بہت پرانی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں میں زید نام کا ایک بارہ سالہ لڑکا رہتا تھا۔ زید بہت ذہین تھا مگر اسے ایک عادت تھی وہ ہمیشہ شکایت کرتا رہتا تھا۔ کبھی کہتا "کاش میں امیر ہوتا"، کبھی کہتا "کاش میرے پاس زیادہ کھلونے ہوتے"، اور کبھی کہتا "کاش میں چاند اور ستاروں کے پاس جا سکتا"۔
اس کی دادی جان اکثر اسے سمجھاتیں: "بیٹا، جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس پر شکر کرو۔" مگر زید کے دل میں یہ بات پوری طرح نہیں اترتی تھی۔
ایک رات، جب پورا گاؤں سویا ہوا تھا، زید اپنے گھر کی چھت پر لیٹا آسمان دیکھ رہا تھا۔ آسمان ستاروں سے جگمگا رہا تھا۔ اچانک اسے ایک روشن ستارہ نظر آیا جو باقی سب سے زیادہ چمک رہا تھا۔ زید نے حیرت سے کہا:
"کاش میں تمہارے پاس آ سکتا اور دیکھ سکتا کہ وہاں کیسی زندگی ہے۔"
اسی لمحے، ستارے سے ایک نرم روشنی نکلی اور زید کے سامنے ایک چمکیلی مخلوق ظاہر ہوئی۔ اس کا نام نورین تھا، وہ ستاروں کی دنیا کی رہنما تھی۔
"زید،" نورین نے مسکراتے ہوئے کہا، "تم نے مجھے بلایا، تو آؤ، میں تمہیں ستاروں کے پار کی سیر کراتی ہوں۔ مگر یاد رکھو، ہر جگہ تمہیں ایک سبق ملے گا۔"
زید خوشی سے اچھل پڑا اور نورین کا ہاتھ تھام لیا۔ ایک ہی لمحے میں وہ دونوں آسمان کی بلندیوں کی طرف اڑ چلے۔
پہلا پڑاؤ: چاندنی وادی
سب سے پہلے وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جسے چاندنی وادی کہا جاتا تھا۔ یہاں چھوٹے چھوٹے چمکیلے لوگ رہتے تھے جو دن رات محنت کرتے مگر ہمیشہ خوش رہتے۔
زید نے پوچھا، "آپ لوگ اتنی محنت کے باوجود اداس کیوں نہیں ہوتے؟"
ایک بزرگ نے جواب دیا: "بیٹا، ہم جو کام کرتے ہیں اسے دل سے کرتے ہیں، اور جو کچھ ہمارے پاس ہے اس پر شکر ادا کرتے ہیں۔ شکایت کرنے سے وقت ضائع ہوتا ہے، محنت اور شکر سے زندگی خوبصورت بنتی ہے۔"
زید کو یہ بات دل میں چبھی۔ اسے یاد آیا کہ وہ خود کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکایت کرتا رہتا تھا۔
دوسرا پڑاؤ: ستارہ باغ
اگلا پڑاؤ ایک عجیب باغ تھا جہاں پھول نہیں بلکہ چھوٹے ننھے ستارے اگتے تھے۔ ہر ستارہ کسی نہ کسی بچے کی نیکی سے جنم لیتا تھا۔
نورین نے بتایا: "جب کوئی بچہ کسی کی مدد کرتا ہے، سچ بولتا ہے، یا اپنے والدین کا کہنا مانتا ہے، تو یہاں ایک نیا ستارہ اگتا ہے۔"
زید نے حیرت سے پوچھا، "کیا میرا بھی کوئی ستارہ یہاں ہے؟"
نورین ہلکا سا مسکرائی اور خاموش رہی۔ باغ کے ایک کونے میں صرف ایک چھوٹا سا، مدھم روشنی والا ستارہ تھا۔ زید سمجھ گیا کہ اسے ابھی بہت نیکیاں کرنی ہیں۔
تیسرا پڑاؤ: خالی سیارہ
آخری پڑاؤ ایک ایسا سیارہ تھا جو بالکل خالی اور اداس تھا۔ نہ کوئی درخت، نہ کوئی آواز، نہ کوئی رونق۔
زید نے پوچھا، "یہاں کوئی کیوں نہیں رہتا؟"
نورین نے آہ بھر کر کہا: "یہ ان لوگوں کی دنیا ہے جو ہمیشہ شکایت کرتے رہے، کبھی شکر ادا نہ کیا، اور اپنی زندگی کی قدر نہ کی۔ وقت گزرتا گیا اور وہ خالی ہاتھ رہ گئے۔"
زید کا دل کانپ اٹھا۔ اسے احساس ہوا کہ اگر وہ بھی اسی طرح ناشکرا رہا تو اس کی زندگی بھی ایسی ہی خالی رہ جائے گی۔
واپسی کا سفر
نورین نے زید کا ہاتھ تھاما اور کہا: "اب وقت ہے واپس جانے کا۔ مگر یاد رکھو جو کچھ تم نے دیکھا۔"
زید نے آنکھیں بند کیں، اور جب کھولیں تو وہ اپنی چھت پر لیٹا تھا۔ صبح کی روشنی پھیل رہی تھی اور پرندے چہچہا رہے تھے۔ کیا یہ خواب تھا؟ زید کو یقین نہیں آ رہا تھا، مگر اس کا دل بدل چکا تھا۔
نیا زید
اس دن کے بعد سے زید بدل گیا۔ اس نے شکایت کرنا چھوڑ دیا۔ وہ اپنی امی کے کام میں ہاتھ بٹاتا، دوستوں کی مدد کرتا، اور جو کچھ اس کے پاس تھا اس پر دل سے شکر ادا کرتا۔
کچھ عرصے بعد ایک رات وہ پھر چھت پر لیٹا آسمان دیکھ رہا تھا۔ اسی روشن ستارے کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور اس کے دل نے کہا کہ اب شاید ستارہ باغ میں اس کا ستارہ روشن ہو چکا ہو گا۔
کہانی کا سبق
شکر گزاری انسان کو حقیقی خوشی دیتی ہے۔
محنت اور نیکی سے زندگی روشن ہوتی ہے۔
ہمیشہ شکایت کرنے کے بجائے جو کچھ ہمارے پاس ہے اس کی قدر کرنی چاہیے۔
چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر بڑی روشنی بن جاتی ہیں۔
"جو شکر کرتا ہے، اس کی زندگی ستاروں کی طرح چمکتی ہے۔"
مزید پڑھیں






