سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا گیا،
بانی چئیرمین عمران خان کی جانب سے پیغام دیا گیا تھا جو خط میں لکھا ہے،آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط میں انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے لکھا گیا ہے، خط سیکرٹری انفارمیشن پی ٹی آئی رائوف حسن کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ نئے بیل آؤٹ پیکج سے پہلے آئی ایم ایف پاکستان میں سیاسی استحکام کو یقینی بنائے
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق خط ابھی آئی ایم ایف کو موصول نہیں ہوا،کچھ روز قبل آئی ایم ایف نے پاکستان میں انتخابات پر کوئی رائے دینے سے معذرت کی تھی،ترجمان آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نئی جمہوری حکومت کے ساتھ بات چیت کو تیار ہے،رائیٹرز کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے دو ذرائع نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو خط لکھنے کی تصدیق کی ہے،خط میں تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کو مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ، پی ٹی آئی نے خط میں آئی ایم ایف سے صاف شفاف انتخابات سے متعلق اپنی شرائط سے آگاہ کیا ، اور کہا کہ مینڈیٹ کے بغیر حکومت معاشی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتی.
23 فروری کو ایک کیس کی سماعت کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ہے، آج خط چلا گیا ہو گا، اگر ایسے حالات میں ملک کو قرضہ ملا تو قرضے کو واپس کون کرے گا، اس قرض سے غربت بڑھے گی،جب تک سرمایہ کاری نہ ہو قرض بڑھتا جائے گا،
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر
اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر
نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف
اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی
تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان
عمران نیازی سیاست کرنے کی بجائے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے،حمزہ شہباز
بانی پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف کو خط پر نائب صدر مسلم لیگ ن حمزہ شہباز شریف کا ردعمل سامنے آیا ہے,حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ عمران نیازی سیاست کرنے کے بجائے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کو خط کا مقصد معیشت اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ تحریک انصاف اپنے دور حکومت میں ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھا گئی تھی۔ عوام دشمن اقدام کے پیچھے طاقت کا کسی بھی قیمت پر حصول کی ہوس ہے۔عمران نیازی کی سیاست فتنہ انگیزی اور انتشار پھیلانے تک محدود ہے۔ تحریک انصاف اس سے قبل بھی آئی ایم ایف پروگرام کی راہ میں روڑے اٹکاتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مطالبہ نظر انداز کر دیا،پی ٹی آئی کا قرض معاہدے سے قبل الیکشن آڈٹ کا مطالبہ،ڈائریکٹر کمیونیکیشن آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے،جولی کوزیک نےپاکستانی سیاست پر تبصرے سے انکار کر دیا اور کہا کہ 11 جنوری کو آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے ریویو کی منظوری دی،