fbpx

ولادیمیر پیوٹن یوکرین میں نسل کشی کے ذمہ دار ہیں،امریکی صدر

امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین پر روسی حملوں کو نسل کشی قرار دے دیا۔

باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو آمر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین میں نسل کشی کے ذمہ دار ہیں یہ بات بالکل واضح ہوتی جارہی ہے کہ پیوٹن یوکرینی شہری ہونے کے نشانات بھی مٹانا چاہتے ہیں روسی فوجیوں نے یوکرین میں اب تک جو کچھ کیا ہے اس سے متعلق مزید بھیانک شواہد سامنے آ رہے ہیں۔

سفارت کاری کے بھیس میں جاسوسی کا الزام ،فرانس نے 6 مشتبہ روسیوں کو ملک سے بے دخل کر دیا

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح سے واضح تر ہو چکی ہے کہ روسی صدرولادیمیرپیوٹن یوکرین کے عوام کوصفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کررہے ہیں اوراس کے ثبوت بھی موجود ہیں چلیں یہ قانون دانوں پر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس کے بارے میں فیصلہ کریں ، لیکن مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔

جبکہ پولینڈ، لوتھینیا، لیٹویا اور اسٹونیا کے صدور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینکسی سے اظہار یکجہتی کے لیے کیف پہنچ رہے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس اپنا آپریشن متوازن انداز میں جاری رکھے گا اور اپنے اہداف حاصل کرے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ روس کے یوکرین پرحملے کے باعث ڈیڑھ ماہ میں یوکرین کی آبادی کے دو تہائی بچے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

روسی توانائی اور دیگر اشیا کی درآمدات میں اضافہ بھارت کے مفاد میں نہیں،امریکا

یوکرین کا دورہ کرنے والے یونیسیف کے ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر مانویل فونٹین کا کہنا ہے کہ یوکرین کے 75 لاکھ بچوں میں سے 48 لاکھ کا جنگ سے متاثر ہونا اور اتنی قلیل مدت میں گھروں کو چھوڑنا ناقابل یقین ہے اپنی 31 برس کی پیشہ ورانہ زندگی میں اس سے قبل میں نے کہیں بھی ایسا ہوتا نہیں دیکھا 48 لاکھ بے گھر بچوں میں سے 28 لاکھ یوکرین کے اندر بے گھر ہوئے جبکہ 20 لاکھ کے لگ بھگ دوسرے ملکوں میں گئے ہیں۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کی مصدقہ ہلاکتوں کی تعداد 142 ہے لیکن خدشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

یوکرینی صدر نے جنوبی کوریا سے طیارہ شکن میزائل سسٹم اور جنگی ساز و سامان مانگ لیا

مانویل فونٹین نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ جنگ نے ان بچوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی ہر چیز چھوڑ کر جان بچائیں۔ گھر، سکول اور خاندان کے افراد سمیت ان کو سب کچھ چھوڑنا پڑا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر سرگئی کیسلیٹسیا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین سے ایک لاکھ 21 ہزار سے زائد بچوں کو تحویل میں لیا ہے ان بچوں کو اب ایک قانون سازی کے ذریعے یتیم ظاہر کر کے روسی شہریوں کے حوالے کیا جا رہا ہے حالانکہ ان میں سے بہت سے بچوں کے والدین اور رشتہ دار موجود ہیں۔

یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے، چیچن سربراہ