قانون سے کوئی بالا تر نہیں ، تحریر: میاں محبوب بھرگڑ

قانون سے کوئی بالا تر نہیں ، تحریر: میاں محبوب بھرگڑ

باغی ٹی وی :بات یہ نہیں کہ "کرنل کی بیوی” نے بدتمیزی کی، بات یہ ہے کہ اس کی بدتمیزی کے فوری بعد اس کیخلاف ایکشن ہوا،

بات یہ نہیں کہ جمہورے ، عدلیہ کے چمچے وکیل اور سول گورنمنٹ کے انڈر کام کرنے والی پولیس کی بدمعاشیاں ہر روز ہوتی ہیں،
بات یہ ہے کہ ان سب کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا،

بات یہ نہیں کہ لوگوں نے کرنل کی بیوی کے رویے کی مخالفت کی،
بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے کی جنہوں نے نوازشریف کی چوری پر اس کا ساتھ دیا، جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن (جس میں حاملہ خواتین کے منہ میں گولیاں ماری) پر خاموشی اختیار کی،

فوج میں اگر کوئی غداری کرتا ہے تو اس کا علاج برگیڈیئر رضوان کی طرح پھانسی پر لگا کر کیا جاتا ہے،

جمہوریت میں اگر کوئی غداری کرتا ہے تو پارلیمنٹ اس کا کوئی علاج نہیں کرتی،
وہ زرداری کا حسین حقانی کے ذریعے میموگیٹ سکینڈل ہو یا نوازشریف کا سجن جندال سکینڈل ، یا پھر نوازشریف کا چار سال وزیرخارجہ نہ لگانا ہو یا نریندر مودی کو راء چیف سمیت بغیر ویزے کے اپنے گھر بلانا ہو،

یہ بات جمہوروں کو اچھی طرح سمجھنی چاہیئے کہ اگر فوج میں کوئی مس ایڈونچر ہوتا ہے تو اسکو اسی وقت سزا ملتی ہے، لیکن جمہوروں کو ہر جرم کی سزا نہیں بلکہ سہولتکاری میسر ہوتی ہے،

اسی طرح عدلیہ کو دیکھ لیں، جج ارشد ملک ایک سزا یافتہ مجرم نوازشریف کو اسکے گھر میں جاکر ملتا ہے، اور عدلیہ آج بھی اس جج کا کچھ نہیں بگاڑ سکی،

فرشتہ کوئی بھی نہیں،
فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت پورے پاکستان میں اگر کوئی ڈسپلنڈ ادارہ موجود ہے تو وہ پاک فوج ہے، جس میں چوروں، نااہلوں اور غداروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جاتی، باقی سب اداروں میں لوگ اپنی نااہلیاں، چوریاں اور غداریاں چھپانے کیلیئے سب ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر دیتے ہیں،

یہ ہی حقیقت ہے اور یہ ہی اس ملک کی سب سے بڑی کمزوری۔

نوٹ:- کرنل کی بیوی کیخلاف جو بھی ایکشن ہوا بہت اچھا ہوا،
ایسی دوٹکے کی عورت کیخلاف ایکشن ہونا ہی چاہیئے تھا تاکہ آئندہ کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں لینے سے پہلے ہزار بار سوچے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.