درجہ حرارت میں اضافے کے باعث دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی شدید خطرے سے دوچار

انٹارکٹیکا کے قریب ایک دور افتادہ آتش فشانی جزیرے پر پینگوئنز کی دنیا کی سب سے بڑی کالونی میں گزشتہ 14 برس کے دوران غیرمعمولی کمی واقع ہوئی ہے جہاں سنہ 2011 کے مقابلے میں سال 2025 میں چِن اسٹریپ پینگوئنز کے آباد گھونسلوں کی تعداد 63 فیصد کم پائی گئی۔
برطانوی انٹارکٹک سروے کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور خوراک کی دستیابی میں تبدیلی نے چِن اسٹریپ پینگوئنز کی بقا کو متاثر کیا ہے۔
زَوودووسکی جزیرے پر کبھی دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی آباد تھی تاہم نئی تحقیق اور فضائی جائزوں کے مطابق اب یہ جزیرہ یہ اعزاز کھو چکا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ صورتحال برقرار رہی تو اس نسل کو باضابطہ طور پر خطرے سے دوچار قرار دیے جانے کا امکان بھی ہے۔
زَوودووسکی جزیرہ ساؤتھ سینڈوچ جزائر کا حصہ ہے، جو انٹارکٹیکا کے براعظم کے شمال میں واقع ایک انتہائی دور افتادہ جزائر کا مجموعہ ہے اور برطانیہ کے زیر انتظام علاقے میں شامل ہے۔
سنہ2011 میں برطانوی انٹارکٹک سروے نے اسے دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی قرار دیا تھا۔ اس وقت اندازہ تھا کہ جزیرے کی بنجر اور چٹانی زمین پر تقریباً 6 لاکھ چِن اسٹریپ پینگوئنز اور 90 ہزار میکرونی پینگوئنز گھونسلے بناتے تھے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس خطرناک کمی کی بنیادی وجہ خوراک کی فراہمی میں تبدیلی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری پانی کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔ تحقیق کی قیادت کرنے والے پروفیسر نارمن ریٹ کلف کے مطابق چِن اسٹریپ پینگوئنز محدود اور مخصوص خوراک پر انحصار کرتے ہیں جبکہ نسبتاً ٹھنڈے پانی کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ وہ ننھے سمندری جاندار جنہیں کرِل کہا جاتا ہے مزید جنوب کی طرف منتقل ہوگئے ہیں اور چِن اسٹریپ پینگوئنز کے لیے ان کا پیچھا کرنا آسان نہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی کا اعزاز اب زَوودووسکی جزیرے کے بجائے انٹارکٹیکا کے دوسری جانب بحیرہ راس میں واقع کیپ اڈیئر کو حاصل ہے جو اس جزیرے سے 5 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔




