کسی انسان کو زخمی کرنے کے لیے ہمیشہ تلوار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی چند بے رحم الفاظ، ایک جھوٹا الزام اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ایک غیر مصدقہ خبر بھی اس کی روح پر ایسے زخم لگا دیتی ہے جن کا درد برسوں محسوس ہوتا رہتا ہے۔ جسم کے زخم وقت کے ساتھ مندمل ہو جاتے ہیں، مگر کردار پر لگنے والا داغ اکثر انسان کے ساتھ ساتھ اس کے خاندان کو بھی اذیت کی صلیب پر لٹکائے رکھتا ہے۔
ذرا ایک منظر دیکھیے۔ رات کا وقت ہے۔ ایک چھوٹے سے گھر میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ دسترخوان پر کھانا رکھا ہے، مگر کسی کو بھوک نہیں۔ ماں کی آنکھیں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی ہیں اور باپ کے چہرے پر ایسی بے بسی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ گھر کا نوجوان اپنے کمرے میں بند ہے۔ چند گھنٹے پہلے اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی، جس کے ساتھ ایک سنگین الزام جوڑ دیا گیا۔ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی؛ کسی نے تصدیق کے لیے ایک لمحہ نہیں نکالا۔ تبصروں میں فیصلے سنائے جانے لگے، کردار پر حملے ہوئے اور نفرت کے الفاظ ہزاروں لوگوں تک پہنچ گئے۔ماں دروازے پر دستک دیتی ہے، مگر بیٹا خاموش رہتا ہے۔ وہ شاید اپنی صفائی دینے کے لیے الفاظ تلاش کر رہا ہے، یا اس ہجوم سے خوف زدہ ہے جس نے سنے بغیر اسے مجرم قرار دے دیا۔ باپ کے دل میں ایک ہی سوال اٹھتا ہے: اگر الزام جھوٹا ہے تو میرے بچے کی عزت کون واپس کرے گا؟ اور اگر کل حقیقت سامنے آ بھی گئی تو کیا وہ تمام لوگ اپنی بات واپس لے لیں گے جنہوں نے آج اس کے کردار کو سرِعام پامال کیا ہے؟
یہ منظر فرضی ہے، مگر اس میں چھپا درد ہمارے معاشرے کے لیے اجنبی نہیں۔ آج کسی کی زندگی کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے بعض اوقات ایک تصویر، چند سیکنڈ کی ویڈیو یا ایک اشتعال انگیز پوسٹ کافی سمجھی جاتی ہے۔ سچ پیچھے رہ جاتا ہے اور افواہ سب سے آگے نکل جاتی ہے۔
اسلام نے خبر سننے، اسے آگے پہنچانے اور کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے کے معاملے میں نہایت واضح رہنمائی دی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات میں ارشادِ فرماتا ہے:
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔ (سورۃ الحجرات، 49:6)یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو حقیقت سمجھ لینا درست نہیں۔ ڈیجیٹل دور میں یہ ہدایت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ ایک جھوٹی خبر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ خبر کی تصدیق کیے بغیر اسے پھیلانے والا شخص شاید خود کو محض پیغام آگے پھنچنے والا سمجھے، مگر اس کے عمل کے نتائج کسی کی عزت، روزگار اور خاندانی زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اسی سورۃ میں اللہ تعالیٰ بدگمانی، تجسس اور غیبت سے بھی منع فرماتا ہے۔ (الحجرات، 49:12) اس رہنمائی کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کی نجی زندگی میں بلاجواز مداخلت نہ کریں، ان کے عیب تلاش نہ کریں اور کسی کی غیر موجودگی میں اس کی تذلیل کو گفتگو کا موضوع نہ بنائیں۔
قرآن مجید سورۃ النور میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ کرتا ہے جو پاک دامن لوگوں پر الزام لگاتے ہیں۔ (النور، 24:4) یہ تنبیہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی کی عزت پر حملہ معمولی بات نہیں۔ الزام لگانا آسان ہے، مگر اس کے اثرات سہنا انتہائی دشوار۔
