افغانستان میں 2 پرائمری اسکولوں کی 80 بچیوں کو زہر دینے کا انکشاف

0
44

شمالی افغانستان میں 2 پرائمری اسکولوں کی تقریباً 80 افغان بچیوں کو اسکول میں زہر دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

باغی ٹی وی : افغان صوبے سر پول میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو زہر کا نشانہ بنانے کا یہ واقعہ لڑکیوں کی تعلیم کی سخت جانچ پڑتال کے بعد سامنے آیا ہے۔

تین سالہ بچے نے سانپ کو چبا کر اسکی جان لے لی

سر پول کے پولیس ترجمان دین محمد نظری نے کہا کہ ضلع سانچارک میں کچھ نامعلوم افراد لڑکیوں کےاسکول میں داخل ہوئے اور کلاسوں کو زہر آلود کر دیا، جب لڑکیاں کلاسوں میں آئیں تو وہ اس زہر کا شکار ہوگئیں لڑکیوں کو ہسپتال لے جایا گیا، وہ ”بہتر حالت میں“ ہیں لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ کوئی مادہ استعمال کیا گیا تھا یا اس واقعے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔

دوسری جانب تعلیمی حکام نے کہا کہ زہر دینے کا منصوبہ بنانے والے شخص کی ذاتی رنجش تھی، لیکن انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

صوبائی محکمہ تعلیم کے سربراہ محمد رحمانی نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کے دوران صوبہ سرپل کے ضلع سنگچارک میں تقریباً 80 طالبات کو زہر دیا گیا نسوان کبود آب اسکول میں 60 اور نسوان فیض آباد اسکول میں 17 طلباء کو زہر دیا گیا دونوں پرائمری اسکول ایک دوسرے کے قریب ہیں اور یکے بعد دیگرے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

بھارت میں ایک اور ٹرین حادثہ

طالبات کو زہر دئیے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے،افغانستان کی سابقہ غیر ملکی حمایت یافتہ حکومت کے دوران، لڑکیوں کے اسکولوں پر مشتبہ گیس حملوں سمیت زہر کے کئی حملے ہوئے تھے بلکہ پڑوسی ملک ایران میں نومبر سے لے کر اب تک لڑکیوں کو اسکولوں میں زہر دینے کے واقعات میں ایک اندازے کے مطابق 13,000 طالبات بیمار ہوچکی ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق اور آزادیوں پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کے بعد سے اس قسم کا پہلا حملہ ہوا ہے۔

ایک ہزار78 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے ہائپرلوپ چلانےکا سعودی منصوبہ

واضح رہے کہ طالبان انتظامیہ نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے زیادہ تر طالبات کو ہائی اسکول اور یونیورسٹی جانے سے روک دیا ہے، جس کی بین الاقوامی حکومتوں اور بہت سے افغانوں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے طالبان حکام نے لڑکیوں کے لیے پرائمری اسکول 12 سال کی عمر تک کھلے رکھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بعض شرائط کے تحت خواتین کی تعلیم کے حق میں ہیں۔

Leave a reply