آج میں ان صاحبان علم و شعور سے مخاطب ہوں جن کا رزق اللہ تعالٰی نے قلم سے وابستہ کر رکھا ہے۔
قلم کی حرمت کا تحفظ کا ہم سب لکھنے والوں کے لئے لازم ہے
میرے سامنے خصوصی طور پر آج وہ نئے لکھاری ہیں جو اس وادی پر خار میں نئے نئے داخل ہوئے ہیں انہیں کس طرح کانٹوں سے اپنے دامن کو بچانا ہے۔ اور کس طرح قلم کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے
آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرح کے رسائل و جرائد، ڈیجیٹل ڈائجسٹوں میں مختلف موضوعات پر طرح طرح کی آوازیں ابھر رہی ہیں اور ایسی تحاریر منظر عام پر آ رہی ہیں جن میں سے حق و صداقت اور جھوٹ و باطل میں موازنہ کرتے ہوئے قلم کی حرمت برقرار رکھنا مشکل و محال ہو گیا ہے
قلم کی حرمت کے تحفظ کے لئے ہمیں اللہ تعالٰی کیا سمجھاتے ہیں ملاحظہ فرمائیں ۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ایک پوری سورۃ کا نام «القلم» کیوں رکھا؟!
اور اللہ تعالی نے قلم کی قسم کیوں کھائی جو ایک بظاہر معمولی سی شے ہے جسے ہم اپنی انگلیوں میں تھامتے ہیں جبکہ اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں سورج، چاند، آسمان اور ستاروں جیسی عظیم مخلوقات کی قسمیں کھائی ہیں؟
اس قلم کا کیا راز ہے کہ ربّ السمٰوات والأرض نے اس کی قسم کھائی؟!
اور اس قلم، میں کون سی ایسی عظمت پوشیدہ ہے کہ وہ ایک پوری قوم کی تاریخ کو محفوظ کر سکتی ہے، کسی نبی کے علم کو منتقل کر سکتی ہے، اور اپنے لکھنے والے کی موت کے صدیاں بعد بھی فکر و خیال کو زندہ رکھ سکتی ہے؟!
اس عظیم آیت پر غور فرمائیے:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿نٓ ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ [القلم: ۱–۴].
”ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس تحریر کی جو وہ فرشتے یا لوگ لکھتے ہیں۔ اے حبیب صلی اللہ علیہ والہ والسلم آپ اپنے رب کے فضل سے ہرگز مجنون نہیں ہیں۔ اور بے شک آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ اور بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ ترین درجے اور عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔“
کیا ہی روح فرسا اور دلوں کو ہلا دینے والی شروعات و ابتدا ہے
قسم کا آغاز نہ تو ذخیرہ کیے گئے سونے سے ہوا، نہ تلوار سے، اور نہ ہی اقتدار و تاج و تخت سے بلکہ قلم اور اس کی تحریر سے ہوا
مفسرین نے قلم کے بارے میں مختلف آراء ذکر کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد وہ تمام عام قلم ہیں جن سے مخلوق خدا لکھتی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ لوحِ محفوظ کا قلم ہے جس کا ذکر تقدیروں کے لکھنے کے ضمن میں آیا ہے۔ آیت میں ایسی کوئی شرط نہیں جو اس قسم کو صرف اسی چھوٹے قلم تک محدود کر دے جسے ہم جانتے ہیں۔
لیکن اس کے عظیم مفہوم پر غور کیجیے:
اللہ تعالیٰ ہماری توجہ 'لکھنے' کتابت کی اہمیت کی طرف مبذول فرما رہے ہیں وہ نعمت جو علم کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے، حکمت کو نسل در نسل منتقل کرتی ہے، اور انسان کے جسم کے مٹی میں مل جانے کے بعد بھی اس کے اثر کو باقی رکھتی ہے۔
کتنے ہی ایسے بادشاہ گزرے جن کے پاس لشکری طاقت و حشمت تھی لیکن ان کے نام تک بھلا دیے گئے ! آج وہ قصہ پارینہ ہیں
اور کتنے ہی ایسے علماء فقہاء شعراء و ادباء گزرے ہیں جن کے پاس قلم کے سوا کچھ نہیں تھا، مگر ان کے الفاظ کی صداقت و حرمت کے عظیم معیار ان کے انتقال کے صدیوں بعد بھی پڑھے جا رہے ہیں اور پڑھائے جا رہے ہیں ۔
کتنے ہی ایسے وجود ہیں جو دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں لیکن ان کا فلسفہ ان کا خیال آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے، جو کسی ہاتھ نے لکھا، کسی ذہن نے سوچا اور کسی قلم نے اسے تحریر کر دیا!
اس سے بھی زیادہ حیرت زدہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ
اللہ تعالٰی نے صرف قلم کا ذکر نہیں کیا، بلکہ اس کے ساتھ ان تحاریر کا بھی ذکر فرمایا جو لکھی جاتی ہیں
قلم تو محض ایک وسیلہ و ذریعہ ہے، جبکہ جو کچھ اس سے لکھا جاتا ہے وہ ایسا علم ہو سکتا ہے جو قوم کی رہنمائی کرے، یا ایسا حق ہو سکتا ہے جو کسی مظلوم کی مدد کرے، یا ایسا کلمہ حق ہو سکتا ہے جو انسان کے مقام کو بلند کر دے اور اس کے برعکس وہ ایسا باطل بھی ہو سکتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرے اور خود اپنے صاحبِ قلم کے خلاف گواہی بن جائے
اور یہی وہ مقام ہے جہاں 'الفاظ اور کلام کی ذمہ داری' ظاہر ہوتی ہے!
