fbpx

پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر 82 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر 82 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

ستارہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس حاصل کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر 82 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ پروفیسر ایوب صابر نے اپنی زندگی میں علامہ اقبال پر 20 سے زائد کتابیں لکھی ہیں، انہیں 2006 میں علامہ اقبال ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، ان کی نماز جنازہ کل سہ پہر تین بجے ادا کی جائے گی۔

ڈاکٹر محمد ایوب صابر 32 سال درس و تدریس سے وابستہ رہے، انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے صدر شعبہ اقبالیات کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے، انہوں نے کئی کتب تصنیف بھی کیں۔ بالخصوص تین جلدوں پر مشتمل “علامہ اقبال کی شخصیت اور فکر و فن پر اعتراضات: ایک مطالعہ” اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق ہے، جس میں انھوں نے علامہ اقبال پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے انتہائی مدلل جوابات دیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کا حکم دے دیا
پاکستان کی جی ڈی پی کو 2050 تک 18 سے 20 فیصد تنزلی کا خدشہ
ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں نہیں سنبھال سکتی. اسلام آباد ہائی کورٹ
ان کی علمی خدمات پر انہیں 2006 میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی اور 2020 میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ 2003 میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے انہیں قومی صدارتی اقبال ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔


سینئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ؛ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ ممتاز ماہر اقبالیات ڈاکٹر ایوب صابر انتقال فرما گئے ہیں وہ علامہ اقبال پر کئی کتابوں کے مصنف تھے انہوں نے ہمیشہ شاعر مشرق کے خلاف پراپیگنڈے کا جواب دیا انکی نماز جنازہ آج بعد از نماز جمعہ تین بجے آرمی قبرستان راولپنڈی میں ادا کی جائے گی.


جبکہ اس حوالے سے صحافی ملک رمضان اسراء نے پروفیسر ایوب صابر کی ایک ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ؛ وہ علامہ اقبال کے کام کے حوالے سے ایک ادارہ تصور کیئے جاتے تھے، اور انہیں اس کاوش پر ستارہ امتیاز وغیرہ سمیت مختلف ایوارڈز ملے ہیں.