بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف رخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی ،

پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سےاسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ عدالتی سوال پر بعد میں جواب دونگا،اسپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا،درحقیقت اسپیکر نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے منظور ہی نہیں کیے اسپیکر نے استعفے منظور کرنے کا فیصلہ بھی خود نہیں کیا، لیکڈ آڈیو سامنے آ چکی ہے عدالت اسکا ٹرانسکرپٹ دیکھ لے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا انکا اپنا فیصلہ تھا؟ کیا قاسم سوری کا استعفے منظور کرنے کا فیصلہ انکا اپنا فیصلہ تھا؟ ہر ایک کو عوام سے مخلص ہونا چاہیے، یہ سیاسی عدم استحکام عوام کے مفاد میں نہیں ہےاگر کوئی پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتا تو کیا عدالت سیاسی عدم استحکام کا حصہ بن جائے؟ ہمارا ماضی بھی کوئی اتنا اچھا نہیں ہے،ملکی معیشت اس سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے خراب ہوئی ہے،ہمیں تاریخ سے سیکھنا چاہیے اور وہ دہرانا نہیں چاہیے، منتخب نمائندے پارلیمنٹ کا احترام نہیں کر رہے جو انکو کرنا چاہیے، یہ ارکان پارٹی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر کے بیٹھیں گے،اگر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا ہے تو پھر تو موقف میں تضاد ہے،علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ جانا نہ جانا پارٹی کا کام ہے، عدالت اس سے دور رہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آپکو پارلیمنٹ جانے کا نہیں کہہ رہی لیکن آپکے موقف میں تضاد ہے،یہ عدالت درخواست گزاروں اور انکی پارٹی کے کنڈکٹ کو دیکھ رہی ہے، اگر پارلیمنٹ میں نہیں جانا تو یہ ارکان بحالی کیوں چاہ رہے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ اگر پانچ دن بعد پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ارکان موجود نہیں ہونگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکو پانچ دن کا وقت دے دیتی ہے، پانچ دن میں ثابت کریں کہ آپ کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے استعفے کی منظوری کا طریقہ کار طے کر دیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان نے جینوئن استعفے دیئے تھے یا اپنے لیڈر کی خوشنودی کیلئے؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی نے استعفے دیئے کہ تمام 124 منظور کیے جائیں، اب 11 کو منتخب کر کے استعفے منظور کیے گئے، استعفے درست طور پر منظور نہیں ہوئے اس لیے پارٹی اب استعفے نہیں دینا چاہتی،پارٹی کی پالیسی ہے کہ ہم اب ایم این ایز برقرار ہیں، علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار بیان حلفی دینے کو تیار ہیں کہ وہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرینگے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی پارٹی کی لیکن یہ پالیسی نہیں ہے، تضاد آ جاتا ہے، آپ اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر واپسی چاہتے ہیں،کیا عدالت درخواست گزاروں کو پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرانے کیلئے درخواست منظور کرے؟ اسمبلی کا ممبر ہو کر اسمبلی سے باہر رہنا اس مینڈیٹ کی توہین ہے،علی ظفر صاحب آپ پہلی رکاوٹ ہی دور نہیں کر پا رہے، آپ یہ ثابت کریں کہ غلطی ہو گئی تھی واپس پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں،یہ بتا دیں کہ آپکو کسی نے استعفے دینے پر مجبور کیا تھا، پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا پارلیمنٹ اور عوام کے مفاد میں ہے، عوامی بہترین مفاد میں یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ ہو،عوامی مفاد یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے، یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے کا موقع دینے پر سراہتی ہے،اسپیکر نے پی ٹی آئی کو سیاسی افراتفری ختم کر کے واپس پارلیمنٹ جانے کا موقع دیا،کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں، اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہےپارلیمنٹ صرف ایک عمارت نہیں ہے، آج بھی کوئی سول سپرمیسی کی بات نہیں کر رہا ہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر دس بیان حلفی دیدیں کہ آپ اپنی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے، یہ بیان حلفی دیں تو عدالت آپکی درخواست منظور کر لے گی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارٹی کی پالیسی کو تو تسلیم کرتے ہیں،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو پارلیمنٹ کی تحلیل کو غیرآئینی قرار دیا تھا،یہ پارٹی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نہیں مان رہی،یہ پارٹی کہتی ہے کہ ہماری طرف سے یہ اسمبلی تحلیل ہو چکی ہم اسکو نہیں مانتے، جو وہ براہ راست نہیں کر سکتے وہ اس عدالت کے ذریعے کرانا چاہتے ہیں،یہ اگر الیکشن چاہتے ہیں تو پھر تو دو ہی طریقے ہیں، پہلا یہ کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا، پھر عدالتیں آپکو ریسکیو نہیں کرینگی،دوسرا طریقہ آئین کا احترام کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مسائل حل کرنا ہے، یہ بھی کہہ دیں کہ میں مانتا بھی کسی چیز کو نہیں اور الیکشن بھی ہو جائیں،
اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوتا تو پی ٹی آئی آج پارلیمنٹ میں ہوتی،یہ عدالت صرف آئین کے تحت چلے گی، کوئی پارٹی کہے کہ ہم آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتے لیکن ہمیں بحال کر دیں، یہ بہت مشکل کام ہے آپ اس میں سے نہیں نکل سکتے، یہ عدالت بہت واضح ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ سپریم ہیں،

