Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وہ معصوم تھی ، از قلم : عَائِشَہ گُل

ayeshagul

وہ معصوم تھی
روند دی گئی
اس کی فریاد سنی نہ گئی

بارہا پکارتی رہی
مدد کو
لیکن اس کی آواز دبا دی گئی

درندوں کی بھیڑ میں
وہ اکیلی ہوئی قید
پھر وہ شکار ہونے لگی

بارہا چیخی بچا لو
لیکن انسانیت تک آواز نا گئی

وہ لڑکھڑاتی تھی
گرتی تھی
سنبھلتی تھی
لیکن اپنی جان بچا نا سکی۔

خاک آلود پیشانی لیے
آسمان کی طرف
نظر اٹھاتی تھی

وحشت بھری نظروں سے
اک موت اس پر طاری ہوئی
بقیہ جو سانسیں بچی تھیں
وہ درندگی کی نذر کر دی گئیں

بند ہوتی آنکھوں سے
دل سے فریاد کرنے لگی
اے ربِ کعبہ کیا
اسی لیے میں بچائی گئی”

"دورِ نبی میں تھی جو جہالت
وہ پھر سے ظاہر ہونے لگی

زندہ بچانے والی بچیاں قبروں
میں سلائی جانے لگی

وہ معصوم تھی
روند دی گئی
پکارتے پکارتے
وہ مر ہی گئی

اس پر رحم نہ کیا گیا
اس کی بات
نظر انداز کر دی گئی

آج "ایزل”
مٹی کے نیچے ہے
آج "آیتِ نور”
خاموش ہے

اس کی فریاد
ادھوری رہ گئی

مگر ایک دن آئے گا
ضرور آئے گا
جب سوال ہو گا
"بتاؤ
کس گناہ کی پاداش میں
معصومیت روندھی گئی

بنت حوا بے مول ہو گئی
عمر کی قید اب کہاں رہی
اس آباد دنیا میں
وہ اکیلی خوفزدہ جینے لگی

وہ معصوم تھی
کچل دی گئی
مسل دی گئی
اور اس کی سسکی
سنی نہ گئی۔

وہ معصوم تھی
اس کی فریاد سنی نا گئی
وہ روند دی گئی
وہ معصوم کلی تھی
جو کھلنے سے پہلے
مسل دی گئی۔