پراسرار جاپانی ’جل پری دیوی‘ کی ممی کیا ہے؟

0
28

ٹوکیو: جاپانی سائنسدان آج کل ایک چھوٹی سی ممی پر تحقیق کررہے ہیں جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ’جل پری دیوی‘ کی ممی ہے جس کی پوجا کرنے والوں کو صحت، تندرستی اور لمبی عمر حاصل ہوتی ہے۔

باغی ٹی وی: اس ممی کا دھڑ مچھلی کا اور سر انسان جیسا ہے جبکہ اس کی مجموعی لمبائی صرف 30 سینٹی میٹر (ایک فٹ سے بھی کم) ہے یہ پچھلے 40 سال سے آساکوچی پریفیکچر کے اینجوئن مندر میں بحفاظت رکھی ہے۔

مشہور جاپانی اخبار ’آساہی شمبون‘ کے مطابق، یہ پراسرار ممی مختلف لوگوں سے ہوتی ہوئی، نامعلوم ذرائع سے اس مندر تک پہنچی ہے جو لکڑی کے ایک ڈبے میں بند تھی۔

ڈبے میں اس کے ساتھ ایک تحریر بھی موجود تھی جس میں لکھا تھا کہ یہ جل پری ممی مبینہ طور پر 1736 سے 1741 کے دوران ایک مچھیرے کے جال میں پھنس گئی تھی جو صوبہ توسہ (موجودہ کوچی پریفیکچر) کے سمندر میں مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔

جاپان کے بعض علاقوں میں آج بھی عجیب الخلقت دیوی دیوتاؤں کی پوجا ہوتی ہے جن میں مچھلی کے دھڑ اور انسان نما سر والی ’جل پریاں‘ بھی شامل ہیں۔

کوراشیکی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آرٹس کے ماہرین نے اس مندر کے پجاری سے طویل مذاکرات کے بعد، بالآخر فروری میں یہ پراسرار ممی وہاں سے نکلوائی اور سی ٹی اسکین کیا تاکہ اس کی اندرونی تفصیلات معلوم ہوسکیں۔

اگرچہ اب تک اس تحقیق کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن ابتدائی اندازوں سے معلوم ہوا ہے کہ جل پری کی یہ ممی کسی مچھلی کے دھڑ کو غالباً ایک نوزائیدہ بچے یا بندر کے بالائی جسمانی حصے کے ساتھ ملا کر بنائی گئی تھی۔

جل پری دیوی کے بارے میں جاپان کی قدیم دیومالائی کہانیوں میں ایک واقعہ یہ بھی لکھا ہے کہ ’جل پری دیوی‘ کو کھانے والی ایک عورت اگلے 800 سال تک زندہ رہی۔

اینجوئن مندر کے بڑے پجاری کا کہنا ہے کہ ویسے تو لوگوں کی بڑی تعداد صحت اور لمبی عمر کےلیے جل پری دیوی کی ممی کا دیدار کرنے وہاں آتی ہے لیکن کورونا وبا شروع ہونے کے بعد یہاں آنے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا اور لاک ڈاؤن کے باوجود، ہزاروں لوگ اس مندر میں آئے اور وبا کے خاتمے کےلیے جل پری دیوی سے منتیں مانگیں۔

Leave a reply