عظمت اس روشنائی میں نہیں جو بہتی ہے، نہ اس کاغذ میں ہے جو بھر جاتا ہے، بلکہ عظمت اس 'حق' میں ہے جو لکھا جائے، اس 'علم' میں ہے جو پھیلایا جائے، اور اس 'نقش' میں ہے جو باقی رہ کر دوام بن جائے
پھر قرآنی سیاق و سباق کی خوبصورتی دیکھیے!
قلم اور تحریر کی قسم کے فوراً بعد جوابِ قسم آتا ہے:
مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
یہ نبی اکرم ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کے جھوٹے بہتانوں سے براءت و پاکی کا اعلان ہے، اور ان کے الزامات کے مقابلے میں آپ ﷺ کے لیے ثبات و تسلی ہے۔
پھر یہ خطاب ایک عظیم ، اللہ کی گواہی تک بلند ہوتا ہے:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
اس بے مثال اور خوبصورت تناسب پر غور کیجیے: قلم اور تحریر کی قسم، پھر وحی کو اٹھانے والے رسول صلی اللہ علیہ والہ والسلم کا دفاع، اور پھر آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمہ کی تعریف و ثناء!
گویا ان معانی کے اجتماع میں ہمارے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ سچا علم اخلاق سے جدا نہیں ہونا چاہیے، اور کسی عظیم کلمے کی عظمت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں سچائی اور امانت داری شامل نہ ہو۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جہاں قرآن میں قلم کی شان کو بلند کیا گیا ہو!
بلکہ وحی کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کی طرف لوٹ کر دیکھیے:
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [العلق: ۱–۵].
”پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے زیادہ کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔“
سبحان اللہ!
وحی کی شروعات میں فرمایا: الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ جس نے قلم کے ذریعے سکھایا
سورۃ القلم میں فرمایا: وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ قسم ہے قلم کی اور جو وہ لکھتے ہیں
پس پہلے مقام پر تعلیم کی نعمت کا احسان جتانا ہے، اور دوسرے مقام پر قلم اور تحریر کی قسم و اہمیت کا بیان ہے۔
یہ علم اور کتابت کی قدر و قیمت پر، انسان جو کچھ سیکھتا اور پھیلاتا ہے اس کی ذمہ داری پر غور و فکر کی ایک عظیم دعوت ہے۔
تصور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسا قلم عطا کیا ہے جس سے آپ جو چاہیں لکھ سکتے ہیں، اور آپ کے الفاظ کسی ایسے شخص تک پہنچ سکتے ہیں جسے آپ نے کبھی نہیں دیکھا، آپ کا آج لکھا ہوا ایک جملہ آپ کے رخصت ہونے کے بعد بھی کئی سالوں تک قائم و دائم رہ سکتا ہے!
تو آپ کیا لکھیں گے؟!
کیا آپ کوئی ایسا لفظ لکھیں گے جس سے کسی کے دل کی اصلاح ہو، یا ایسا لفظ جو کسی کا دل توڑ دے؟
کیا آپ ایسا علم قلم کے ذریعے سے لکھیں گے جس سے لوگوں کو نفع پہنچے، یا ایسا باطل جو ان کی عقلوں کو فاسد کر دے؟
کیا آپ اپنے قلم کو اپنے حق میں گواہ بنائیں گے، یا اپنے خلاف؟
اپنے قلم کو معمولی نہ سمجھیں، اپنے حرف کو حقیر نہ جانیں، اور یہ گمان نہ کریں کہ جو کچھ آپ لکھتے ہیں وہ لمحہ ختم ہوتے ہی ضائع ہو جاتا ہے!
بعض اوقات ایک منٹ میں لکھا گیا لفظ کسی انسان کے لیے تمام زندگی نفع کا باعث بن جاتا ہے۔
اور بسا اوقات دل سے نکلی ہوئی ایک نصیحت کسی انسان کی اپنے رب کی طرف واپسی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اور یاد رکھیے کہ جس قلم سے آپ لکھتے ہیں وہ اس ہاتھ سے بڑا نہیں جو اسے تھامتا ہے، اور وہ ہاتھ اس عقل سے بڑا نہیں جو اسے ہدایت دیتی ہے، اور عقل کی ہدایت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ حق سے منور نہ ہو۔
پس اپنے قلم کو سچائی کی زبان، مظلوم کا مددگار، علم کی دولت کی کنجی، اور خیر کا ذریعہ بنائیے—اور اسے بہتان کا ہتھیار یا دلوں کو بگاڑنے کا راستہ نہ بنائیے۔
اگر اللہ تعالیٰ نے قلم اور اس کی تحریر کی قسم کھائی ہے، تو کیا ہمارے لیے یہ لائق و لازم نہیں کہ ہم اس نعمت کی عزت و عظمت پر غور کریں اور جو کچھ لکھتے ہیں حق لکھیں غریب محتاج اور ضرورت مند کا قلم کے ذریعے سہارا بنیں لکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈریں کہ ہمارے قلم سے کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو کسی کی حق تلفی نہ ہو جائے۔لالچ اور غرض کے دریا میں ڈوب کر اپنے قلم کی حرمت کو چند سکوں کے عوض فروخت نہ کر دیں۔
اس روش میں نئے لکھنے والوں کے لیے سخت امتحان ہے وہ کہیں لالچ حرص و ہوس کا شکار ہو کر قلم کی حرمت کو داغدار نہ بنا دیں
پھر دوسرا دباؤ یہ ہے کہ سفارش کے ساتھ اثر و رسوخ کے زیر اثر ہو کر کلمہ حق لکھنے کی ہمت اور طاقت کو کھو نہ بیٹھیں
اللہ تعالٰی ہمیں قلم کی حرمت، عزت، وقار اور عظمت کو بحال کرنے کی ہمت اور طاقت عطا فرمائیں آمین ثما آمین
مزید پڑھیں