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بیان حلفی پر مشاورت کیلئے ہمیں وقت دیدیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت درخواست کو لمبے عرصے کیلئے ملتوی کر دیتی ہے، جب پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کر لے تو متفرق درخواست دیدیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تب کوئی فائدہ نہیں تب تک تو الیکشن ہو جائیں گے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ درخواست صرف اس الیکشن کو روکنے کیلئے دائر کی گئی ہے؟ یہ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے والی کوئی درخواست منظور نہیں کریگی، 123 ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم استعفے دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مان رہے لیکن کہتے ہیں کہ انہیں بحال کر دیں، یہ موقف کا تضاد ہے، سماعت ملتوی کر دیتے ہیں،یہ عدالت آپکی درخواست پر نوٹس بھی جاری نہیں کریگی، اگر چاہتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کر دیتے ہیں،پہلے پٹیشنر مطمئن کریں کہ حقیقی معنوں میں کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں، یہ بھی کہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں،یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ میری مرضی کے مطابق چیزیں ہوئیں تو مانیں گے، یہ کورٹ اس معاملے پر فیصلہ کرے یا ملتوی کر دے؟ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فی الحال اس معاملے کو ملتوی کر دیں،عدالت نے سماعت ملتوی کر دی جسے رجسٹرار آفس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرے گا

قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پرعمل نہیں کیا گیا، یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی،کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟ درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں، حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا،یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے کیا یہ تمام ارکان اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرتو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے، اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی، ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ عدالت آئے یا نہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے، اس شرط پر استعفے دیئے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے، اسپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے،ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفے مشروط تھے،اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انکو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہیے، جب تک استعفے منظور نہیں ہوتے انکو پارلیمنٹ میں موجود ہونا چاہیے، اراکین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کریں یہی پارٹی کے موقف میں تضاد ہے، اسی لیے نیک نیتی ثابت کرنے کا کہا،اگر دیگر ارکان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے تو شاید یہ عدالت درخواست منظور کر سکتی، ایک طرف پارلیمنٹ میں بیٹھ نہیں رہے دوسری طرف نشستیں واپس چاہتے ہیں،اگر وہ پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں آئے تو درخواست منظور نہیں ہو گی،اس عدالت نے آج تک کبھی پارلیمنٹ یا اسپیکر کو ڈائریکشن نہیں دی، یہ پارلیمنٹ کیلئے احترام ہے جو 70 سال سے کسی نے نہیں دی، اپنے سارے سیاسی تنازعے پارلیمنٹ میں حل کریں، ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر استعفے واپس لے لیے جائیں تو پھر پی ٹی آئی اسمبلی واپسی کا سوچ سکتی ہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اسپیکر کے پاس جا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ ہم اسپیکر کے پاس تو نہیں جا سکتے، یہ عدالت نوٹیفکیشن معطل کرے پھر جا سکتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکی سیاسی ڈائیلاگ کیلئے سہولت کاری تو نہیں کریگی،عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟ سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں،پہلے اسمبلی جائیں اور پھر یہ درخواست لے آئیں عدالت درخواست منظور کر لے گی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم اسمبلی واپس نہیں جا سکتے انہوں نے ہمیں نکال دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال نہیں ہو گی، جائیں اور اپنی سیاسی لڑائی اس عدالت سے باہر لڑیں، جب استعفے دیدیے تو اسپیکر نے اپنی مرضی سے منظور کرنے ہیں،ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے، معیشت کا یہ حال اسی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے ہے،باتوں سے نہیں ہو گا اپنےعمل سے کر کے دکھائیں،اس عدالت نے اس پارلیمنٹ کو مسلسل احترام کیا ہے، جائیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ آپ پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں، ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو مانتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کہے کہ عدالت کو مانتا ہوں اور عدالت کو جو مرضے آئے کہتا رہے،سیاسی غیریقینی ملکی مفاد میں نہیں،یہ عدالت درخواست منظور کیوں کرے؟جب تک پارلیمنٹ کے احترام کا اظہار نہیں کرینگے درخواست منظور نہیں ہو سکتی،پارلیمنٹ مانتے بھی نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھیج دیں،سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں واپس جا کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرے، سیاسی عدم استحکام سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی تو پی ٹی آئی کو موقع دے رہے ہیں کہ آئیں اور عوام کی خدمت کریں، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ مجھے ایک گھنٹہ دیں میں مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرتا ہوں،

پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

Shares: