Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وقت ضرور بدلتا ہے،تحریر: عائشہ گل

نقطہ نظر
ayeshagul

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ روٹی کا ایک ٹکڑا زندگی بدل سکتا ہے؟ تپتی دوپہر تھی، سورج آگ برسا رہا تھا اور زمین تپ رہی تھی۔ سلیم بھوکا پیاسا، خالی جیب گھر جا رہا تھا۔ کئی دن سے اسے مزدوری نہیں ملی تھی اور اس کا دل بوجھل تھا۔ اچانک اس کی نظر سڑک کے کنارے پڑی، جہاں روٹی کا ایک خشک ٹکڑا پڑا تھا۔ وہ گرد میں اٹا ہوا اور ٹوٹا ہوا تھا، لوگ اسے روند کر گزر رہے تھے اور کوئی پرواہ نہیں کر رہا تھا۔


سلیم وہیں رک گیا۔ اس نے اس ٹکڑے کو دیکھا اور دل میں خیال آیا کہ جو رزق کی قدر نہیں کرتا، اس کی قدر نہیں کی جاتی۔ اسے حدیث پاک یاد آئی کہ روٹی کی عزت کیا کرو، کیونکہ جس قوم سے یہ ایک دفعہ چلی جاتی ہے، اس کے پاس دوبارہ نہیں آتی۔ یہ حدیث سنن ابن ماجہ میں ہے۔ اس نے جھک کر بڑے ادب سے وہ ٹکڑا اٹھا لیا گرد جھاڑ کر صاف کیا، کہا یا اللہ تیرا شکر ہے، اور وہ نوالہ کھا لیا۔


سلیم کی کل کائنات بہت چھوٹی تھی، ایک بوڑھی بیمار ماں اور ایک چھوٹی بہن فاطمہ۔ اس کا باپ پہلے ہی فوت ہو چکا تھا، گھر کچا تھا اور اکثر چولہا ٹھنڈا رہتا تھا۔ وہ تینوں فاقے کاٹ لیتے تھے مگر کبھی شکوہ نہ کرتے تھے۔ وہ سجدے میں گر جاتے، اللہ کی حمد کرتے، صبر اور شکر کرتے تھے۔ ماں ہمیشہ کہتی تھی، بیٹا وقت بدل جائے گا، صبر کا دامن نہ چھوڑنا اور امید نہ چھوڑنا۔ سلیم کو اپنی ماں کی بات پر یقین تھا، اسے یقین تھا کہ یہ گھڑی گزر جائے گی اور وہ ضرور بنے گا۔ اسی یقین سے اس نے محنت شروع کی، صبح وہ گلیوں سے کچرا اٹھاتا، دن کو مزدوری کرتا اور شام کو ہوٹل پر برتن مانجھتا۔ اس کے ہاتھ چھل جاتے تھے مگر وہ رکا نہیں اور اس نے کبھی حرام کا لقمہ نہ کھایا۔


اللہ نے اس کی ایمانداری اور اس کے صبر کو دیکھا اور اس کے لیے راستے کھول دیے۔ ایک سیٹھ نے اس کی دیانت دیکھی اور اسے اپنی دکان پر رکھ لیا۔ سلیم نے دل سے کام کیا اور سیٹھ خوش ہو گیا۔ محنت کرتے کرتے دس سال گزر گئے اور آزمائش کی گھڑی ٹل گئی۔ وہی کچرا اٹھانے والا سلیم آج شہر کا بڑا بزنس مین اور بڑے گھر کا مالک بن گیا تھا۔ اس نے سب سے پہلے اپنی بہن فاطمہ کو اچھے سکول میں داخل کروایا اور نئی کتابیں لے کر دیں، بہن خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی۔ اس کی ماں اب صحت مند تھی اور گھر میں بچوں کو قرآن پاک پڑھانے لگی تھی، جبکہ سلیم خود غریبوں کو کھانا کھلانے والا بن گیا تھا۔ اس کے دروازے پر رش لگتا اور گلی سے صدا آتی کہ جلدی کرو، کوئی بھوکا نہ رہ جائے۔


ایک شام ماں چٹائی پر بیٹھی بچوں کو قرآن پڑھا کر فارغ ہوئی ہی تھی کہ سلیم آ کر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ سلیم نے کہا امی آج دل بہت بھر آیا ہے۔ ماں نے کہا، کیوں میرے لعل؟ اللہ نے تو تجھے سب کچھ دے دیا ہے۔ سلیم نے کہا، وہی تو سوچ رہا ہوں امی یاد ہے ایک وقت تھا جب ہم ایک روٹی کو ترستے تھے اور میں کچرا اٹھاتا تھا۔ ماں نے کہا، ہاں بیٹا یاد ہے، تو خالی ہاتھ آتا تھا اور میں کہتی تھی بیٹا وقت بدل جائے گا۔ سلیم نے کہا، ہاں امی اور آج دیکھو، جو رزق کو عزت دیتا ہے

اللہ تعالیٰ نے آج اسی کی بدولت مجھے عزت سے نوازا ہے کہ میں ہر دل عزیز بن چکا ہوں، یہ تو صرف ایک حدیث پر عمل کرنے کا نتیجہ تھا۔ ماں نے کہا، ہاں میرے بیٹے۔


سلیم نے پھر کہا، امی ایک بات اور سمجھ آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو وہ عطا فرماتا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ وہ نہیں دیتا جو انسان کو بہتر لگتا ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ اللہ دے نہیں رہا، حالانکہ وہ ہمیں آزما رہا تھا، ہمیں بنا رہا تھا۔ ماں نے کہا، بیشک بیٹا۔ سلیم نے کہا، امی اگر ایک بات پر عمل کرنے سے زندگی کہاں سے کہاں آ گئی تو سوچو، اگر انسان مکمل طور پر اپنے دین پر اور اپنے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت پر چلنا شروع کر دے اور کبھی بھی امید اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے تو وقت ضرور بدلتا ہے، ایک وقت آتا ہے جب سب کچھ مل جاتا ہے۔بس کبھی صبر،شکر کا دامن ہاتھ سے نا پھسلے۔


یہ سن کر ماں نے سلیم کو سینے سے لگا لیا، دونوں رو رہے تھے۔ یہ غم کے آنسو نہیں تھے، یہ شکر کے آنسو تھے۔ اس رات بھی اس گھر میں شکر کا چراغ جل رہا تھا۔جس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوئی۔