے نہیں ہو پاتا۔
اسی کے ساتھ ساتھ مردوں کی ایک بڑی تعداد خود بھی شادی کے بندھن سے دانستہ طور پر بھاگ رہی ہے۔ نوجوان مرد پر اپنے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کی بھاری ذمہ داریاں ہوتی ہیں، وہ سوچتا ہے کہ نئی ذمہ داری اٹھانے سے اس کا معاشی دیوالیہ نکل جائے گا۔ علاوہ ازیں جدید طرزِ زندگی اور قانونی پیچیدگیوں نے مردوں کے دلوں میں بھی خوف پیدا کر دیا ہے۔ وہ شادی کو سکون کے بجائے ایک مستقل ذہنی تناؤ، نان و نفقہ کے تنازعات اور آزادی کی قید سمجھنے لگے ہیں۔ بعض نوجوان غیر سنجیدہ زندگی، عارضی دل لگیوں اور سوشل میڈیا کی مجازی دنیا میں اتنے گم ہو چکے ہیں کہ وہ کسی ایک رشتے کی دائمی وفاداری اور اخلاقی بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔
اس بڑھتے ہوئے تعطل کے معاشرتی زندگی پر ہولناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاندانی نظام، جو ہمارے مشرقی معاشرے کی سب سے مضبوط بنیاد تھا، تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ نوجوانوں میں شدید نفسیاتی دباؤ، تنہائی اور ڈیپریشن بڑھ رہا ہے۔ جب جائز اور پاکیزہ راستے بند یا مشکل ترین ہو جائیں تو معاشرے میں اخلاقی پستی، بے راہ روی اور غیر اخلاقی تعلقات کا دروازہ خود بخود کھل جاتا ہے۔ بزرگ والدین اپنے جیتے جی اولاد کے سر پر سہرے دیکھنے کی حسرت دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں اور گھروں کے آنگن اداسی اور بانجھ پن کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
اس سنگین بحران سے نکلنے کا واحد حل یہ ہے کہ ہم شادی کو اس کی اصل روح یعنی سادگی اور دینِ فطرت کی طرف واپس لے جائیں۔ سب سے پہلے معاشرے کو جہیز کی لعنت اور شادیوں میں دکھاوے اور شاہانہ اخراجات کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ شادی کو صرف دو بول اور مسنون نکاح تک محدود کیا جائے تاکہ کسی باپ کی کمر نہ ٹوٹے اور کسی نوجوان پر قرضوں کا بوجھ نہ چڑھے۔ والدین کو اپنی بیٹیوں کے لیے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات ترک کر کے لڑکے کی دولت کے بجائے اس کی شرافت، محنت اور کردار کو ترجیح دینی چاہیے۔ اسی طرح لڑکی کے رنگ، روپ اور عمر کے فرسودہ پیمانے توڑ کر باوقار رشتوں کو قبول کرنے کا رجحان عام کیا جائے۔ جب تک خاندان اور سماجی ادارے سادگی کو رواج نہیں دیں گے اور ریاست نوجوانوں کے معاشی استحکام کے لیے عملی قدم نہیں اٹھائے گی، تب تک یہ بند دروازے نہیں کھلیں گے اور ہمارا معاشرہ اپنی ہی بنی زنجیروں میں جکڑ کر برباد ہوتا رہے گا۔





