رات گہری ہو چکی تھی اور تند و تیز ہوا نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ پرانے برآمدے کی ایک نُکڑ پر پڑی ہوئی لکڑی کی پرانی میز پر تیل کا ایک چھوٹا سا دیا جل رہا تھا، جس کی لو ہوا کے ہر تھپیڑے پر تڑپ اٹھتی، مگر بجھنے کا نام نہ لیتی۔
صادق بابا نے کانپتے ہاتھوں سے دیے کے گرد اپنی بوڑھی ہتھیلیوں کا اوٹ بنایا اور ایک لمبی سانس بھری۔ پاس ہی بیٹھا ان کا پوتا، زہیب، جو کافی دیر سے دادا کے خاموش چہرے اور اس دیے کی لو کو دیکھ رہا تھا، بول اٹھا:
"دادا جان! باہر اتنا شدید طوفان ہے، اندھیرا اتنا گہرا ہے... یہ ننھا سا دیا آخر کب تک ہوا سے لڑے گا؟ اسے بجھ جانے دیں، ویسے بھی اس ایک دیے کی روشنی سے اس اتنے بڑے اندھیرے کو کیا فرق پڑتا ہے؟"
صادق بابا کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے پیار سے زہیب کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دیے کی لو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے:
"بیٹا! یہ صرف مٹی کا پیالہ اور روئی کی بتی نہیں ہے، یہ 'وفا کا دیا' ہے۔ دنیا میں بہت سے چراغ روشنی دیتے ہیں، مگر وفا کا دیا ان سب سے جدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی لو تیل یا بتی سے نہیں، بلکہ انسان کے خلوص، ایثار اور سچائی سے روشن رہتی ہے۔ طوفان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، سچی وفا کی لو کبھی نہیں بجھتی۔"
زہیب نے حیرت سے پوچھا، "دادا جان! وفا کیا ہوتی ہے؟ کیا یہ محض بڑے بڑے وعدے کرنے کا نام ہے؟"
"نہیں۔" صادق بابا نے نفی میں سر ہلا کر کہا، "لفظوں سے محبت کا دعویٰ کرنا تو بہت آسان ہے، لیکن اصل وفا وہ عہد ہے جسے انسان اپنے کردار سے نبھاتا ہے۔ خوشیوں میں تو سب ساتھ مسکراتے ہیں، لیکن وفا وہ ہاتھ ہے جو دکھ کی گھڑی میں، آزمائش کے دشت میں تمہاری انگلیاں تھام لے۔ آج کا انسان مفاد کا غلام بن چکا ہے۔ جب تک غرض ہو، قدر کی جاتی ہے اور مقصد پورا ہوتے ہی رویوں میں برف جم جاتی ہے۔ ایسے دور میں بے غرض ہو کر کسی کا ساتھ دینا ہی وفا کے دیے کو روشن رکھنا ہے۔"
زہیب خاموشی سے دادا کی باتیں سنتا رہا۔ صادق بابا نے بات آگے بڑھائی:
"وفا کا دائرہ صرف دوستوں یا محبت کرنے والوں تک محدود نہیں ہوتا۔ ماں کا اولاد کے لیے راتوں کو جاگنا، باپ کا بچوں کی خاطر دن رات مشقت کرنا، ایک استاد کا اپنے شاگرد کو روشنی دکھانا اور وطن سے محبت کرنا... یہ سب اسی دیے کی مختلف کرنیں ہیں۔ اور جانتے ہو اس کی سب سے خوبصورت بات کیا ہے؟"
زہیب نے نفی میں سر ہلایا۔
"یہ بدلے کی امید سے آزاد ہوتی ہے۔ جو نیکی صلے کی تمنا میں کی جائے، وہ تجارت بن جاتی ہے۔ سچی وفا خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتی ہے، دوسروں کا درد بانٹتی ہے اور کسی احسان کا چرچا کیے بغیر چلی جاتی ہے۔ مگر یاد رکھنا! وفا کا مطلب اپنی عزتِ نفس کو گنوانا یا ناانصافی کو سہنا نہیں ہے۔ سچے رفیق کا فرض ہے کہ وہ اپنے پیارے کو غلط راستے پر جانے سے روکے اور حق بات کہے۔"
باہر طوفان کی شدت اور بڑھ گئی تھی، مگر دیے کی روشنی برآمدے میں ایک عجب سا اطمینان پھیلا رہی تھی۔
زہیب نے دیے کی لو کو غور سے دیکھا اور نچلے ہونٹ کو کاٹتے ہوئے کہا، "دادا جان! اگر پورا زمانہ بے وفائی پر اتر آئے اور اندھیروں کی حکومت ہو جائے، تو پھر اکیلے راستے پر چلنا کتنا مشکل ہوگا؟"
صادق بابا نے زہیب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
"زمانے کی بے وفائی سے دل شکستہ ہو کر کبھی وفا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، بیٹا۔ اندھیروں کی کثرت چراغ کی اہمیت کو کم نہیں کرتی، بلکہ اس کی ضرورت کو اور بڑھا دیتی ہے۔ اگر ہر انسان یہ سوچ کر اپنے حصے کا ایک دیا روشن کر دے، تو نفرتوں کی تاریکی خود بخود چھٹ جائے گی۔ یہ وفا کے دیے ہی ہیں جو خود جل کر دوسروں کی راہیں منور کرتے ہیں، اور انہی کی روشنی میں رشتوں کا حسن اور انسان کی بقا چھپی ہے۔"
زہیب نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر اس نے خود آگے بڑھ کر ہوا کے رخ کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے تاکہ دیے کی لو کو ہوا کا جھونکا نہ لگے۔
صادق بابا نے اپنے پوتے کے اس عمل کو دیکھا تو ان کی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک آ گئی۔ طوفان اب بھی باہر گرج رہا تھا، لیکن اس چھوٹے سے برآمدے میں وفا کا وہ ننھا دیا اب مکمل حفاظت اور شاندار تابندگی کے ساتھ جل رہا تھا۔
مزید پڑھیں






