Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

باب المندب سے ہرمز تک توانائی کی جنگ کا نیا محاذ،تجزیہ:شہزاد قریشی

نقطہ نظر

حوثی دباؤ، سعودی تشویش اور عالمی معیشت کا امتحان

shahzad qureshi gujar khan

تیل، تجارت اور تنازع مشرقِ وسطیٰ کہاں جا رہا ہے؟



تجزیہ شہزاد قریشی




باب المندب صرف ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی یہ تنگ آبی راہداری ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے۔ آج جب آبنائے ہرمز پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے، باب المندب کے گرد پیدا ہونے والا نیا بحران پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔

حوثیوں نے گزشتہ برسوں میں ثابت کیا ہے کہ وہ محدود وسائل کے باوجود ڈرونز، میزائلوں اور سمندری کارروائیوں کے ذریعے خطے کے طاقتور ممالک کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط دکھائی دیتی ہے اور عالمی بحری راستوں پر ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا حوثیوں کی کارروائیاں جاری رہیں گی؟ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس کا مختصر جواب "ہاں" معلوم ہوتا ہے۔ جب تک یمن کے تنازع، ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی، اور خطے میں پراکسی تنازعات موجود ہیں، حوثی گروہ اپنی عسکری صلاحیت کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتا رہے گا۔

رہا سوال سعودی عرب کے ممکنہ ردعمل کا، تو اگر سعودی سرزمین، مقدس مقامات یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ریاض کے لیے خاموش رہنا مشکل ہوگا۔ تاہم سعودی قیادت ایک بڑے زمینی یا وسیع جنگی محاذ کے نقصانات سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ اسی لیے سعودی پالیسی غالباً سفارتی دباؤ، دفاعی اقدامات اور محدود عسکری کارروائیوں کے امتزاج پر مشتمل رہے گی، نہ کہ فوری طور پر ایک مکمل جنگ پر۔

اس بحران کا سب سے بڑا اثر عالمی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر خطرات بڑھنے سے تیل کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے، انشورنس اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اسی خدشے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور ترقی پذیر ممالک اٹھاتے ہیں۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو نقل و حمل، بجلی، خوراک اور صنعتی پیداوار کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجتاً مہنگائی عام آدمی تک منتقل ہو جاتی ہے۔ پاکستان سمیت بہت سے درآمدی معیشتوں والے ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک نئے معاشی امتحان کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو باب المندب کا بحران صرف یمن یا سعودی عرب کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی معیشت، توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہتی ہیں اور عسکری کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو دنیا کو ایک ایسے دور کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں توانائی کی قیمتیں، بحری تجارت اور عالمی مہنگائی سب ایک ساتھ دباؤ میں آ جائیں۔

خطے کے لیے سب سے محفوظ راستہ فوجی تصادم نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت اور علاقائی مذاکرات ہیں، کیونکہ جنگ کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، اس کے معاشی اور انسانی نتائج بھی اتنے ہی سنگین ہوں گے۔