ہم اکثر کسی کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ دوسری طرف ایک انسان موجود ہے۔ اس کے والدین ہیں، بچے ہیں، رشتے ہیں، خواب ہیں اور ایک ایسی زندگی ہے جسے وہ عزت کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے۔ ہمارے لیے کسی کی کردار کشی محض چند سیکنڈ کی سرگرمی ہو سکتی ہے، لیکن متاثرہ شخص کے لیے یہی واقعہ نیند، سکون، اعتماد اور تعلقات چھن جانے کا سبب بن سکتا ہے۔سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جھوٹ پھیلانے والے کو شاید کبھی احساس ہی نہ ہو کہ اس نے کس کے دل پر کیا گزاری۔ وہ اپنی اگلی پوسٹ میں مصروف ہو جاتا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان لوگوں کی نگاہوں، سوالوں اور سرگوشیوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ سچائی سامنے آ بھی جائے تو ہر شخص تک اس کی خبر نہیں پہنچتی۔ الزام کی آواز بلند ہوتی ہے، مگر تردید اکثر خاموشی میں گم ہو جاتی ہے۔
سوشل میڈیا نے عام انسان کو اظہار کا موقع دیا ہے۔ اس کے ذریعے ناانصافی کی نشاندہی، عوامی مسائل کی تشہیر اور مظلوم کی مدد ممکن ہوئی ہے۔ لیکن آزادیِ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو ذلیل کرنا، اس کی نجی زندگی اچھالنا یا ثبوت کے بغیر مجرم قرار دینا جائز ہو جائے۔اختلاف ضرور کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔ تنقید کیجیے، مگر تہذیب کے دائرے میں۔ اگر کسی معاملے میں واقعی جرم یا ناانصافی کا شبہ ہو تو متعلقہ حکام اور قانونی طریقۂ کار سے رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا کو اپنی ذاتی عدالت بنا کر کسی کی عزت کا فیصلہ صادر کر دیا جائے۔مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی جعلی تصاویر، آوازیں اور ویڈیوز نے اس خطرے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب ہر دکھائی دینے والی چیز کو حقیقت سمجھنا دانش مندی نہیں۔ کسی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کا اصل ماخذ تلاش کرنا اور معتبر ذرائع سے تصدیق کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف قانون میں نہیں، ہمارے رویّوں میں بھی پوشیدہ ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو ڈیجیٹل ذمہ داری سکھانی ہوگی، تعلیمی اداروں میں خبر کی تصدیق اور آن لائن اخلاقیات پر توجہ دینی ہوگی، اور ایسے مواد کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی حمایت کرنی ہوگی جو جان بوجھ کر جھوٹ پھیلائے یا کسی کی عزت کو نقصان پہنچائے۔ہر صارف اپنے آپ سے تین سوال کرے: کیا یہ خبر درست ہے؟ کیا اسے آگے بڑھانا ضروری ہے؟ کیا میرے اس عمل سے کسی بے گناہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟ اگر جواب واضح نہیں تو خاموش رہنا، جھوٹ کو پھیلانے سے بہتر ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی کی تضحیک پر ہنسنا یا اسے مزید پھیلانا بھی نقصان کو بڑھا سکتا ہے۔ جس انسان کے خلاف ہزاروں لوگ جمع ہوں، ضروری نہیں کہ وہ مجرم ہو؛ ممکن ہے وہ محض ایک بے بنیاد الزام کے سامنے تنہا کھڑا ہو۔ انصاف کا تقاضا ہجوم کے ساتھ چلنا نہیں، بلکہ حقیقت سامنے آنے تک احتیاط کرنا ہے۔
آخر میں، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کو علم، اصلاح اور خیر کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں یا اسے ایسی عدالت بننے دیں گے جہاں نہ گواہ ضروری ہوں، نہ ثبوت، نہ صفائی کا موقع—صرف الزام لگے اور سزا سنا دی جائے۔یاد رکھیے، انگلی سے دبایا گیا ایک بٹن شاید آپ کے لیے معمولی ہو، مگر کسی ماں کی نیند، کسی باپ کا سکون اور کسی انسان کا اعتماد چھین سکتا ہے۔ خبر پھیلانے سے پہلے تحقیق کیجیے، فیصلہ سنانے سے پہلے حقیقت سنیے، اور لفظ لکھنے سے پہلے اپنے ضمیر سے پوچھیے کہ اگر یہی الزام آپ کے اپنے کسی عزیز پر لگایا جاتا تو کیا آپ بھی اتنی ہی آسانی سے اسے آگے بڑھا دیتے؟کیونکہ معاشرے صرف قانون سے نہیں، کردار سے بھی محفوظ ہوتے ہیں؛ اور انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم کسی کی عزت کو اپنی تفریح اور کسی کے درد کو اپنی شہرت کا وسیلہ نہ بنائیں
مزید پڑھیں





