جناب وزیراعظم:12ربیع الاول کےجش پراربوں روپےضائع :کیااس کاحساب نہیں ہوگا؟اخروی احتساب بیوروبھی ہے

0
30

اسلام آباد:وزیراعظم صاحب:12 ربیع الاول کے جش پرقوم کااربوں روپے ضائع کردیا:کیا اس کا حساب نہیں ہوگا؟ایک اخروی احتساب بیورو بھی ہے ؟ عوام الناس کا سوال ،تفصیلات کے مطابق کل 12 ربیع الاول کے دن کے موقع پروزیراعظم کی طرف سے پرجوش انداز سے اس دن کو منانے کی آڑمیں جس طرح‌ قوم کے اربوں روپے ضائع کیے گئے اس پرایک قابل فہم اورقابل توجہ بحث چل پڑی ہے

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اس ملک کے بڑے سنجیدہ لوگوں نے عمران‌خان سے سوال کیا ہے کہ جناب وزیراعظم صاحب آپ نے جو قوم کو حکم دیا ہے کہ اس دن کو بھرپورجزبوں اورمحبتوں سے منائیں ٹھیک ہے لیکن آپ سے ایک سوال ہے

 

 

اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت وزیراعظم سے پوچھا جارہا ہےکہ جناب جس طرح اس قوم کا اربوں‌ روپے اس دن کی خوشی منانے کی آڑ میں ضائع کیا گیا کیا یہ قوم ان حالات میں اس بات کی متحمل تھی

 

 

اسی حوالے سے ہارون الرشید کہتے ہیں کہ جناب آپ کےحکم پر سی ڈی اے اور آئی سی ٹی نے پاکستان کا سب سے بڑا کیک کاٹ کر محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ثبوت دیا ، وزیراعظم صاحب بس یہ دین ہے آپ کی نظر میں جہاں قوم کا پیسا ضائع کرکے ریاست مدینہ کا تصور دیا جارہا ہے ، کچھ تو خوف خدا کریں

وزیراعظم صاحب یہ تو بتائیں کہ کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خوشی منانے کا یہ طریقہ بتایا ہے، وزیراعظم صاحب ذرا یہ تو بتائیں کہ آپ مدینے کی ریاست کی بات کرتے ہیں کہ مدینے کی ریاست میں ساڑھے چودہ سوسال گزرگئے ایسے اس دن کو منایا جاتا ہے جہاں قوم کے اربوں روپے ضائع کیے جاتے ہوں‌

 

 

وزیراعظم سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ جناب آپ کے حکم پرجس طرح سرکاری خزانے کے منہ کھول دیئے گئے اورجس کا قوم کئی سالوں تک بوجھ برداشت کرے گی کیا یہ ہی بس محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا انداز ہے

اکثربڑے بڑے ناموں نے تو یہاں‌ تک وزیراعظم سے سوال پوچھا لیا کہ جناب اسلام توفضول خرچی اورایسے رسوم رواج کوختم کرنے کے لیے آیا لیکن آپ نے پھر سے اس کو رواج دے دیا کیا آپ کو یہ علم ہے یہ کام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت نہیں

کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جناب ٹھیک ہے کہ آپ پہلے وزیراعظم ہیں جو اس قدرعاشق رسول ہیں کہ اس گئے گزرے دور میں ایک بار پھرسرکاری سطح پرسیرت البنی پراس مہینے میں ساری سرگرمیوں کو منتج کرنے کا حکم دیا ہے اس سے پہلے کسی وزیراعظم کو یہ توفیق نہ ہوئی

بعض نے تو یہاں‌ تک کہہ دی اکہ جناب وزیراعظم صاحب عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں یہ بھی درس دیتا ہے کہ جو اللہ کے رسول نے کیا وہ دین ہے اور جو نہیں کیا وہ دین نہیں ہے پھر آپ جیسے ایک ذی شعور وزیراعظم کو شریعت کے اصولوں کے مطابق اس دن کو منانا چاہیے تھا

کسی نے یہ تک کہہ دیاکہ جناب آپ نے اس قوم کے اربوں روپے اس دن کے جشن منانے کی آڑ میں ضائع کردیئے ، آپ نے یہاں ایک قومی احتساب بیورو بناکر اپنے مخالفین کی فضول خرجیوں اورسرکاری خزانے سے لوٹ مارکے نام پران کوپابند سلاسل کیا ہے

 

 

جناب اس سے آگے ایک اور یوم احتساب ہے وہاں بھی ایک احتساب بیورو ہے جوہر انسان کی حرکات وسکنات کو مانیٹر کررہا ہے ، وہاں بھی آپ سے پوچھا جائے گا کہ جناب وزیراعظم صاحب ذرا یہ تو بتادیں کہ آپ نے جو اس دن کو جشن منانے کی آڑ میں اربوں روپے ضائع کیے ،آپ کو کس نے ایسا کرنے کا کہا تھا

کیا اللہ کے رسول کا یہ عمل تھا ، کیا یہ میرے رسول کے ساتھیوں یعنی صحابہ کرام کا یہ عمل تھا ، کیا قران وحدیث سے اس کی کوئی مثال ملتی ہے

 

 

یہاں تو قومی مجرموں کو بچانے کے لیے پیسے بھی کام کرجاتے ہیں ، بڑے بڑے عہدوں لالچ بھی نیب جج کواس بات پرمجبور کردیئے ہیں کہ وہ ایک نامی گرامی "پاپی”مجرم کومعصوم عن الخطا قراردے دے یا پھر دیگرعدالتوں کے ججز اپنے اوراپنی اولاد کے مستقبل کی خاطر مجرموں کو بے گناہ قرار دے کر مفادات حاصل کرلے لیکن وہ اخروی احتساب بیورو ایسا بیورو ہوگا کہ وہاں نہ تو کوئی سفارش کام آئے گی اورنہ کوئی جج یا جرنیل احتساب عدالتوں سے باعزت بری کروا کراپنی نوکری کو پکا کرسکے گا وہاں ایک ذات کی حکمرانی ہوگی جس کو نہ تو میڈیا بلیک میل کرسکے گا اور نہ ہی عہدوں اور مال واسباب کے لالچ ہوگا اس لیے ایسا کام کرنے سے پہلے یہ ضرورت کنفرم کرلیں کہ کیا جوعمل میں کررہاہوں اس پرمہرنبوت ہے یا نہیں

بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جس نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کو واش روم میں جانے اور بیٹھنے سے لیکر تخت وتاج سبھالنے اور امورمملکت چلانے کا ہرگُر سکھایا ہے ، اس ذات نے اس دن کے حوالے سے کیوں ایسے احکامات نہیں دیئے جن کوہم خواہ مخواہ اختیار کررہے ہیں ذرا غور ضرور کرنا

Leave a reply