پنجاب میں ڈینگی کے مزید 73 کیسز رپورٹ

0
39
پنجاب-میں-ڈینگی-کے-مزید-73-کیسز-رپورٹ #Baaghi

گزشتہ 24گھنٹوں میں پنجاب بھر میں مزید73 ڈینگی کے مریض رپورٹ ہوئے جن میں سے 60مریض صرف شہر لاہور سے رپورٹ ہوئے ہیں ۔

باغی ٹی وی : پنجاب میں ڈینگی کے مریضوں کی صورتحال خطرناک ہو رہی ہے ، پنجاب میں رواں سال اب تک 992ڈینگی مریض رپورٹ ہو چکے ہیں دارالحکومت لاہور میں ڈینگی کے 824کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس اور ڈینگی کے خلاف واضح کارروائی کی ہدایات کے باوجود پنجاب اور خصوصاً لاہور سے ڈینگی کیسز سامنے آرہے ہیں دوسری جانب ادھر خیبرپختونخوا میں بھی ڈینگی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ کورونا کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے تاہم پنجاب میں ڈینگی نے سر اٹھا لیا ہے اور اب تک 700 سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں، لاہور میں سب سے زیادہ ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے-

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ڈینگی کے 623 مریض سامنے آ چکے ہیں، ڈینگی سے بچاؤ کے پیشگی اقدامات نہ کرتے تو مرض 10 گنا مزید بڑھ چکا ہوتا۔

ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر:

پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

Leave a reply