ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ترقی کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، لیکن انسانی زندگی کے بنیادی تقاضے آج بھی سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ بلند عمارتیں، جدید سڑکیں، صنعتی ترقی اور بڑھتی ہوئی آبادی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی علامت ہوسکتی ہیں، مگر جب اسی معاشرے کے شہری صاف ہوا میں سانس لینے سے محروم ہوجائیں تو ترقی کے تمام دعوے اپنی اہمیت کھونے لگتے ہیں۔ پنجاب میں اسموگ کا بڑھتا ہوا مسئلہ بھی ہمارے اجتماعی شعور، حکومتی ترجیحات اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کا امتحان ہے۔
اکتوبر کے آخری دنوں میں پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی تشویش ناک صورت اختیار کر رہی ہے۔ 29 اکتوبر 2026ء کو لاہور کی فضائی آلودگی عالمی توجہ کا مرکز بنی، جبکہ گوجرانوالہ سمیت وسطی پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی آلودہ فضا شہریوں کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ یہ محض موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے اثرات انسانی صحت، روزمرہ زندگی اور مستقبل کی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔
اسموگ بنیادی طور پر دھوئیں، گردوغبار اور فضا میں موجود باریک آلودہ ذرات کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہے۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، فصلوں کی باقیات جلانا، تعمیراتی سرگرمیاں اور کچرے کو آگ لگانا اس مسئلے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جب آلودگی کے یہ عوامل سرد موسم اور ناموافق ہواؤں کے ساتھ ملتے ہیں تو فضا میں آلودہ ذرات کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور سانس لینا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ خطرہ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دمہ یا دل و پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کو لاحق ہوتا ہے۔ آنکھوں میں جلن، کھانسی، گلے کی خراش اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بچوں کے لیے اسکول جانا، کھلے میدانوں میں کھیلنا اور بزرگوں کے لیے روزمرہ معمولات جاری رکھنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صاف ہوا میں سانس لینا اب ایک بنیادی ضرورت کے بجائے خوش نصیبی بن کر رہ جائے گا؟
حکومت پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسموگ کے خلاف اقدامات کو محض موسمی مہم تک محدود نہ رکھے۔ صنعتی یونٹس کی نگرانی، گاڑیوں کے دھوئیں پر قابو، غیرقانونی بھٹوں کے خلاف کارروائی، فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام اور تعمیراتی مقامات پر گردوغبار کم کرنے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ کسانوں اور صنعت کاروں کو ماحول دوست متبادل اختیار کرنے میں عملی معاونت بھی فراہم کی جائے۔
اس کے ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے۔ شہری کچرا نہ جلائیں، گاڑیوں کی بروقت دیکھ بھال کروائیں، غیرضروری سفر کم کریں اور فضائی آلودگی شدید ہونے پر بیرونی سرگرمیوں محدود رکھیں۔ بچوں اور بزرگوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ ضرورت کے وقت اچھی معیار کی حفاظتی ماسک استعمال کرنا اور سانس کی تکلیف بڑھنے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا مفید ہے۔ تاہم انفرادی احتیاط حکومتی اقدامات کا متبادل نہیں بن سکتی۔
میڈیا، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو بھی اس مسئلے پر مسلسل آواز اٹھانی چاہیے۔ ہمیں اسموگ کو صرف چند ہفتوں کی خبر نہیں بلکہ ماحول کے تحفظ اور انسانی حقوق کے مستقل موضوع کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ صاف ہوا، محفوظ پانی اور صحت مند ماحول کسی ایک طبقے کی سہولت نہیں بلکہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہیں۔
آخر میں سوال حکمرانوں سے بھی ہے اور ہم سب سے بھی: کیا ہم آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند ماحول دے سکیں گے، یا انہیں اپنی غفلت کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کریں گے؟ اسموگ کے خلاف کامیابی بیانات سے نہیں بلکہ مستقل منصوبہ بندی، قانون پر عمل درآمد اور اجتماعی ذمہ داری سے حاصل ہوگی۔ وقت آگیا ہے کہ ہم دھوئیں کے بادلوں کو اپنی قسمت سمجھنے کے بجائے انہیں ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، کیونکہ صاف ہوا کوئی عیاشی نہیں، ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
مزید پڑھیں






