پنجاب پولیس کی میڈیا پالیسی مسترد، لاہور سمیت ملک بھر میں احتجاج ہو گا، ارشد انصاری

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر ذوالفقار علی مہتو، نائب صدر ناصرہ عتیق، سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری حافظ فیض احمد، خزانچی سالک نواز اور اراکین گورننگ باڈی نے کہا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام پریس کلبوں نے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز کی طرف سے جاری کی گئی نئی میڈیا پالیسی کو آئین پاکستان سے متصادم قرار دیکر مسترد کردیا ہے اور اس پالیسی کے خلاف صوبے میں ضلعی اور تحصیل کی سطح سے دارالحکومت لاہور تک مشترکہ احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اگلے مرحلے میں پنجاب اسمبلی اور محکمہ پولیس کی تقریبات کا بائیکاٹ بھی ہوگا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق پریس کلب میں صدر ارشد نصاری کی سربراہی میں سینئر صحافیوں کا اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ آئی جی پنجاب کی نئی میڈیا پالیسی میں رپورٹرز،کیمرہ مین کی تھانوں میں داخلے پر پابندی اور ٹی وی چینلز کی پیشگی اجازت کے بغیر ڈی ایس این جیز گاڑیوں کے ذریعے لائیو کوریج روکنے سمیت متعدد پابندیاں لگانے کا حکم دیا گیا ہے،جو آئین پاکستان کے بنیادی حقوق کے تحت آزادی اظہار رائے سے متلعق آرٹیکل 19 اور رائٹ ٹو انفارمیشن سے متعلق آرٹیکل 19-اے کی کھلی اور شدید خلاف ورزی ہے۔

لاہور پریس کلب کے صدر نے بتایا کہ فیصل آباد،گوجرانوالہ، ملتان،راولپنڈی،سرگودھا،ڈیرہ غازی خان،اور بہاولپور ،ساہیوال سمیت متعدد شہروں کے پریس کلبوں کے عہدیداروں نے رابطے کرکے پنجاب پولیس کی میڈیا پالیسی کو بد ترین آمریت کو دور میں لگنے والی پابندیوں سے بھی بھیانک قرار دیا ہے اور اس کےخلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔لاہور پریس کلب کے عہدیدارں کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے محکمہ اطلاعات کی طرف سے صحافیوں کو جو ایکریڈیشن کارڈز جاری کئے جاتے ہیں ان میں تمام صوبائی سرکاری اداروں کو میڈیا کے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی میں سہولیات فراہم کرنے کی تحریری ہدائت پرنٹ کی گئی ہے لیکن پنجاب کابینہ کے اس فیصلے کے برعکس انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے تاریخ میں پہلی بار اپنے محکمے کی علیحدہ پایسی جاری کردی ہے اگر یہ پریکٹس رہی تو پنجاب کے 34 سے زائد محکمے اپنی،اپنی میڈیا پالیسی جاری کرکے آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تھانوں میں عوام پر ہونے والے تشدد،کرپشن اور ناانصافیوں کو چھپانے کے لئے میڈیا کا وہاں داخلہ بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے حالانکہ تھانے عوام کے ادارے ہیں جن کے گیٹ ہر مظلوم کے لئے کھلے ہونے کی گارنٹی انصاف تک رسائی سے متلعق آرٹیکل میں بھی دی گئی ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ احتجاجی تحریک شروع کرنے سے پہلے سینئر صحافیوں کا وفد انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز سے ملاقات کرکے انھیں یہ پالیسی واپس لینے کا مطالبہ کرے گا،اس مقصد کے لئے سینئر کرائم رپورٹر احمد فراز ملک کی سربراہی میں 9 رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ارکان میں میاں روو ¿ف،بابر خان،ریاض اعوان،مجاہد شیخ،اشرف جاوید،آصف چودھری،امداد بھٹی،عمر یعقوب اور رکن گورننگ باڈی لاہور پریس کلب حسنین چودھری شامل ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.