Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شادی میں تاخیر ، ایک خاموش ظلم،تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

ہمارے معاشرے میں کبھی بیٹے کے جوان ہوتے ہی والدین اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے تھے۔ جب لڑکا کمانے کے قابل ہوتا تو اس کی شادی کو محض ایک خواہش نہیں بلکہ زندگی کی ایک اہم ذمہ داری سمجھا جاتا۔ وسائل محدود ہوتے، گھر چھوٹا ہوتا، آمدنی زیادہ نہ ہوتی، مگر دلوں میں وسعت ہوتی تھی۔ سادگی سے نکاح ہوتا اور پھر میاں بیوی مل کر زندگی کے سفر کو آگے بڑھاتے تھے۔

مگر آج ہمارے معاشرے میں شادی کو غیرضروری طور پر مشکل اور مؤخر کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر بیٹوں سے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے اپنی بہنوں کی شادی کرو، چھوٹے بھائیوں کو "سیٹ" کرو، والدین کی ذمہ داریاں پوری کرو، گھر بناؤ، کچھ جمع کرو، پھر اپنی شادی کے بارے میں سوچنا۔ بلاشبہ والدین کی خدمت اور بہن بھائیوں کی ذمہ داری ایک قابلِ احترام جذبہ ہے، لیکن کیا اس ذمہ داری کا مطلب یہ ہے کہ ایک نوجوان اپنی پوری جوانی صرف انتظار میں گزار دے؟

وہ نوجوان جو دن بھر محنت کرتا ہے، گھر کی ضروریات پوری کرتا ہے، والدین کا سہارا بنتا ہے اور بہن بھائیوں کے مستقبل کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، اس کے دل میں بھی کچھ خواب ہوتے ہیں۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی اپنی ایک فیملی ہو۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ جب دن بھر کی تھکن لے کر گھر واپس آئے تو کوئی اس کا انتظار کر رہا ہو، کوئی اس کے آنے پر خوش ہو، اس کی تھکن بانٹے، اس کی بات سنے اور اس کے لیے گھر محض چار دیواری نہیں بلکہ سکون کی جگہ بن جائے۔

یہ خواہش کوئی غلط خواہش نہیں۔ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔

مگر بعض اوقات والدین یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ بیٹا صرف کمانے والا فرد نہیں، ایک انسان بھی ہے۔ اس کے بھی جذبات ہیں، خواہشات ہیں اور اپنی زندگی کے خواب ہیں۔ اگر اسے مسلسل یہ کہا جائے کہ پہلے سب کی ذمہ داریاں پوری کرو، پھر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا، تو شاید ہم اس سے اس کی جوانی کا ایک بڑا حصہ قربان کرنے کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں۔


بلاشبہ بڑے بیٹے کا اپنے والدین اور بہن بھائیوں کا خیال رکھنا ایک خوب صورت روایت ہے، لیکن اسے ایسی زنجیر نہیں بن جانا چاہیے جو اس کی اپنی زندگی کے دروازے بند کر دے۔ والدین اگر استطاعت رکھتے ہوئے بھی صرف اس لیے بیٹے کی شادی مؤخر کرتے رہیں کہ پہلے چھوٹے بہن بھائیوں کو مکمل طور پر آباد کرنا ہے، تو یہ رویہ نوجوان کے لیے ایک طرح کی ناانصافی بن سکتا ہے۔

آج مسئلہ صرف شادی میں تاخیر تک محدود نہیں۔ ڈیجیٹل دور نے نوجوانوں کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ جب جائز اور ذمہ دارانہ رشتے کے راستے غیرضروری طور پر طویل کر دیے جائیں اور نوجوان جذباتی طور پر تنہا ہو تو بعض لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے غیرمناسب تعلقات میں پھنس جاتے ہیں۔ ابتدا میں بات چیت اور جذباتی وابستگی ہوتی ہے، پھر نجی تصاویر یا ویڈیوز کا تبادلہ اور بعض اوقات بلیک میلنگ جیسے سنگین مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔


اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غلط تعلقات یا غلط اعمال کا ذمہ دار والدین کو قرار دے دیا جائے۔ انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، اور نوجوانوں کی تربیت بھی بے حد ضروری ہے۔ لیکن والدین کو بھی اپنے فیصلوں کے ممکنہ اثرات کو سمجھنا چاہیے۔ اولاد کو غلط راستوں سے بچانے کے لیے صرف نصیحت کافی نہیں، بلکہ جائز راستوں کو بھی آسان بنانا ضروری ہے۔


ہمیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ شادی صرف اس وقت ہونی چاہیے جب لڑکا ہر لحاظ سے مکمل طور پر "سیٹ" ہو۔ زندگی کبھی مکمل طور پر سیٹ نہیں ہوتی۔ گھر بسانے والے دو انسان مل کر بہت سی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں اور رفتہ رفتہ اپنی زندگی بہتر بناتے ہیں۔


والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹے کی شادی کو بہنوں اور بھائیوں کی شادی کے ساتھ مشروط نہ کریں۔ اگر بیٹا ذمہ دار ہے، مناسب روزگار رکھتا ہے، اپنی ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہے اور اچھے کردار کا حامل ہے تو اس کی زندگی کے بارے میں بھی بروقت فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، مگر ہر فرد کو اپنی زندگی بسانے کا حق بھی حاصل ہے۔


اسی طرح نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ شادی صرف تنہائی دور کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک عہد اور ذمہ داری ہے۔ انہیں اپنے کردار، روزگار، اخلاق اور ذمہ داری کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔


ہمیں دولت، مکان، گاڑی اور معاشرتی نمود کے پیچھے بھاگتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گھر آسائشوں سے نہیں، انسانوں سے بنتا ہے۔ اگر ہم اپنی اولاد کو وقت پر ایک جائز، باعزت اور ذمہ دارانہ رشتے کا موقع دے سکتے ہیں تو محض معاشرتی معیار اور غیرضروری توقعات کی خاطر اسے برسوں مؤخر کرنا مناسب نہیں۔


والدین کی خدمت یقیناً سعادت ہے، مگر بیٹے کی پوری زندگی کو صرف دوسروں کی ذمہ داریوں کے نام کر دینا بھی انصاف نہیں۔ جس بیٹے نے گھر کے لیے اپنی جوانی لگائی ہو، شاید اسے بھی حق ہے کہ اس کے گھر میں کوئی اس کا منتظر ہو، اس کی تھکن کو سمجھے اور اسے یہ احساس دے کہ اب یہ گھر صرف اس کی ذمہ داری نہیں، اس کا اپنا سکون بھی ہے۔